![]() |
| بعض قرض پیسے کے نہیں، ضمیر کے ہوتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:سود صرف پیسے کا نہیں ہوتا۔ ضمیر کا بھی ہوتا ہے۔ قرض قبر سے نہیں اترتا۔
رات کے تین بجے تھے۔ شہر سو رہا تھا۔ رام ناتھ کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔
کوٹھری میں بیٹھا تھا۔ حساب کر رہا تھا۔ کھڑکی سے غریب مسلمانوں کے گھر دکھتے تھے۔ ہر گھر قرض دار تھا۔
ایک مکان تھا۔ دیوار پر پانی کے دھبے۔ بوڑھی عورت۔ بیمار بیٹا۔ تین ماہ سے قرض باقی تھا۔ کل نوٹس بھیج دیا تھا۔
"قانون میرے ساتھ ہے۔"
صبح دروازے پر لڑکی تھی۔ سفید دوپٹہ۔ آنکھیں خشک۔ اندر جلتی ہوئی۔
"بابو جی، امی نے کہا تین دن اور۔ ابّا کا کفن۔ آج جنازہ ہے۔"
قلم اٹھایا۔ "بیٹا، قرض قرض ہوتا ہے۔ معاف کرنے سے باپ کو فائدہ نہیں ہو گا۔"
جواب نہیں دیا۔ کھڑی رہی۔ اتنی خاموش کہ لکڑی چیخ اٹھی۔
دستخط کیے۔ "مکان خالی کرو کل تک۔"
مڑی۔ رکی۔ پیچھے دیکھے بغیر بولی:
"بابو جی، آپ امیر ہیں۔ بھوک سے مرنے والے کو آخر میں کیا یاد آتا ہے؟ روٹی نہیں۔ پانی نہیں۔ یاد آتا ہے کس نے ایک بار پانی پلایا تھا۔"
چلی گئی۔
کھانا دیکھا۔ پوری۔ آلو۔ اچار۔ اچانک بے ذائقہ لگا۔
قبرستان کے قریب سے گزرا۔ وہی لڑکی تھی۔ ہاتھ میں مٹی کا کوزہ۔ اکیلی قبر پر پانی ڈال رہی تھی۔
قریب وہی مکان تھا۔ جو آج خالی ہونا تھا۔
کھڑا رہ گیا۔ ایک گھنٹہ۔
شام کو سوچا، کاغذ پھاڑ دے گا۔ کاغذ بھیج چکا تھا۔
سوچا، دیر ہو چکی ہے۔
رات کو خواب آیا۔ کوئی بولا، "تو سود لیتا ہے۔ وہ فاقوں میں سود نہیں دیتے۔ تو سوچتا ہے گھر لے رہا ہے۔ وہ تیرے دل سے اندھیرا لے رہے ہیں۔"
صبح اٹھا۔ دفتر کے سامنے تین گھر بن رہے تھے۔ معمار وہی تھا جس نے مکان خریدا تھا۔
دفتر بند کیا۔ قبرستان چلا گیا۔
"گھر واپس نہیں لا سکتا۔ نیلام ہو چکا۔ یہ لا سکتا ہوں—"
کوٹھری کی چابی ہاتھ پر رکھی۔
نہیں لی۔
حیران ہوا۔
"بابو جی، آپ نے کل صحیح کہا تھا۔ قرض قرض ہوتا ہے۔ کفن سے قرض نہیں اترتا۔"
مڑی۔ چلی گئی۔
چابی مٹی میں دبا دی۔
اس دن کے بعد سود چھوڑ دیا۔ لوگ پوچھتے، "کیا ہوا؟"
"ایک لڑکی نے انسان ہونا سکھا دیا۔"
--------------
مشکل الفاظ کے معنی
کوٹھری: چھوٹا کمرہ
نیلام: سب سے زیادہ بولنے والے کو بیچنا
کوزہ: مٹی کا برتن
فاقہ: بھوکا رہنا

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: