![]() |
بعض جھولے بیٹھنے کے لیے نہیں، یاد کے لیے ٹنگے ہوتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:جو جھولا کبھی نہ جھولا وہ یاد میں جھولتا رہتا ہے۔ ٹیڑھی زنجیر سیدھی کرنے والا ہاتھ آواز کے بغیر ہنستا ہے۔پارک کے کونے میں لکڑی کا جھولا تھا۔ ایک زنجیر ٹیڑھی۔ نشست کا رنگ اُکھڑا ہوا۔شام ہوتے ہی بوڑھا آتا۔ بنچ پر بیٹھ جاتا۔ جھولے کو دیکھتا رہتا۔کبھی بیٹھا نہیں۔ کام تھا دیکھنا۔بچے دوڑتے آتے۔ مائیں کھینچتیں۔ بوڑھا ہر چہرے پر ٹھہر جاتا۔ آنکھوں میں وہی ٹھوکر لگتی۔ جیسے برسوں پہلے کوئی چیز گر کر رہ گئی ہو۔پانچ برس کی لڑکی آئی۔ بالوں میں دو پنکھے والے کلپ۔ جھولے کے پاس رکی۔ بوڑھے کو دیکھا۔ جھولا دیکھا۔ واپس بوڑھے کو۔سر ہلایا۔"چڑھ جا، بچے۔"ہاتھ بڑھا ہی تھا کہ آواز آئی، "ادھر مت جا۔"ہاتھ ہوا میں رک گیا۔ جیب میں ڈال لیا۔ بنچ کی لکڑی پر انگلی پھیرنے لگا۔ پرانے نشان تھے۔ کسی نے ناخن سے کھرچ کر لکڑی کو انگلیوں کا روپ دے دیا تھا۔رات کو اکیلا بیٹھا رہتا۔ دیوار پر تصویر۔ دھندلی۔ نہ بچہ، نہ جھولا۔ ایک عورت کا سایہ۔ روشنی نے آدھا چہرہ نگل لیا تھا۔کھڑکی کھلتی۔ باہر اندھیرے میں چرمراہٹ۔ شاید ہوا۔ شاید جھولا۔آئینے میں بوڑھا چہرہ۔ پلک جھپکی۔ پانچ سال کا ہو گیا۔کمرہ چھوٹا تھا۔ باہر شور تھا۔ پکارا، "امّاں۔"جواب نہ آیا۔دوبارہ پکارا۔تیسری بار لب ہلے۔ آواز نہ نکلی۔ فرش سے ٹوٹا کھلونا جھولا اٹھایا۔ سینے سے لگایا۔ سو گیا۔آج پھر بنچ پر ہے۔بچہ آیا۔ اٹھا۔ جھولے کے پاس گیا۔ ٹیڑھی زنجیر سیدھی کرنے لگا۔ بچہ دیکھ رہا تھا۔ ہنسا۔ ہنسی آواز نہ بنی۔بچہ بھاگ گیا۔واپس آ بیٹھا۔ اندھیرا اتر چکا تھا۔ اٹھتے وقت ایک بار دیکھا۔جھولا خالی تھا۔ ہوا کے جھونکے سے ہلا۔ جیسے کسی نے ابھی چھوڑا ہو۔----------------------مشکل الفاظ کے معنیاُکھڑنا: اکھڑ جانا، اتر جاناچرمراہٹ: ہلکی چرچراہٹ کی آوازسایہ: پرچھائی، دھندلا عکسٹھوکر: ٹکر، اچانک یاد---

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: