عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

ٹوٹے ہوئے وعدوں کی سیاہ رات Toote Hue Waadon Ki Siyah Raat

بعض کرسیاں بیٹھنے کے لیے نہیں، جلانے کے لیے ہوتی ہیں۔

مرکزی خیال:
جس کرسی پر بت بیٹھ جائے اسے جلانا ہی عبادت سے نکلنا ہے۔


رات گہری تھی۔ گلیاں خاموش تھیں۔ کبھی کبھار بلی کی آواز۔
سارہ کھڑکی سے باہر تھی۔ سامنے بالکونی میں چھ مہینے روشنی تھی۔ آج اندھیرا تھا۔ گہرا۔
مگ اٹھایا۔ چائے ٹھنڈی تھی۔ کڑوی۔ پتی کی تہ جیسے پرانی یاد کا میلہ۔
موبائل بجھا ہوا تھا۔ آن کیا۔ آف کیا۔ نام تھا "فراز"۔ آخری میسج: "کل بات کریں گے۔"  
کل نہیں آیا۔
پردے کھینچے۔ شیشے میں عکس دیکھا۔ اکتیس سال۔ آنکھیں پچاس کی۔ نہ میک اپ، نہ سنگھار۔ پرانا سویٹ شرٹ۔ فراز کے کہنے پر خریدی تھی۔ بوہو لوگوں والی۔  
آج وہ شرٹ کفن لگ رہی تھی۔
بازار میں ملے تھے۔ چائے کی دکان پر۔ ایک کپ۔ انگلیاں ٹکراتی رہیں۔ دن عام تھا۔ بارش نہیں تھی۔ دو اکیلے بیٹھے تھے۔
"تم بہت اکیلی لگتی ہو۔"  
پگھل گئی تھی۔  
پگھلنا آسان تھا۔ جیسے گھی کو گرم کرنا۔
کمرے میں کرسی تھی۔ نہیں ہٹائی تھی۔ وال پیپر کا ٹکڑا پائپ کے پیچھے۔ لکھا تھا: "بہت اچھا بناتی ہو پاؤ بھاجی۔" آخری "ہ" پر دل بنا تھا۔  
دل دھندلا چکا تھا۔ کاغذ پر دھبہ جیسا۔
بتی بجھائی۔ اندھیرے میں کرسی دیکھی۔ خالی تھی۔ کبھی مسکراہٹوں سے بھری تھی۔ اب سایہ تھا۔ ہلکا۔ آنکھ بھیگتی تو بہہ جاتا۔
ہاتھ بڑھایا۔ خلا کو چھوا۔
فراز کے بعد کچھ ٹھیک نہ ہوا۔ نہ کھانا، نہ کتاب، نہ دوست۔ ڈرائنگ چھوڑ دی۔ خاکے بکھرے تھے۔ سب میں ایک چہرہ۔ فراز۔ ہر زاویے سے۔
پینٹنگ ادھوری تھی۔ لکھا تھا: "نام نہیں رکھا۔" کہا تھا "جانے کے بعد پوری کرنا۔"  
نہیں کی۔ اب شاید کبھی نہ کرے۔
اذان ہوئی۔  
نماز نہیں تھی۔ فراز کے دن سے فجر پر جاگتی تھی۔ اسی کرسی پر بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے عبادت ہو۔ بت ہو۔
موبائل بجا۔ "بس کرو سارہ، واپس نہیں آنا۔"  
بند کیا۔  
کھولا۔ دوسرے نمبر سے تصویر آئی۔ عورت۔ خوبصورت۔ گلاب۔ ساتھ فراز۔ اسٹوڈیو کی روشنی۔
کیپشن: "ہم دونوں۔ 23 دسمبر کو شادی۔ فلاں ہوٹل۔"
زوم کیا۔ شرٹ نیلی تھی۔ کالا پتھر والی انگوٹھی۔ وہی۔ کراچی سے منگوائی تھی۔ "یہ یاد رکھے گی تمہیں۔"  
اب رکھے گی۔ مگر کسی اور کو۔
تین بجے دروازہ کھلا۔ بیگ تیار کیا۔ کپڑے۔ پینسل۔ کاغذ۔ کرسی۔ بڑی تھی۔ اکیلے اٹھا لی۔ حوصلہ تھا۔
ویران جگہ رکی۔ درخت کے نیچے۔ کرسی چھاؤں میں۔ خود دھوپ میں بیٹھ گئی۔  
چھوا۔ "اب تم یہیں رہو۔"  
اٹھی۔ مڑ کر نہیں دیکھا۔
راہ پر چلی۔ چھایا آگے تھی۔ کبھی لمبی، کبھی چھوٹی۔ چھایا تھی۔ چہرہ نہیں۔
شام کو بچے جھولے جھول رہے تھے۔ "کس نے رکھی؟" "شاید کوئی دیوانہ۔"  
رات کو اکیلی تھی۔ پھر آگ لگی۔ شعلے اونچے۔ روشنی دور تک۔ اشارہ جیسا۔
کھڑکی سے دیکھی۔ مسکرائی۔  
آئینے سے کہا: "تم بچ گئی۔"
--------------------

*مشکل الفاظ کے معنی*  
بوہو: ڈھیلا، آزادانہ طرز کا لباس  
کفن: مردے کا کپڑا  
دھندلا: صاف نہ رہنا، مٹ جانا  
شعلہ: آگ کی زبان

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: