عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

دوسرا دروازہ Doosra Darwaza

بعض دروازے باہر نہیں، اندر کھلتے ہیں۔

مرکزی خیال

مرنے والے خاموش نہیں ہوتے۔ بچ جانے والے بولنا بند کر دیتے ہیں۔


سلیم سوچتا تھا مرنا خاموشی ہے۔  

ثریا کو گئے تین ہفتے ہو گئے۔ تب سمجھ آیا خاموشی زندوں کے لیے بھی ہوتی ہے۔

تکیے پر دھبہ تھا۔ جہاں وہ سر رکھتی تھی۔  

سلیم نے نہیں دھلایا۔ رات کو اسی طرف منہ کر کے لیٹتا۔ صبح دھبہ دیکھتا۔ لگتا سایہ اب بھی ہے۔

بچوں نے پہلے ہفتے پوچھا: "ابا، امی کب آئیں گی؟"  

دوسرے ہفتے: "امی کی چپل وہیں کیوں؟"  

تیسرے ہفتے: کسی نے کچھ نہیں پوچھا۔

وہ بھی نہیں بولتا تھا۔ دفتر جاتا۔ دستخط کرتا۔ چائے پیتا۔ لوٹتا۔  

کھانا بناتا۔ تین پلیٹیں۔ ایک اس کی۔ دو بچوں کی۔  

تھوڑی دیر بعد ایک پلیٹ سنک میں۔ وہ ثریا کی ہوتی۔

پڑوسن بولی: "بات کرنی چاہیے۔ یوں نہیں چلے گا۔"  

دروازہ بند کیا۔ اندر سے آواز آئی: "میں کر رہا ہوں بات۔"

وہ سچ کہہ رہا تھا۔  

رات کو ثریا سے بات کرتا۔ بازار بتاتا۔ بس بتاتا۔ فائل بتاتا۔ جواب کا انتظار نہیں کرتا تھا۔

ایک رات بارش تھی۔ بچے سو گئے۔  

دہلیز پر پانی کا دھبہ دیکھا۔ چھت نہیں ٹپکتی تھی۔

دھبہ بڑھ رہا تھا۔ آہستہ۔ جیسے کوئی اندر سے چھو رہا ہو۔

دروازہ کھولا۔ باہر کوئی نہیں۔ بارش۔ گلی کا لیمپ۔  

دھبہ وہیں تھا۔

دوسرا دروازہ کھولا۔ ثریا کا کمرہ۔ الماری۔ کپڑے۔ چوڑیاں۔ آخری بار نہیں پہنی تھیں۔  

یہاں کوئی دھبہ نہیں تھا۔

تیسرا دروازہ۔ بچوں کا کمرہ۔  

یہاں دھبہ تھا۔ خشک۔ گول۔ پرانا۔ شاید گلاس رکھا تھا۔

واپس آیا۔ دہلیز کا دھبہ غائب تھا۔  

صرف بوندیں کھڑکی پر تھیں۔

پوچھا: "تم تھیں؟"  

خاموشی۔

مسکرایا۔ لیٹ گیا۔ اسی طرف منہ کر کے۔ جہاں دھبہ تھا۔

صبح اٹھا۔ سرہانے ثریا کی چوڑی تھی۔ جو کبھی نہیں پہنی تھی۔  

یاد نہیں تھا کب نکالی۔

چوڑی اٹھا کر بچوں کے کمرے میں رکھ دی۔

چائے بنانے گیا۔  

اس بار چار کپ۔

-----------

مشکل الفاظ کے معنی

دہلیز: دروازے کی نیچے والی جگہ  

دھبہ: نشان  

سنک: برتن دھونے کی جگہ  

لیمپ: روشنی


---


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: