عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سوکھا درخت Sukha Darakht

بعض گھر اینٹوں سے نہیں، چھپائے ہوئے نوالوں سے بنتے ہیں۔


مرکزی خیال:
جو درخت صرف سایہ دیتا ہے، پانی نہیں مانگتا، وہ ایک دن سوکھ جاتا ہے۔ گھر تب ٹوٹتا ہے جب نوالے حساب میں بدل جائیں۔

باپ نے چھت سے اترتے ہوئے دیکھا۔ اس کا سایہ دیوار پر ٹوٹ رہا تھا۔
نیچے بیٹا موبائل میں تھا۔ باتھ روم کی ٹائل دو ہفتے سے کونے میں پڑی تھیں۔  
"سنو تو..."  
"ابھی۔"  
یہ "ابھی" چھ ماہ سے چل رہا تھا۔
بیوی باورچی خانے میں چپ تھی۔ یاد تھا جب بیٹا بخار میں تپتا تھا۔ رات بھر پانی پلایا تھا۔ اب وہی کہتا ہے، "اماں، مداخلت مت کرو۔"  
ماں نے کبھی مداخلت نہ کی۔ بس پوچھتی تھی، "کھانا کھا لیا بیٹا؟"
بیٹی نے شکایت نہ کی۔ سب نے کہا لڑکی پردیس جائے گی۔ وہ روئی، چپ رہی۔ زیور بیچے۔ بھائی کی نوکری لگی۔ اپنے خوابوں کی قبر خود کھودی۔
آج آئی تھی۔ قدم رکھتے ہی بھابھی بولی، "باجی، آپ مہمان ہیں۔"  
مہمان۔ اسی گھر میں جہاں دیوار پر اپنی لمبائی ناپی تھی۔
بھائی نے کاغذ بڑھایا۔ "پلاٹ بیچ رہا ہوں، دستخط کرو۔"  
ماں بولی، "وہ باپ کی کمائی ہے۔"  
"تو کیا میں بیٹا نہیں؟"
باپ خاموش تھا۔ آنکھوں میں باتیں تھیں جو زبان پر نہ آئیں۔
بیٹی بولی، "حصے کے زیور دے دیے تھے۔"  
"تم نے دیے۔ میں نے مانگے تھوڑی تھے؟"
شام ڈھلی۔ باپ سیڑھیاں چڑھا۔ سانس پھولی۔ دیوار ٹھنڈی تھی۔  
نیچے آوازیں بڑھ رہی تھیں۔
"میں نے کب کہا زیور دو؟" بیٹا چلا رہا تھا۔ "میں نے کہا بیوی کی عزت ہو۔"  
"تمہاری بیوی کے لیے جوانی کا کڑا اتار دیا تھا۔" بیٹی کی آواز کانپی۔  
ماں آئی، "بس کرو بیٹا، لوگ سن لیں گے۔"  
"سن لیں۔ میں چھپا کر نہیں کر رہا۔"
باپ نے چھت پر کرسی دیکھی۔ بیٹھ گیا۔ شہر کی روشنیوں میں ہر گھر کچھ ٹوٹ رہا تھا۔  
باپ کا چہرہ یاد آیا۔ وہ بھی ایسے بیٹھتا تھا۔ خاموش۔  
سمجھا تھا وہ اسے نہیں سمجھے گا۔ وہ بھی ایسا ہی ہو گیا۔
شور تھما۔ دروازے کی آواز آئی۔ کوئی گیا۔  
ماں اوپر آئی۔ کچھ نہ کہا۔ پاس کھڑی ہو گئی۔  
"چلو نیچے، ٹھنڈ ہے۔"  
"بیٹی گئی؟"  
"ہاں۔"  
"روتی ہوئی؟"  
ماں خاموش رہی۔
نیچے اترتے ہاتھ دیوار پر پھسل گیا۔  
سوچا، یہ گھر بنایا تھا۔ بیٹی کے زیوروں سے۔ راتوں کی نیند سے۔  
اب یہ گھر کسی کا نہ تھا۔
کھانے پر پہلا لقمہ لیا۔ پانی مانگا۔ گلے سے نہ اترا۔  
بیٹا کمرے میں تھا۔ بیوی بولی، "والد صاحب بات نہیں کرتے۔"  
موبائل پر نظر جمائے کہا، "چھوڑو۔ بوڑھے ہو گئے ہیں۔"
ماں نے سنا۔ واپس آئی۔ آنکھیں نم تھیں۔  
باپ نے ہاتھ بڑھایا۔ ماں کے ہاتھ پر رکھ دیا۔  
دونوں خاموش تھے۔
اس خاموشی میں گھر تھا۔ دیواریں تھیں۔ بیٹے کی بے رخی تھی۔ بیٹی کا جانا تھا۔ ماں کا دکھ تھا۔  
اور کچھ نہ تھا۔
-----------------------------

مشکل الفاظ کے معنی
مداخلت: بیچ میں بولنا، دخل دینا  
نوالہ: لقمہ، کھانے کا حصہ  
بے رخی: منہ پھیر لینا، سرد مہری  
قبر کھودنا: اپنے خواب خود ختم کرنا

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: