عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

پردۂ حجاب Parda-e-Hijab

بعض پردے کپڑے کے نہیں، آنکھوں کے ہوتے ہیں۔  

مرکزی خیال:
سب سے گہرا پردہ وہ ہے جو ہم خود اپنی آنکھوں پر باندھ لیتے ہیں۔ جب اتر جائے تو آئینہ صاف ہو جاتا ہے۔

شام کو اندھیرا اترتا تھا۔ حسینہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو جاتی تھی۔ دیکھتی نہیں تھی۔ دائیں ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیتی۔ بائیں سے ہوا میں ٹٹولتی۔ جیسے نابینا شے کو پہچان رہی ہو۔
آئینے پر گرد رہتی تھی۔ بائی نے کہا، "باجی، صاف کر دوں؟"  
"نہیں۔"
بہنیں اسے بھولی چیز کی طرح استعمال کرتیں۔ محفل میں چائے بناتی۔ کھانا لگاتی۔ کمرے میں چلی جاتی۔ کسی نے نہ پوچھا، "تم کیوں نہیں بیٹھتیں؟"
ایک رات بارش تھی۔ ڈائری لکھ رہی تھی۔ الفاظ نہیں تھے۔ دائرے تھے۔ لکیریں تھیں۔ گہرے دھبے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔
کھولا۔ کوئی نہ تھا۔ نیچے لفافہ تھا۔ نام نہیں تھا۔ صرف آنسو کا نشان تھا۔ جیسے مہر کی جگہ رو دیا ہو۔
کاغذ پر لکھا تھا:  
"تمہاری بہنیں آئینے میں دیکھتی ہیں۔ تم آئینے کو دیکھتی ہو۔ ان کا پردہ چہرے پر ہے۔ تمہارا پردہ آنکھوں میں۔"
پڑھا۔ جلا دیا۔ راکھ اڑا دی۔
اگلے دن بہن نے الماری کھولی۔ پرانا دوپٹہ نکلا۔ پردے کے لیے سلائی کی تھی۔ پہنا کبھی نہیں تھا۔  
"یہ کس کا ہے؟"  
"میرا۔"  
ہنسی۔ "تمہارا؟ تم تو ہو ہی نہیں۔"
اسی رات دوپٹہ نکالا۔ برآمدے میں امی بیٹھی تھیں۔ سامنے سے گزری۔ امی نے دیکھا۔ پہچانا نہیں۔  
"کون؟"  
رک گئی۔ "میں ہوں۔"  
آنکھیں موند لیں۔ "جا بیٹا، اندھیرا ہے۔"
آگے بڑھی۔ گلی کے آخر میں کنواں تھا۔ دادی پانی بھرتی تھیں۔ اب سوکھا تھا۔ دوپٹہ ڈال دیا۔
ہوا میں پھڑپھڑایا۔ نیچے گرا۔ دیر تک کھڑکی لگا۔ اندھیرے میں کھڑکی کھلی ہوئی۔
ہاتھ آئینے کی طرف بڑھایا۔ آئینے میں ہاتھ بڑھ رہا تھا۔ پہلی بار۔ بغیر گرد کے۔ بغیر خوف کے۔
ہاتھ ملے؟  
نہیں۔
ہاتھ کھینچ لیا۔
مسکرائی۔
----------------

مشکل الفاظ کے معنی
ٹولنا: اندھیرے میں ہاتھ سے تلاش کرنا  
مہر: نشان، چھاپ  
برآمدہ: گھر کا کھلا حصہ  
پھڑپھڑانا: ہوا میں ہلنا

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: