![]() |
| کچھ شیشے گرد سے نہیں، خوف سے دھندلاتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:روایات کے کڑے پہن لینا مجبوری ہو سکتی ہے، مگر ہاتھ نہ باندھنا انتخاب ہے۔ لکھنا عورت کی پہلی کھلی کھڑکی ہے۔
شام کے چار بجے تھے۔ چھت سے پرندے اڑے۔ ثمینہ نے پردہ سرکایا۔ شیشے پر گرد کی تہ تھی۔ انگلی پھیری۔ ایک لکیر بن گئی۔ اس لکیر سے باہر دیکھا۔ سڑک پر لڑکی سائیکل چلا رہی تھی۔ بال ہوا میں تھے۔ وہ ہنس رہی تھی۔
ثمینہ نے پردہ چھوڑ دیا۔
کمرہ اندھیرا تھا۔ دیوار پر باپ کے ساتھ بچپن کی تصویر لگی تھی۔ اب باپ نہیں تھا۔ تصویر کے نیچے کیلنڈر لٹکا تھا۔ تاریخ پانچ سال پرانی تھی۔ اس نے کیلنڈر اتار کر کوڑے دان میں پھینک دیا۔
الماری کھولی۔ تین سوٹ تھے۔ ماں کی پسند۔ "خواتین کی طرح نظر آنا چاہیے"۔ جملہ ہوا میں لٹک گیا۔ اس نے ایک سوٹ نکالا۔ دیکھا۔ واپس رکھ دیا۔
میز پر قلم تھا۔ وہ اٹھاتی۔ ہاتھ کانپتا۔ آواز آتی، "لڑکیاں یہ نہیں کرتیں۔" وہ قلم رکھ دیتی۔
دستک ہوئی۔ بھائی بولا، "ثمینہ، ماموں آئے ہیں۔ تحفہ لائے ہیں۔"
وہ گئی۔ ماموں نے ڈبہ بڑھایا۔ اندر سونے کا کڑا تھا۔
"اب بڑی ہو گئی ہو۔ شادی کے لیے تیار ہو جاؤ۔" سب مسکرا رہے تھے۔ ثمینہ نے کڑا پہن لیا۔ مسکرا دی۔
رات کو سب سو گئے۔ اس نے کڑا اتارا۔ میز پر رکھ دیا۔ کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گئی۔ باہر اندھیرا تھا۔ سامنے ایک کھڑکی میں روشنی تھی۔ اس روشنی میں لڑکی ٹائپ رائٹر پر انگلیاں چلا رہی تھی۔
ثمینہ بہت دیر دیکھتی رہی۔ پھر میز پر آئی۔ قلم اٹھایا۔ ہاتھ نہیں کانپا۔
اس نے لکھا: "ایک لڑکی تھی جس نے کڑا پہنا مگر ہاتھ نہیں باندھا۔"
صبح ہوئی۔ میز پر تین پنے پڑے تھے۔ کھڑکی کے شیشے پر گرد میں لکھا تھا: "میں لکھ رہی ہوں۔"
شیشہ اب بھی گندا تھا۔ مگر اب اس پر ایک نیا جملہ تھا۔
کڑا میز پر پڑا تھا۔ روشنی میں چمک رہا تھا۔
-----------------------
مشکل الفاظ کے معنی
کیزندر: مہینے اور تاریخوں والا ورق
دستک: دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز
ٹائپ رائٹر: مشین سے لکھنے کا پرانا آلہ
بغاوت: سرکشی، روایت سے انکار

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: