عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

پڑوسی Parosi

بعض پڑوسی ایک ہی بستر پر سوئے ہوئے بھی اتنے دور ہوتے ہیں۔ 

مرکزی خیال:
سب سے بڑا فاصلہ وہ ہے جو ایک ہی بستر پر سوئے ہوئے لوگوں کے درمیان ہو۔




رات کے تین بجے تھے۔ تئیسویں فلور پر کھڑا تھا۔ نیچے سڑک کی روشنیاں رینگ رہی تھیں۔ فلیٹ کا دروازہ بند کیا تھا۔ تالے کی آواز۔ بیوی سونے کے بہانے کر چکی تھی۔
چار برس میں پانچویں بار نکلا ہوں۔ منزل نہیں تھی۔ چلنا تھا۔ دیکھنا تھا۔ بھولنا تھا۔
بالکونی کے فرش پر بیٹھ گیا۔ سامنے فلیٹ میں روشنی تھی۔ پردہ لہرا رہا تھا۔ دو مہینے سے دو بجے جلتی ہے، چار بجے بجھتی ہے۔ کبھی سایہ آتا تھا۔ رکتا تھا۔ جیسے دیکھ رہا ہو، سامنے کوئی ہے یا نہیں۔
آج سایہ بے چین تھا۔ آتا۔ جھانکتا۔ ہٹ جاتا۔ سیگرٹ جلائی۔ دھواں اوپر گیا۔ سائے نے پردہ ہٹایا۔
عورت تھی۔ نہ بوڑھی، نہ جوان۔ آنکھوں میں تھکاوٹ تھی۔ میری اپنی۔ ہاتھ ہلایا۔ جواب دیا۔ بہت دیر بیٹھے رہے۔ لفظ نہیں بولے۔ صرف دھواں تھا۔ نیلی روشنی تھی۔
کچھ دکھایا۔ پرانا ریڈیو۔ سفید پلاسٹک کا۔ آٹھویں دہائی والا۔ سوئچ گھمایا۔ اسٹیٹک کی کھڑکھڑاہٹ۔ پھر آواز:
"یہ آل انڈیا ریڈیو ہے۔ 23 مارچ 1984۔ رات کے تین بج کر پانچ منٹ۔ نظیر کا شعر..."
ریڈیو بجھا تو وہ میرے گھر والی لگی۔ بال بکھرے۔ آنکھیں اداس۔ ہونٹ خاموش۔ اپنے فلیٹ کی طرف دیکھا۔ پردے بند تھے۔ بیوی سو رہی ہوگی۔ یا سوتی ہوئی لگ رہی ہوگی۔
پھر اعلان ہوا۔ "چوبیس گھنٹے میں شہر بند ہو جائے گا۔" پھر اسٹیٹک۔ پھر خاموشی۔
اس نے اس پڑوس کی طرف اشارہ کیا جہاں کبھی رہتے تھے۔ وہ شہر نہیں تھا۔ مٹی کے نیچے تھا۔ ہم دونوں وہم تھے۔ کھنڈرات کے اوپر۔
ہاتھ بڑھایا۔ چھو گئی۔ ہاتھوں کے درمیان پچیس سال تھے۔ پہچانتا تھا۔ یہ بیوی تھی۔ یا میں شوہر تھا۔ یا کبھی ایک تھے، اب پڑوسی تھے۔
پردہ گرا دیا۔ روشنی بجھ گئی۔ سیگرٹ بجھائی۔
نیچے سڑک پر ایک آدمی چل رہا تھا۔ جیب سے ریڈیو کی روشنی نکل رہی تھی۔

-------------
مشکل الفاظ کے معنی
اسٹیٹک: ریڈیو کی کھڑکھڑاہٹ  
وہم: حقیقت نہ ہونے والی چیز  
کھنڈر: ٹوٹا ہوا، اجڑا ہوا  
پردہ: کپڑے کی آڑ

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: