مرکزی خیال:وصیت کاغذ پر نہیں، پسلیوں کے پیچھے دفن ہوتی ہے۔ جب چادر ہٹ جائے تو کپڑے دھوپ میں سوکھ جاتے ہیں۔
چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
ارشاد نے کپ اٹھایا۔ رکھ دیا۔ کھڑکی سے سامنے کی عمارت تھی۔ چودہ نمبر کے فلیٹ کی بالکونی میں بارہ سال سے چادر تنی تھی۔ اجمل خان کی بیوہ۔
"ارشاد، سن رہے ہو؟"
دوسرے کمرے سے آواز آئی۔
"ہاں۔"
"وہ پھر آئے گا آج۔"
"کون؟"
"شہباز۔"
نظریں کھڑکی سے نہ ہٹیں۔ شہباز بھتیجا تھا۔ چھبیس سال کا۔ بے روزگار۔ تین دن پہلے چوری کے الزام میں تھانے سے چھوٹا تھا۔
"اس کا باپ مر گیا،" کہا، "ہماری ذمہ داری ہے۔"
بیوی چوکھٹ پر تھی۔ ہاتھ گیلے تھے۔
"ذمہ داری؟ جب رات دو بجے نشے میں آتا ہے۔ جب بیٹی ڈرتی ہے۔ تب بھی؟"
خاموش رہا۔
اوپر ٹی وی گونجا: "غیرت بچائی ہے میں نے۔" پھر قہقہے۔
مسئلہ غیرت کا نہ تھا۔ پیسے کا بھی نہ تھا۔
مسئلہ اس جملے کا تھا جو بہن مرتے وقت کہہ گئی تھی: "تمہارے پاس ہے ارشاد۔ سنبھال لینا۔ آخری وصیت ہے۔"
پولیس والا کہہ گیا تھا: "چاچا، سیدھا کرو۔ ورنہ اگلی بار اندر ہی رہے گا۔"
"ٹھیک ہے، دیکھ لوں گا۔"
بیوی نے پوچھا، "کیوں؟ اس نے کچھ نہیں دیا۔"
جواب نہ تھا۔ پسلیوں کے پیچھے ایک بھاری چیز دھنکتی تھی۔ شاید غیرت۔ شاید عادت۔ شاید تھکن۔
شام ڈھلی۔
کپڑے بدلے۔ بیٹی بینا کتابوں میں تھی۔ چودہ سال کی۔ آنکھوں کے نیچے حلقے۔ شہباز کے بعد سے سوتی کم تھی۔
باپ نے کچھ نہ کہا۔ بیٹی نے کچھ نہ پوچھا۔
یہ ان کی خاموشی تھی۔ اعلان سے زیادہ بولی۔
رات کو شہباز نہ آیا۔
تین بار فون اٹھایا۔ تین بار رکھا۔ بیوی نے کھانا ڈھانپا۔
"کھاؤ گے؟"
"بعد میں۔"
آدھی رات کو میسج آیا: چچا، پشاور جا رہا ہوں۔ دوست کے پاس۔ کما لوں تو آؤں گا۔
ٹائپ کیا: ٹھیک ہے بیٹا، سنبھل کر۔
ڈیلیٹ کیا۔
ٹائپ کیا: بتائے بغیر نہیں۔
ڈیلیٹ کیا۔
لکھا: اچھا۔
فون بند کر دیا۔
صبح بیوی کھانا پیک کر رہی تھی۔ بینا بیگ اٹھائے کھڑی تھی۔
"اب کیا ہوگا؟" پیٹھ پھیرے پوچھا۔
"جو ہونا تھا ہو گیا۔"
خاموشی رہی۔
"تمہاری بہن مر چکی ہے ارشاد۔"
"جانتا ہوں۔"
"تو پھر؟"
کھڑکی کھولی۔ چودہ نمبر کی بالکونی میں آج چادر نہ تھی۔ کپڑے تھے۔ دھوپ میں پھیلے ہوئے۔
دیر تک دیکھا۔
"مجھے نہیں معلوم۔ بس وہی جو ہمیشہ سے تھا۔"
بینا نے بیگ اٹھایا۔ نکل گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ آواز پوری عمارت میں گونجی۔
کپ میں چائے ڈالی۔ پی لی۔ ٹھنڈی تھی۔ مگر چائے تھی۔
-------------
مشکل الفاظ کے معنی
چوکھٹ: دروازے کا فریم
وصیت: مرنے والے کی آخری بات
پسلیوں کے پیچھے: دل کے اندر، اندرونی بوجھ
حلقے: سیاہ دائرے، نیند کی کمی

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: