![]() |
| بعض دریا فرش پر نہیں، آنکھ میں بہتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:جو پانی سے زیادہ خود کو دیکھے اسے دریا نظر آ جاتا ہے۔ ہیرا قیمت میں نہیں، پہچان میں ہوتا ہے۔
وہ ہر رات تین بجے اٹھتا۔
پانی کی آواز آتی۔ نہ ٹونٹی کی، نہ نلکے کی۔ جیسے دریا فرش پر رینگ رہا ہو۔ بے آواز آواز۔
سلمان نے سوچا پائپ لیک ہے۔ پلاسٹر توڑا۔ پائپ بدلا۔ پلاسٹر کیا۔ پانی وہی۔
دوسری رات پنکھے کے نیچے کھڑا ہوا۔ فرش خشک تھا۔
تیسری رات کمرے کے بیچ تالاب تھا۔ اندر ہیرا۔ پانی صاف۔ ہیرا بھی۔ ہاتھ بڑھایا۔ ہیرا پھسل گیا۔ نیچے، نیچے، تاریکی میں۔
خالی ہاتھ رہ گیا۔
مکان مالک آیا۔ پیمائش کی۔
"کرایہ دو ہزار بڑھ رہا ہے۔"
"مکان میں پانی آتا ہے۔"
ہنسا: "بارش نہیں ہوتی تمہارے کمرے میں۔"
"رات کو۔"
"آدمی رات کو کچھ بھی دیکھ سکتا ہے۔"
چلا گیا۔ سلمان نے ہاتھ دیکھے۔ جھریوں والے۔ چالیس برس کی مشقت والے۔ ہیرا نہ چھوا تھا کبھی۔
اس رات نہ سویا۔
تین بجے پانی آیا۔ پہلے ٹخنوں تک۔ پھر گھٹنوں تک۔ پھر کمر تک۔ شیشے جیسا پانی۔ مچھلیاں تھیں۔ کائی تھی۔ کنارے پر کوئی کھڑا تھا۔
تیرنے لگا۔ پانی بڑھ رہا تھا۔ سکڑ رہا تھا۔
بوڑھا تھا۔ ہاتھ میں وہی ہیرا۔
"تمہاری سو روپے کی عقل ہے۔ یہ ہیرا ہزار کا ہے۔ لاکھ کا ہے۔ پہچان کا ہے۔ بے بہا ہے۔ تم نے قیمت نہ پوچھی۔ بس نیچے دیکھا۔"
چپ رہا۔
"دریا ہر رات تمہارے کمرے سے گزرتا ہے۔ تمہیں پانی نظر آتا ہے۔ مجھے تم نظر آتے ہو۔"
پانی گھٹنے لگا۔ بوڑھا دھندلایا۔
"کیا کرنا ہے؟"
آخری قطرے میں آواز آئی: "پہچاننا۔"
پانی سوکھ گیا۔ فرش پر دھول تھی۔
صبح بازار گیا۔ ہر چیز کی قیمت پوچھی۔ سونے کی۔ کپڑے کی۔ پانی کی بوتل کی۔
ہنسے: "عقل ٹھکانے لگاؤ۔"
شام کو گلی کے موڑ پر کھڑا تھا۔ پرانے پائپ سے بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ کہتے تھے: "سلمان پاگل ہو گیا ہے۔"
اس رات انتظار کیا۔
تین بجے — کچھ نہ ہوا۔
سات بجے کسی نے دیکھا: وہ دریا کے بیچ کھڑا تھا۔ بالکل خشک۔ ہاتھ پھیلائے۔ جیسے ہیرا اس میں ہو جو کسی اور کو نہ دکھے۔
مسکرا رہا تھا۔
اس کے گرد دھول اڑ رہی تھی۔ جیسے پانی ہو۔
-----------------
مشکل الفاظ کے معنی
بے بہا: جس کی قیمت نہ لگ سکے
کائی: پانی کی ہری گھاس
مشقت: محنت، تھکاوٹ
دھندلانا: نظر سے ہٹ جانا

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: