پردے کے پیچھے Parday Ke Peechay
 |
بعض پردے بھوت نہیں چھپاتے، سوال دفن کرتے ہیں۔
مرکزی خیال: سب سے بڑا بھوت وہ سوال ہے جو ہم دفن کر دیتے ہیں۔ پردہ ہٹتے ملتا ہے، جواب نہیں
|
کمرے میں تین پردے تھے۔ دو کھڑکیوں پر۔ ایک دیوار پر۔
دیوار والا سب سے پرانا تھا۔ موٹا۔ بھاری۔ گرد جمی تھی۔ ماں کہتی تھی، میرے زمانے کا ہے۔ اب کوئی نہیں ہٹاتا۔ سب ڈرتے تھے۔
بچپن میں گزرتا تو لگتا، پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ سانس روکے۔ سن رہا ہے۔ ماں کو کہا تو چپ کرا دیا۔ باپ کو کہا تو بولا، بیوقوف لگے گا۔ ایسی باتیں نہ کر۔
آوازیں تھیں۔
رات کو گھر سوجاتا۔ پردے کے پیچھے سرگوشیاں آتیں۔ بول سمجھ نہ آتی۔ تھاپ سینے میں اترتی۔ کمبل اوڑھے پڑا رہتا۔ ڈھونگ کرتا کہ سو گیا ہوں۔
بیٹے نے پوچھا، "ابو، پردے کے پیچھے کیا ہے؟"
جھٹکے سے موڑ دیا۔ "کچھ نہیں۔ یاروں کی باتیں ہیں۔"
اس رات نیند نہیں آئی۔ سوچتا رہا۔ کیا میں وہی کر رہا ہوں جو باپ نے کیا تھا؟ چپ؟ انکار؟ بہانے؟
تین بجے اٹھا۔ ٹارچ لی۔ کمرے میں گیا۔ پردے کے پاس کھڑا ہوا۔ کھولوں یا نہ کھولوں؟
ہوا کا جھونکا آیا۔ پردہ ہلا۔ سرگوشی آئی۔ اس بار الفاظ پہچان لیے:
"بس اتنا بتا دیو، معاف کر دیے گئے؟"
کنارہ پکڑا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کھینچا۔
کوئی نہیں تھا۔ ایک کھڑکی تھی۔ چھوٹی۔ باہر اندھیرا تھا۔ پتھریلا راستہ تھا۔ جہاں سے کوئی واپس نہیں لوٹا۔
*مشکل الفاظ کے معنی*
سرگوشی: بہت آہستہ آواز
ڈھونگ: دکھاوا
جھونکا: ہوا کا ہلکا دھکا
پتھریلا: پتھروں والا
---
عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: