عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

لال بالوں والی اماں Lal-Baalon-Wali-Amma


مرکزی خیال:

مہمان نوازی کی قیمت پیسے سے نہیں لگتی۔ غریب اپنا آخری نوٹ بھی دے دیتا ہے۔


خضدار کی وادیوں میں شام کا سورج ڈوب رہا تھا۔ ہوا میں تھکن تھی۔ شادی کی خوشبو تھی۔  

ہم پانچ کزن۔ کراچی چھوڑ کر آئے تھے۔ عابد ساتھ تھا۔ کہتا تھا یہ درخت دادا نے لگائے تھے۔

راستہ تنگ ہوا۔ موڑ پر وہ ملیں۔

بوڑھی عورت۔ لمبے سفید بال۔ بیچ میں لالی تھی۔ جھریوں پر زندگی لکھی تھی۔ ہاتھ میں لکڑی۔ نیلا سرخ بلوچی لباس۔ مٹی پر شاہکار لگ رہی تھیں۔

عابد کو روکا۔ بروہی میں پوچھا۔  

"یہ نئے چہرے کون ہیں؟"

عابد نے کہا۔ کراچی سے مہمان ہیں۔  

آنکھوں میں چمک آئی۔  

"آہ! مہمان خدا کی رحمت ہیں۔ چلو میرے گھر۔ چائے پلاؤں گی۔"

بہانے بنائے۔ نہیں مانیں۔ آواز میں شفقت تھی۔ آمریت تھی۔ چل پڑے۔

گھر چھوٹا مٹی کا کوارٹر تھا۔ پرانا دروازہ۔  

"آ جاؤ بچو۔"

اندر دو چارپائیاں۔ ایک لوہے کی پیٹی۔ مٹی کی خوشبو۔  

وہاں ایک لڑکا کھڑا تھا۔ اٹھارہ سال کا۔ گندمی رنگ۔ گھنے بال۔ بھوری آنکھیں۔ گہرے کنویں جیسی۔ پرانی شلوار قمیض۔ مٹی کے داغ۔ پھر بھی شہزادہ لگ رہا تھا۔

اماں نے بٹھایا۔  

"یہ مہمان ہیں۔ پانی پلاؤ۔"

مسکرا کر ہاتھ ملایا۔ مٹی کے برتن میں پانی دیا۔  

پھر کہا۔ "دودھ لے آ۔ چائے بنائیں گے۔"

یہ لمحہ تھا۔

پیٹی کھلی۔ پرانا کمبل نکلا۔ کمبل میں دوپٹہ۔ دوپٹے کی گانٹھ میں تھیلی۔  

کانپتے ہاتھوں سے تھیلی کھولی۔ ایک سو کا نوٹ نکالا۔ صرف ایک۔

کزن نے دبی ہنسی ہنسی۔ "اتنا تو میں لاکھوں میں سے بھی نہیں چھپاتا۔"  

ہم ہنسنے لگے۔ پھر رک گئے۔ یہ مذاق کا مقام نہیں تھا۔

نوٹ لڑکے کو دیا۔ "جلدی جا۔"

وہ گیا۔ اماں نے کراچی پوچھا۔ کہا کبھی خضدار سے باہر نہیں گئی۔ ہم نے شہر سنایا۔ وہ مسکرا رہی تھیں۔ جیسے ہماری زبانی دنیا دیکھ رہی ہوں۔

تھوڑی دیر بعد لڑکا دودھ لے کر آیا۔ لکڑی جلائی۔ مٹی کے برتن میں چائے اُبالی۔

وہ چائے ہزار چائوں سے گرم تھی۔ خوشبودار تھی۔

پی۔ شکریہ کہا۔ رخصت ہوئے۔

باہر نکل کر ہنسے۔ "سو روپیہ! خزانہ دفنایا تھا!"  

اسے سفر کی عجیب کہانی سمجھا۔

نو سال گزر گئے۔ عمر پچیس ہو گئی۔  

وہ ہنسی اب گلوگیر ہے۔

آج سمجھ آتا ہے۔ وہ سو روپیہ آخری رقم تھی۔ وہ کمبل، دوپٹہ، تھیلی… غریب کا بینک تھا۔ لڑکے کے کپڑوں کی مٹی بتا رہی تھی کہ وہ نوٹ کتنی محنت کا تھا۔  

پھر بھی انجان مہمانوں پر لٹا دیا۔

یہ اتفاق نہیں۔ یہ دھرتی کا حسن ہے۔  

کچے گھر۔ پکے دل۔

آج جب چائے کا کپ اٹھاتا ہوں، لال بالوں والی اماں آ جاتی ہیں۔ گہری بھوری آنکھوں والا بیٹا آ جاتا ہے۔ مٹی کا کپ اُبلتا ہے۔

دل کرتا ہے خضدار جاؤں۔ گھر ڈھونڈوں۔ بتاؤں کہ وہ ایک سو روپیہ قرض ہے۔ کچھ لا سکوں۔  

ڈر لگتا ہے۔ کہیں وہ گھر، وہ اماں، وہ لڑکا وقت کی وادی میں گم نہ ہو گئے ہوں۔

یہ اب بھی سسپنس ہے…  

کیا دوبارہ پاؤں گا؟ یا صرف یاد رہ جائے گی؟

-------------

مشکل الفاظ کے معنی

قوارٹر: چھوٹا گھر  

شائستگی: نرمی، ادب  

گلوگیر: گلے میں اٹکنے والا  

مہمان نوازی: مہمان کی عزت


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: