رات کے تین بجے تھے۔ ظہیر نے دروازے پر دستک دی۔
"ابا؟"
اندر کھرکھراہٹ تھی۔ چارپائی پر کروٹ تھی۔
"ابا، گائے بے چین ہے۔"
چرمراہٹ رکی۔ قدموں کی آہٹ۔ دروازہ کھلا۔ آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ فوری چوکس تھیں۔
"کیا ہوا؟"
"دودھ نہیں دے رہی۔ تیسرا بچھڑا مر گیا۔ گائے چلاتی ہے۔ پیچھے دیکھتی ہے۔ جیسے کچھ چھین لیا گیا ہو۔"
خاموش رہا۔ "سو جا۔ صبح دیکھیں گے۔"
نہیں گیا۔ دہلیز پر کھڑا رہا۔ ہاتھ میں خالی بالٹی تھی۔ پانچ سال پرانا دھبہ تھا۔ سیاہی کا۔ جس دن پہلی بار تنہا دوہی تھی۔
"ابا، بھیا کہہ گئے تھے — گائے کو سمجھاؤ۔ دودھ نہ دے تو پانی بن جاتی ہے۔"
دہلیز پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بیڑی سلگائی۔
"بھیا نے سنا ہوگا۔ شہر والوں کی باتیں ہیں۔ گائے کو کیا سمجھانا؟ وہ اس لیے دیتی ہے کہ بچھڑا زندہ ہے۔ آنکھوں کے سامنے ہو یا نہ ہو۔"
نگاہ بالٹی پر تھی۔
"ابا، کل بچھڑا دفنایا۔ مٹی ڈالی۔ گائے پاس کھڑی تھی۔ زبان سے ہاتھ چاٹا۔ لمبا۔ جیسے کہہ رہی ہو — تم تو ہو۔"
دھواں پھیلا۔ "گائے دودھ نہیں دیتی، ظہیر۔"
چونکا۔ "کیا؟"
"رات کو دوہنے والے کے ہاتھ دودھ دیتی ہے۔ صبح پلانے والے کو نہیں۔ تیرے بھیا نے کبھی دوہی نہیں۔ وہ پیتا تھا۔ اسی لیے لگا، خودبخود دیتی ہے۔"
بالٹی دونوں ہاتھوں میں تھام لی۔
"تو ابا، کل صبح کون دوہے گا؟"
بیڑی روند دی۔ اٹھ کھڑا ہوا۔
"چل۔ ابھی۔ رات کے تین بجے ہیں۔ گائے تنہا ہے۔ دودھ اتر آیا ہوگا۔ اب نہ دوہا تو خود پی لے گی۔ جیسے مائیں مرے بچے کا دودھ پی لیتی ہیں۔"
آنکھوں میں کچھ تھا۔ وہی جو گائے کی آنکھوں میں تھا۔
باہر نکلے۔ چاند نہیں تھا۔ دیے کا دھواں دار اجالا تھا۔ سائے پیچھے گھسٹ رہے تھے۔
گائے باڑے میں تھی۔ آتے دیکھا۔ آنکھیں کہیں اور تھیں۔ مٹی کی طرف۔ بچھڑے کی طرف۔ جہاں ختم ہو چکا تھا۔
باپ نے بالٹی لی۔ پاس بیٹھ گیا۔ دوہنے لگا۔
پہلا دھار گرا۔ آواز آئی۔ جیسے روتے ہوئے لفظ کہا ہو۔
آنکھیں بند کیں۔ کھولیں تو باپ کی آنکھوں سے پانی تھا۔ بالٹی میں گرا۔ دودھ میں گھلا۔
صبح گاؤں گیا۔ راستے میں طے کیا۔ شہر نہیں جائے گا۔ گائے نہیں چھوڑے گا۔
کیونکہ رات دیکھ لیا تھا:
دودھ اسی کو ملتا ہے جو ساتھ روتا ہے۔
-------------------
مشکل الفاظ کے معنی
دہلیز: دروازے کی چوکھٹ
بیڑی: دیسی سگریٹ
باڑا: جانور باندھنے کی جگہ
دھار: دودھ کا بہاؤ
---

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: