عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

قربان گاہ Qurban Gah

بعض چھریاں گوشت پر نہیں، نفس پر چلتی ہیں۔  



مرکزی خیال
قربانی گوشت نہیں ہے۔ اندر کے تکبر کا ذبح ہے۔ جسے تم کاٹتے ہو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔


مسجد کے صحن میں تین بھیڑیں بندھی تھیں۔ ایک موٹی۔ ایک دبلی۔ ایک کی آنکھ نم تھی۔
بچے دیوار پر تھے۔
ام صاحب نے چھری سنبھالی۔ چمکی۔  
"بسم اللہ..."  
پہلی گری۔ بچوں نے تالی بجائی۔
دوسری نے آنکھیں بند کیں۔  
"بسم اللہ..."  
خون بہا۔ مٹی میں گڈے بن گئے۔
تیسری نے رسی توڑی۔ بھاگی۔ لڑکے نے پاؤں رکھا۔  
"بسم اللہ..."
---
رات بارہ بجے۔
امیر خان نے فارم ہاؤس میں چھری رکھی۔ باورچی نے گوشت نکالا۔ مہمان تھے۔
"بھوک لگی ہے؟"  
"کہانی سناؤں؟"  
امیر خان نے مونچھ تانی۔ "قربانی کی بات نہ کرو۔ آج سو کلو کاٹا۔"
مہمان خاموش رہا۔
"اس کی آنکھوں میں پانی تھا؟"  
"نہیں۔"  
"تو کیا تھا؟"  
"وہ غریب تھی۔ رکھوالے کو پیسے نہیں دے سکی۔ بچہ گھاس لایا تھا۔ وہ اسے دیکھ رہی تھی۔"
ہنسے۔ "جانور کو بچوں سے پیار؟"  
"جانور کو نہیں۔ ماں کو۔"
---
تین بجے۔
اٹھا۔ پانی پینے لگا۔ ہاتھ کانپے۔ چھت پر گیا۔
نیچے بچہ سویا تھا۔
بھیڑ کا چہرہ اس کے چہرے پر تھا۔ پانی کا عکس جیسے۔
بھاگا۔ واش روم گیا۔ آئینہ دیکھا۔ گردن پر کھرچن تھی۔ آج خود نہیں کاٹا تھا۔
یہ کہاں سے آیا؟
صبح نوکر نے کہا۔ "صاحب، رات بے ہوش تھے۔ بڑبڑا رہے تھے۔ 'میرا بچہ...'"  
"اور؟"  
"'قربانی نامکمل ہے۔'"
---------------------

مشکل الفاظ کے معنی
کھرچن: خراش، نشان  
نفس: انا، خودی  
عکس: سایہ، پرچھائی  
استحقاق: حق جتانا

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: