عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

قیمت Qimat

بعض سلائس پیٹ میں نہیں، ضمیر میں اترتی ہیں۔  


مرکزی خیال :
جو کھا لیا جائے وہ ختم ہو جاتا ہے۔ جو رکھ دیا جائے وہ باقی رہ جاتا ہے۔

بارش رک گئی تھی۔ چھت ٹپک رہی تھی۔ ثاقب نے گھڑی دیکھی۔ دو بجے تھے۔ پیزا ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ ڈلیوری بوائے ایک گھنٹے پہلے دے گیا تھا۔
ڈبہ کھولا۔ اتوار کی رسم تھی۔ ضرورت نہیں تھی۔ عادت تھی۔ ایکسرا چکن۔ اضافی پنیر۔ دو سلائس کھائے۔ نمک لایا۔ پنیر پھیکی لگی۔
کھڑکی سے سڑک تھی۔ دوسرے سرے پر بوڑھا تھا۔ جھونپڑی کے نیچے۔ کل بھی تھا۔ پرسوں بھی۔ روز بیٹھتا۔ روز اٹھتا۔ کبھی پوتا آتا۔ آٹھ نو سال کا۔ چپل نہیں۔ ہاتھ میں خالی پیالہ۔
تیسرا سلائس منہ میں تھا۔ انگلی ڈبے کے کنارے پر رکی۔ پرچی تھی۔ ڈلیوری بوائے بھول گیا تھا۔  
"آرڈر: 2500  
ڈلیوری: 150  
کل: 2650  
شکریہ"
پرچی دیکھی۔ پھر باہر دیکھا۔ بوڑھا بیٹھا تھا۔ آگے پانی کا تالاب چمک رہا تھا۔ یاد آیا۔ کل بچہ پیالے میں بارش کا پانی جمع کر رہا تھا۔ پیاسا تھا۔ یا کھیل رہا تھا۔
الماری کھلی۔ نوٹوں کا بنڈل تھا۔ پانچ سو نکالا۔ رکھ دیا۔ دو سو نکالا۔ سوچا۔
جوتے پہنے۔ آخری سلائس ہاتھ میں لے لی۔ کیوں، پتہ نہیں تھا۔
بوڑھے کے پاس پہنچا۔ بچہ بھی تھا۔ سو رہے تھے۔ سہارا دیے۔ کوئی چادر نہیں تھی۔ پرانا اخبار تھا۔ ثاقب کی کار کی تصویر۔ کل کی نیوز۔
سلائس رکھ دی۔ دو سو کا نوٹ نکالا۔ بچے کی جھولی میں ڈالا۔ وہی پیالہ تھا۔ خالی۔ سوکھا۔ اندر پانی کے نشان۔
واپس آیا۔ ڈبہ کھلا تھا۔ دو سلائس بچیں۔ بھوک نہیں رہی تھی۔ بند کیا۔ کچن میں رکھ دیا۔
تین بجے اٹھا۔ پانی پیا۔ کھڑکی پر آیا۔ بوڑھا جاگ رہا تھا۔ سلائس کو دیکھ رہا تھا۔ اٹھائی۔ سونگھا۔ بچے کے ہونٹوں سے لگا دی۔ بچہ سویا سویا مسکرایا۔
بوڑھے نے اوپر دیکھا۔ شاید روشنی دیکھی۔ شاید سایہ۔ ہاتھ اٹھایا۔ اشارہ کیا۔
ثاقب ہٹ گیا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا۔ وہی پرچی تھی۔ 2650 والی۔ دیکھا۔ چھوٹے ٹکڑے کیے۔ کچرے میں ڈال دی۔
ابھی پتہ نہیں تھا سلائس کیوں رکھی تھی۔ صبح اٹھے گا تو پتہ چلے گا۔ آج پیزا آرڈر نہیں کرے گا۔  
شاید ہمیشہ کے لیے۔
---------------

مشکل الفاظ کے معنی
اضافی: زیادہ، ایکسٹرا  
تالاب: جمع پانی  
جھولی: دامن، گود کا کپڑا  
ضمیر: اندر کی آواز

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: