عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

خاموشی کا ترجمہ Khamoshi ka tarjuma

بعض خاموشیاں بول کر نہیں، چھو کر سمجھ آتی ہیں۔  


مرکزی خیال:
جس بچی کو سنایا نہیں جاتا وہ ہوا سے بات کرنے لگتی ہے۔ ترجمہ تب ہوتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہو۔


شام ڈھل رہی تھی۔ گلی کے آخر میں مکتب تھا۔ مولوی صاحب قرآن پڑھاتے تھے۔ ساتھ کھوکھا تھا۔ چائے بکتی تھی۔ کھوکھے کے پیچھے دیوار سے لگ کر بچی بیٹھتی تھی۔ آنکھیں بڑی تھیں۔ خاموش۔ ہاتھ میں پرانی گڑیا۔ ایک آنکھ کھلی تھی۔
بولی نہیں تھی۔ گلی والے کہتے تھے، "گونگی ہے۔" کچھ کہتے تھے، "سنی ہے۔" ماں نے بولا ہی نہیں تھا۔ ماں خود بولتی تھی۔ رشتے داروں سے، پڑوسنیوں سے، دکانداروں سے۔ روز جھگڑے۔ بچی سنتی رہتی تھی۔
ایک دن مکتب کے باہر بچہ رو رہا تھا۔ چاکلیٹ چھین لی گئی تھی۔ دوسرے ہنس رہے تھے۔ بچی نے گڑیا بڑھائی۔ بچے نے دیکھا۔ ایک آنکھ والی، پرانی۔ زور سے ہنسا۔ پھینک دی۔
بچی نے اٹھائی۔ آنکھوں میں نمی نہیں تھی۔ سینے سے لگائی۔ دیوار سے بیٹھ گئی۔ گڑیا کے کھلے حصے پر انگلی پھیرنے لگی۔ جیسے زخم بھر رہی ہو۔
رات ہوئی۔ ماں آئی۔ چلاتی ہوئی۔ "پانی لا، کھانا لا، کمرہ صاف کر۔" سب کیا۔ ماں سو گئی۔ بچی اٹھی۔ باہر نکلی۔ کھوکھے کے پاس بیٹھ گئی۔
چاند نہیں تھا۔ کھمبہ جلتا بجھ رہا تھا۔
گڑیا کو زمین پر لٹایا۔ جیسے بیمار بچہ ہو۔ شال اتاری۔ ڈھانپا۔ کان میں کچھ کہا۔ ہونٹ ہلے۔ آواز نہیں آئی۔ لفظ نہیں تھا۔ صرف ہوا کا جھونکا تھا۔
اس سے پہلے کبھی بولنے کی کوش نہیں کی تھی۔
صبح ماں نے دیکھا۔ بچی نہیں تھی۔ گلی میں لوگ تھے۔ کھوکھے کے پاس، دیوار کے ساتھ، گڑیا تھی۔ شال اوڑھے۔ جیسے سو رہی ہو۔ بچی کا پتہ نہیں تھا۔
ماں چیخی۔ پہلی بار نام لے کر چیخی۔ آواز گلیوں میں گم ہو گئی۔
تین دن بعد پولیس آیا۔ جسم نہر کے کنارے ملا۔ کہا گیا، "گر گئی۔" یا "دھکا دیا۔" یا "خود۔"
جنازے کے بعد گڑیا اٹھائی۔ کھلے حصے پر انگلیوں کے نشان تھے۔ جیسے بار چھوا ہو۔ کان سے لگائی۔
ہوا کا جھونکا تھا۔ سرد۔
سمجھ گئی کہ بیٹی کیا کہنا چاہتی تھی۔ تب دیر ہو چکی تھی۔
----------------

مشکل الفاظ کے معنی
کھوکھا: چھوٹی دکان  
سنی: سننے میں کمزور  
نمی: آنسو، پانی  
جھونکا: ہوا کا ہلکا دھکا

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: