![]() |
| بعض سگریٹ دھواں نہیں، نشان چھوڑتے ہیں |
مرکزی خیال
سچ کا وزن ہوتا ہے۔ جو ماں بیٹے کو غلامی سے انکار سکھاتی ہے وہ تنہائی اٹھاتی ہے۔ جو مرنے سے انکار کر دے وہ جینے کا پہلا قدم رکھتا ہے۔
شام تھی۔ دھول نے گلیاں نگل لیں۔
شہنشاد پان کی دکان پر کھڑا تھا۔ سگریٹ سلگایا۔ مونچھوں پر سفیدی تھی۔ صبح کی اوس دوپہر میں جھلس گئی ہو۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ چہرے پر سکون تھا۔
دکان کے اندر اندھیرے سے آواز آئی، "کیا وہ آئے گا؟"
شہنشاد نے دھواں چھوڑا۔ "کون؟"
عورت اٹھی۔ پلر کی روشنی میں چہرہ نکلا۔ پچاس برس۔ آنکھیں پچیس کی۔ شرارتی۔ باغی۔ تھکی ہوئی۔
"میرا بیٹا۔ کل شادی ہے۔ باپ کے پاس نہیں گیا۔ کہتا ہے تمہیں بھولنا ہے۔"
شہنشاد نے سگریٹ کچل دیا۔ فرش پر راکھ کا چھوٹا کرہ بن گیا۔
"تم نے اسے کیا سکھایا؟"
عورت چونکی۔ "تم کیوں پوچھتے ہو؟"
"کیونکہ تم اسی لیے یہاں ہو۔"
گلی میں کتا بھونکا۔ بھاگ گیا۔ خاموشی ٹھہر گئی۔
"میں نے اسے سکھایا۔ کوئی تمہارا خدا نہیں۔ کوئی تمہاری غلامی کا حق نہیں رکھتا۔"
"اور تم خود؟"
آنکھیں بند کر لیں۔ "میں نے شوہر کے لیے مرنے سے انکار کیا۔ تب سے بیٹا بات نہیں کرتا۔"
شہنشاد نے دوسرا سگریٹ نکالا۔ سلگایا نہیں۔ انگلیوں میں گھماتا رہا۔
"تم نے جھوٹ نہیں سکھایا۔ سچ سکھایا۔ سچ کا وزن ہوتا ہے۔"
عورت نے پہلی بار دیکھا۔ جیسے دیوار گر گئی ہو۔
"اور تم؟ تم نے کس کے لیے مرنا چھوڑا؟"
مسکرایا۔ مسکراہٹ میں شہر کا دکھ تھا۔ بچے کی ضد بھی۔
"میں نے جینا نہیں سیکھا تھا۔ مرنا آسان تھا۔"
رات گہری ہو گئی۔ دونوں خاموش رہے۔ دھول اڑتی رہی۔ تمباکو کی باس آتی رہی۔
عورت اٹھی۔ چلی گئی۔ شہنشاد نے وہ بغیر سلگا سگریٹ جیب میں رکھ لیا۔ جیسے مٹی کے برتن پر مہر لگا دی ہو۔
--------------------
*مشکل الفاظ کے معنی*
مہر: نشان، علامت
باس: ہلکی مہک، خوشبو
کرہ: گول دائرہ
پلر: کھمبا، ستون

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: