عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سفید بالوں کا جنگل Sufaid Baalon Ka Jungle

بعض جنگل سر پر اگتے ہیں، دل میں نہیں۔ 

مرکزی خیال:
جو خواہش دبا دی جائے وہ سفید بالوں کا جنگل بن جاتی ہے۔ سرخ شرٹ بدن پر نہیں، خاموشی پر آتی ہے۔

 



چھت پر پرانی چارپائی تھی۔ ایک پائے ٹوٹا تھا۔ عرفان صدیقی سہارا دے کر بیٹھتا تھا۔ ہر شام وہیں۔
بیگم کہتیں، "اس عمر میں چھت کا کیا شوق؟"  
کچھ نہ کہتا۔
بیٹی آئی۔ شوہر ساتھ تھا۔ ہاتھ دیکھ کر پوچھا، "ابا جان، ہاتھ کیوں کانپتے ہیں؟"  
بیٹی بولی، "پتا نہیں۔ بتاتے نہیں۔"  
ہنسا، "پرندوں کا چوگا رکھتا ہوں دیوار پر۔"  
سب ہنس دیے۔  
جھوٹ تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا۔ سفید بال سنوارتا۔  
بیگم پوچھتیں، "اب کس کے لیے؟"  
کنگھی رکھ دیتا۔
دوسرے دن بازار میں سرخ شرٹ تھی۔ ہاتھ بڑھایا۔ دکاندار بولا، "بڑے صاحب، جوانوں والا کٹ ہے۔"  
ہاتھ کھنچ گیا۔  
گھر آ کر بولا، "وہ شرٹ… سرخ تھی۔"  
بیگم نے سر نہ اٹھایا، "سرخ تمہیں اچھی نہیں لگتی۔"  
چاول گنے۔ آہستہ بولا، "شاید اب لگے۔"  
نہ دیکھا، نہ سنا۔
تین دن بعد شرٹ لے آیا۔ چھت پر پہنی۔ آئینہ نہ تھا۔ چاند تھا۔  
پوچھا، "کیسی لگ رہی ہے؟"  
چاند خاموش رہا۔ چارپائی پر لیٹ گیا۔ شرٹ اوپر تھی۔ ٹھنڈ تھی۔ کوٹ نہ پہنا۔
صبح بیگم نے دھوبی کو دے دی۔  
"یہ کون لایا؟ ہمارے گھر رنگ نہیں آتا۔"  
"دھوبی سے کہو، واپس لا دے۔"  
"کیا کرو گے ایسی شرٹ کا؟"  
چپ رہا۔
بارہ دن بعد بخار چڑھا۔ ڈاکٹر بولا، "بلڈ پریشر بڑھ گیا ہے۔ غصہ نہ کریں۔"  
بیگم بولیں، "غصہ نہیں کرتے۔"  
ڈاکٹر بولا، "تب وجہ اور ہوگی۔"  
بیوی کا ہاتھ تھاما۔ سوکھا مگر گرم۔  
"سنو… وہ شرٹ…"  
ہاتھ چھڑا لیا، "بیماری میں بھی اسی پر؟"  
آنکھیں موند لیں۔ سرہانے سفید بال تھے۔ ہوا چلی تو سرسرائے۔
تین دن بعد چھت نہ گیا۔ چارپائی اکیلی رہ گئی۔ ٹوٹا پائے زمین کو چھوتا رہا۔  
بیگم نے کہلوا دیا، "شرٹ رکھ دو۔ اب کسی کام کی نہیں۔"  
رات نیند نہ آئی۔ چھت پر گئی۔ بیٹھ گئی۔ گلی میں بوڑھا اخبار پھینک رہا تھا۔ پیٹھ جھکی تھی۔ سیٹی بج رہی تھی۔  
سوچا، "عرفان یہی دیکھتا تھا؟"  
الماری کھولی۔ سرخ شرٹ پڑی تھی۔ چھوا۔ کپڑا نرم تھا۔ نیا جیسا۔
صبح عرفان کی آنکھ کھلی۔ بیگم کمرے میں نہ تھیں۔  
چھت پر تھیں۔ سرخ شرٹ پہنے۔ بالوں میں کنگھی کیے۔  
دبے پاؤں گیا۔ چاند کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ دن تھا۔ چاند نہ تھا۔ مگر دیکھ رہی تھیں۔  
پیچھے ہٹا۔ دروازہ بند کیا۔  
پچیس سال بعد رویا۔ تکیہ بھیگ گیا۔
------------

مشکل الفاظ کے معنی
چوگا: پرندوں کے لیے دانہ  
سراہٹ: ہلکی پتے جیسی آواز  
سرہانہ: تکیہ رکھنے کی جگہ  
دبے پاؤں: آہستہ قدم

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: