عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

پگھلتا ہوا آدمی Pighalta hua aadmi

بعض باپ گھر سے نہیں، دروازے سے پگھلتے ہیں۔  



مرکزی خیال:
باپ کے دل کا دروازہ وہی بند کرتا ہے جس کے لیے وہ جیتا ہے۔ پگھلنا آواز نہیں کرتا۔

شام کے تین بجے تھے۔ چنابی محلے کی گلی میں کتا سو رہا تھا۔ قیصر نے تین بس بدلیں۔
دروازہ بند تھا۔ بیل بجائی۔  
"کون؟"  
"میں ہوں، ابا۔"
خاموشی۔ پھر چہچہاہٹ۔ پوتے کی۔ بہو کی ہنسی۔ بیل پھر بجائی۔
دروازہ کھلا۔ "ابا، آپ؟ ہم باہر جا رہے تھے۔"  
"بس دس منٹ۔"
بیٹے نے شیشے سے جھانکا۔ آنکھیں نیچی کر لیں۔ پوتا آیا۔ "دادا! پتنگ لائے؟"
جیب سے کھلونا نکالا۔ تنخواہ کا آخری نوٹ۔ بیٹے نے دیکھا۔ "ابا، فلاں برانڈ چاہیے۔ یہ پرانی ہے۔"
مسکرایا۔ کمرے میں گیا۔ دیوار پر بیوی کی تصویر تھی۔ بغیر جہیز کے لایا تھا۔ بیٹے نے وہاں لٹکائی جہاں دھوپ نہیں تھی۔
بیٹے نے موبائل اٹھا لیا۔ بہو نے چائے نہیں پوچھی۔ پوتے نے کھلونا پھینکا۔ پیڈ پر لگ گیا۔
کھڑکی سے دیکھا۔ بوڑھا رکشہ کھینچ رہا تھا۔ پیٹھ جھکی تھی۔ ٹانگیں دوڑ رہی تھیں۔ سوچا — یہ کس کا باپ ہے؟
"ابا، کچھ چاہیے؟"  
"تمہیں دیکھنا تھا۔ بس۔"
پانچ منٹ بعد چائے مانگی۔ "لیپٹن ہے۔" تھرموس سے کپ دیا۔ پیا۔ گرم تھی۔ ابلتی نہیں تھی۔
اٹھا۔ "آؤں گا پھر۔"  
پوتے نے بغیر دیکھے ہاتھ ہلایا۔
آئینے میں چہرہ دیکھا۔ شاید پہلے ہی پگھل چکا تھا۔ باہر نکلا تو بہو نے اندر سے کنڈی لگائی۔
بس سٹاپ پر کتا سو رہا تھا۔ روٹی کا ٹکڑا رکھا۔ آنکھ کھولی۔ دیکھا۔ پھر سو گیا۔
بس آئی۔ چڑھا۔ کھڑکی سے دیکھا تو راستہ بھول گیا تھا۔
گھر آیا۔ ایک تصویر لگائی۔ بیوی کی۔ پہلی بار گھر آئی تھی۔ نیچے لکھا: "یہ وہ ہے جس نے گھر دیا تھا۔"
رات کو بارش ہوئی۔ صبح فون آیا۔ "ابو نہیں اٹھے۔"  
پہنچے تو کمرہ خالی تھا۔ دیوار پر تصویر تھی۔ نیچے کپ تھا۔ چائے ابھی تک گرم تھی۔
------------

مشکل الفاظ کے معنی
دہلیز: دروازے کی چوکھٹ  
لیپٹن: چائے کا برانڈ  
تھرموس: گرم رکھنے والا برتن  
پیڈ: بچوں کا کھیل


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: