مرکزی خیال:
جب تم خود کو قبول کرو گے، تو دنیا کو تمہیں قبول کرنا پڑے گا۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی۔ نظر پہلے سارہ پر پڑی۔ نیلا کرتہ۔ ریشم جیسا۔ چاندی کی کشیدہ کاری۔ روشنی میں چمک رہا تھا۔
سانس رکی۔ وہی کرتا۔ وہی رنگ۔ کل شاپنگ مال میں دیکھا تھا۔ قیمت دیکھ کر ہونٹ کاٹا تھا۔
اپنے کرتے پر نظر گئی۔ سادہ۔ دھلا ہوا۔ رنگ اڑا ہوا۔
دل میں کسک ہوئی۔ "میں کیوں نہیں؟" پھر خود کو جھڑکا۔ بچکانہ سوچ۔ پھر بھی نوکیلی چیز دل میں رہ گئی۔
چائے کی میز پر سارہ بولی۔ نئی نوکری۔ بیرونِ ملک ٹور۔ بوائے فرینڈ کا ہار۔
زینب نے مسکرا کر تعریف کی۔ الفاظ بے جان تھے۔ اپنی نوکری سوچی۔ اپنی زندگی سوچی۔ تنہائی سوچی۔ احساسِ کمتری خوشی کھا رہا تھا۔
سارہ بولی۔ "زینب! یہ کنگنا کتنا خوبصورت ہے۔ کہاں سے لیا؟"
کلائی دیکھی۔ نانی کا دیا ہوا کنگنا۔ بچپن سے پہنتی تھی۔ آج نظر آئی۔
"پرانا ہے۔ نانی اماں کا۔"
"نہیں یار، یہ یونیک ہے۔ جدید ڈیزائنرز ایسے ہی بناتے ہیں۔"
ایک بات تھی۔ اندر چنگاری لگی۔ شاید کچھ خاص تھا۔
اگلے ہفتے دفتر میں باس نے کام سراہا۔ معمولی بات تھی۔ اعتماد بڑھا۔
لکھنا شروع کیا۔ چھوٹی کہانیاں۔
پھر عجیب ہونے لگا۔
خود کو قبول کیا۔ دنیا نے دیکھنا شروع کیا۔ کہانی آن لائن شائع ہوئی۔ پرانی دوست ملی۔ "تمہاری باتوں میں سکون ہے۔ یہی خوبی ہے۔"
بس اسٹاپ پر کھڑی تھی۔ اجنبی خاتون بولی۔ "آپ کا اسکارف بہت اچھا ہے۔ میں باندھ نہیں پا رہی تھی۔"
اتفاق تھے۔ شاید۔ مگر تسلسل تھا۔ جس کی ضرورت ہوتی، مل جاتا۔ جس پر شک ہوتا، تعریف ہو جاتی۔
رات کو ڈائری میں لکھا: "کیا یہ اتفاق ہے؟ کوئی دیکھ رہا ہے؟ میں نے خود کو مانا، تو کائنات نے مان لیا؟ یہ کیا راز ہے؟"
کمرے میں دیکھا۔ نانی کا کنگنا۔ دوست کی دی کتاب۔ گملے کا پھول۔ سب معمولی تھا۔ سب جڑا ہوا لگا۔
سوچا۔ شاید یہ کوئی پوشیدہ سازش نہیں تھی۔ یہ اس کی اپنی سازش تھی۔
جب دوسروں سے تولنا چھوڑا۔ جب اپنے لفظوں پر دھیان دیا۔ تو دنیا نے وہی لوٹایا۔
ڈائری بند کی۔ مسکرائی۔
احساسِ کمتری قاتل تھا۔ خودشناسی علاج تھی۔ یہی سب سے بڑا سسپنس تھا۔ اس نے خود حل کر لیا تھا۔
----------------
مشکل الفاظ کے معنی
احساسِ کمتری: اپنے آپ کو کم سمجھنا
یونیک: منفرد
تسلسل: لگاتار ہونا
تائید: حمایت

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: