عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

دیوار Deewar

بعض مرد کماتے نہیں، کھڑے ہوتے ہیں۔

مرکزی خیال:

مرد کا اصل ہنر دیوار بننا ہے۔ کھڑا رہنا ہے۔


  گھر اینٹوں سے نہیں بنتے۔  

مرد تب سمجھتا ہے جب دیواروں پر خون کے چھینٹے جم جائیں، بغیر زخم کے۔

میرا گھر آہستہ مر رہا تھا۔  

نہ کاغذ۔ نہ عدالت۔ نہ چیخ۔  

وہ موت تھی جیسے مریض سانس لیتا رہے اور اندر سب سڑ جائے۔

باہر سب درست تھا۔  

تنخواہ وقت پر۔ کریڈٹ کارڈ سلامت۔ پہچان تھی۔ عزت نہیں۔  

اندر ایک جنگ تھی۔ نہ محاذ تھا نہ جھنڈا۔  

دو بجھے چہرے۔ بے نور چھت۔ موبائل کی اسکرین پر اجنبیوں کی زندگیاں۔


---


میں نے اسے زندگی کہا۔  

تھکن۔ قسطیں۔ فیس۔  

"چلتا ہے۔ یہی زندگی ہے۔"

ایک رات اس نے اسکرین پر کسی اور عورت کی مہندی دیکھی۔ شوہر کا ہاتھ سر پر تھا۔ قمقمے چیخ رہے تھے: یہی جینا ہے۔  

اس کی آنکھ میں کچھ کرچی کرچی ہوا۔  

شیشہ قالین پر گرا۔ آواز نہیں آئی۔

اس رات سمجھ آیا۔  

یہ لڑائی نہیں تھی۔  

ہاری ہوئی لڑائی کا سوگ تھا۔


---


وہ پہلے کم بولتی تھی۔  

اب چپ رہنے لگی۔  

کم بولنا فطرت ہے۔ چپ رہنا سزا ہے۔

دفتر سے لوٹتا۔ وہ پلنگ پر ہوتی۔ اسکرین کا اجالا۔ چہرہ اندھیرا۔  

"کھانا؟"  

"ہاں۔"  

یہ جواب نہیں تھا۔ یہ اعلان تھا کہ تم اب اندر نہیں آ سکتے۔


---


ایک رات دیر سے آیا۔  

جوتا اتارا۔ پاؤں سے لہو بہہ رہا تھا۔ کنکر چبھا تھا۔ اپنی ہڈی نے کھال ادھیڑی تھی۔  

وہ سو رہی تھی۔ پلکیں بند۔ سانس جاگتی۔

"تم دکھی ہو؟"  

ہنسی۔ وبا جیسی۔  

"بس اکیلی ہوں۔"

جب عورت اپنی ہی چھت تلے کہے کہ اکیلی ہوں، تو تم مرد ہو یا دیوار؟  

میں سو گیا۔ جاگا نہیں۔  

سچ دیکھنے سے بہتر ہے اندھا سو جانا۔


---


صبح وہ باورچی خانے میں تھی۔ چولہا بجھا۔  

"ناشتہ؟"  

"بھوک نہیں۔"

شام کو لوٹا۔ وہیں کھڑی تھی۔  

کلائی تھامی۔ وہ اچھلی۔ جیسے مردہ حرکت کرے۔  

"میں ہوں۔"  

آنکھوں میں دیکھا۔ لگا اب رو دے گی۔  

نہیں روئی۔  

"تم کون ہو؟"

یہ مجھ سے نہیں تھا۔  

اس آدمی سے تھا جو کبھی شوہر کہلاتا تھا۔  

میں چپ رہا۔ خود بھول چکا تھا۔


---


اس رات جیتوں کے جنازے گنے۔  

پیسہ۔ گاڑی۔ عہدہ۔ واہ واہ۔ سب چیخ رہے تھے۔  

اس کے پلنگ کے پاس جو خلا تھا، اسے کوئی خزانہ نہیں بھرتا تھا۔

"اسے کیا دے سکتے ہو جو کبھی دیا ہی نہیں؟"  

جواب آیا:  

"اپنا ہونا۔ پورا۔ بغیر اسکرین کے۔ بغیر بہانوں کے۔"


---


اگلے دن موبائل دراز میں بند کیا۔ تالا لگا دیا۔  

"آج بات کرنی ہے۔"  

"کس بات پر؟"  

"اس پر کہ تم کب ٹوٹی۔"


دیر تک چپ رہی۔  

"جس دن تم نے میرے دکھ کو معمول کا نام دیا تھا۔"

یہ شکایت نہیں تھی۔  

یہ میرے کردار کا کفن تھا۔


---


آہستہ کچھ بدلا۔  

سب نہیں سنورتا۔  

آدمی جینا سیکھ لیتا ہے۔

وقت دیا۔ ٹوٹا پھوٹا۔ ادھورا۔ خاموش۔  

موبائل جیب میں نہیں، دراز میں رہا۔

"یہ تمہارا نیا ڈرامہ ہے۔"  

چپ رہا۔

ایک شام بولی: "تم واقعی بدل گئے۔"  

"نہیں۔ میں وہی ہوں جسے تم نے پہلے دن دیکھا تھا۔ تم نے دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔"

وہ ٹوٹ کر روئی۔  

پہلی بار بغیر لڑائی کے۔ صرف اس لیے کہ کسی نے کہا: میں یہاں ہوں۔


---


آج بھی وہی گھر ہے۔ وہی دیواریں ہیں۔  

شگاف نہیں ہیں۔ نشان ہیں۔  

اس لیے نہیں کہ سب جوڑ لیا۔  

اس لیے کہ ٹوٹنا مان لیا اور کندھا جوڑ کر کھڑے ہو گئے۔


جانا۔  

مرد کا اصل ہنر کمائی نہیں۔  

اصل ہنر یہ ہے کہ جب گھر بکھرنے لگے تو وہ خود دیوار بن جائے۔  

نہ گرجے۔ نہ بھاگے۔ نہ اسکرین کے پیچھے دبکے۔  

بس کھڑا رہے۔  

چاہے پسلیاں خود جوڑنی پڑیں۔

اب جب تھک جاتا ہوں، پوچھتا ہوں:  

"آج میں دیوار تھا یا صرف ایک نام؟"

---------------

مشکل الفاظ کے معنی

قمقمے: چراغ  

کرچی: ٹکڑا  

سوگ: غم  

محاذ: لڑائی کا میدان

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: