
بعض دروازے بند نہیں ہوتے، ہماری آنکھیں دیوار پر جم جاتی ہیں۔
مرکزی خیال:
انسان اپنی بنائی دیواروں اور بند دروازوں میں الجھ کر اصل زندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔ آزادی نہ کھلنے میں ہے نہ بند ہونے میں، آزادی کھلے آسمان میں چلنے میں ہے۔
شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ بڈھا دروازے کے پاس بیٹھا تھا۔ دروازہ بند تھا۔ مگر ہل رہا تھا۔
بچہ آیا۔ بولا، "بابا، یہ کھلتا کیوں نہیں؟"
بڈھے نے کندھا پکڑ لیا۔ "ہاتھ لگا ہے تو دروازہ نہیں ہوتا۔"
بچے نے دیوار دیکھی۔ کائی جمی تھی۔ پوچھا، "یہ کس نے بنائی؟"
"جنہیں اندر جانے سے ڈر لگتا تھا۔"
"اور یہ دروازہ؟"
"جنہیں باہر آنے کا غم تھا۔"
ہوا چلی۔ دروازے کا پھٹکا کھڑکا۔ بڈھا اٹھا۔ بچے کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"جا۔ تجھے نہ دیوار چاہیے نہ دروازہ۔ یاد رکھ، کھلے آسمان تلے جو چلتا ہے وہ بھٹکتا نہیں۔"
بچہ بولا، "اندھیرا ہو رہا ہے۔"
بڈھا مسکرایا۔ "ستارے ہیں۔ تم نے آنکھیں دیواروں پر گاڑ رکھی ہیں۔"
بچہ بھاگ گیا۔
بڈھے نے پلٹ کر دیکھا۔ دروازہ اب بھی بند تھا۔ ہوا پھٹکے سے گزر رہی تھی۔
اسے یاد آیا۔ وہ خود کبھی بچہ تھا۔
---------------
مشکل الفاظ کے معنی
پھٹکا: دروازے کا چھوٹا حصہ جو کھڑکتا ہے
کائی: نمی سے دیوار پر جمنے والی ہری تہ
غم: دکھ، فکر
بھٹکنا: راستہ گم کر دینا
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: