عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

گرا ہوا کاغذ Gira Hua Kagaz



مرکزی خیال

سب سے بڑی غربت روٹی کی نہیں۔ احساس کی ہے۔


گاؤں کی ہوا میں دھول نہیں تھی۔  

تھکن تھی۔ وہ تھکن جو زمین سے نہیں اٹھتی۔ سینے سے اٹھتی ہے۔

کچے مکان کی دیواریں جھکی تھیں۔  

اندر ماں تھی۔ آنکھ میں نہ دعا تھی نہ ماتم۔ صرف خاموشی تھی۔ برسوں سے ہونٹ سی تھی۔


بیٹا علی تھا۔ جوان جسم۔ اندر ریزہ ریزہ خواب۔  

بیٹی زینب تھی۔ لفظوں سے پہلے خاموشی پڑھ لیتی تھی۔

گھر میں برتن تھے۔ رزق نہیں تھا۔  

جب رزق نہ ہو تو پیٹ ہی خالی نہیں ہوتا۔ صبر بھی چاٹ جاتا ہے۔

علی ہر سویرے شہر جاتا۔  

ہر شام نئی امید کا جنازہ کندھے پر لاد کر لوٹتا۔

ماں نے پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔  

نصیب پتھر ہو جائے تو زبانیں مٹی ہو جاتی ہیں۔

زینب کھڑکی سے دیکھتی۔ ہوا سے کہتی:  

"جب روٹی نہیں ملتی تو آدمی اپنے اندر کا آدمی بھی نگل جاتا ہے…"

دن گزرے۔  

پہلے کمزور نگلا جاتا ہے۔

ایک صبح زینب نہیں تھی۔  

نہ بین۔ نہ الوداع۔ صرف خالی چارپائی۔ ماں کی پتھر آنکھ۔

علی شہر میں تھا۔ سنا۔ کچھ نہیں پوچھا۔  

بعض سوال ریڑھ توڑ دیتے ہیں۔

وہ چوراہے پر کھڑا تھا۔  

عمارتیں آسمان چیر رہی تھیں۔ زمین پر سایہ بھی نہیں تھا۔

دیوار کے ساتھ کاغذ پڑا تھا۔ بھیگا ہوا۔ مڑا ہوا۔  

اٹھایا۔ بچوں جیسی لکھائی تھی:  

"میں بڑی ہو کر انسان بنوں گی…"

انگلیاں کانپیں۔

اس پل سمجھ آیا۔  

زینب گم نہیں ہوئی۔  

وہ اس شہر کی گلیوں میں بکھری انسانیت کا ایک ٹکڑا بن گئی تھی۔

دیوار پر کوئلے سے لکھا تھا:  

"کائنات کی سب سے مہنگی چیز احساس ہے…"

علی نے کاغذ دیکھا۔ آہستہ ہنسا۔  

وہ ہنسی جو قبر پر تھوکی جاتی ہے۔

کاغذ ہوا کے حوالے کر دیا۔

ہوا نے اٹھایا۔ کچھ لمحے آسمان کے پاس رہا۔ جیسے ماں کو ڈھونڈ رہا ہو۔

پھر گرا۔  

جوتوں تلے کچلا گیا۔

کسی نے مڑ کر نہیں دیکھا۔  

کسی نے قدم نہیں روکا۔  

کسی نے نام نہیں پوچھا۔

ہوا نے سرگوشی کی:  

"یہاں آدمی نہیں مرتے۔ یہاں آدمی کے اندر کا آدمی مر جاتا ہے۔"

علی سمجھ گیا۔  

بھوک چھوٹا دکھ ہے۔  

اصل قیامت یہ ہے کہ سب لٹنے کے بعد سینے میں گھنٹی بھی نہیں بجتی۔

----------------

مشکل الفاظ کے معنی

ریزہ ریزہ: ٹکڑے ٹکڑے  

جنازہ: لاش کا جلوس  

پتھرائی: پتھر جیسی  

سرگوشی: دھیمی آواز

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: