عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

Chehra چہرہ

بعض چہرے شیشے میں نہیں، گزرنے والوں میں رہ جاتے ہیں۔
 

مرکزی خیال
چہرہ نہیں کھوتا۔ دوسروں کی آنکھوں میں بکھر جاتا ہے۔ جو دیکھتے ہیں وہی رہ جاتے ہیں۔


دھول بھری سڑک کے کنارے بوڑھا بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں ٹوٹا شیشہ۔ ایک کونہ غائب تھا۔ جیسے زندگی کا گوشہ کٹ گیا ہو۔
دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں نہیں تھیں۔ بائیں آنکھ سفید تھی۔ دودھ جیسی۔ کوئی عکس نہیں ٹھہرتا تھا۔ لوگ گزرتے۔ کوئی نہ رکتا۔ کوئی نہ پوچھتا۔
شیشے میں اپنا چہرہ ڈھونڈتا۔ شیشہ وہ صورت نہ دکھاتا جو یاد تھی۔ آسمان دیکھتا۔ جیسے بادلوں میں کوئی پرانی شبیہ ہو۔
لڑکی رکی۔ لمبے بال۔ ہوا میں۔ آنکھوں میں سوال۔ ابھی بوڑھا نہیں ہوا تھا۔
"ابا جان، کیا ڈھونڈ رہے ہو؟"  
سر اٹھایا۔ آواز خشک تھی۔ نرم تھی۔ سوکھے پتے جیسی۔
"وہ چہرہ، بیٹی۔ جو میں تھا۔"
"کھو دیا؟"  
شیشہ بڑھا دیا۔
"چہرہ نہیں کھلتا۔ بکھر جاتا ہے۔ دوسروں کی آنکھوں میں۔ میں نے لوگوں میں چھوڑ دیا۔ اب وہ یاد بھی گزر گئی۔"
لڑکی نے شیشے میں دیکھا۔ اپنا چہرہ آیا۔ بوڑھے کا چہرہ بھی۔ دونوں ایک تھے۔ وقت کا دھندلا ملاپ۔ خوفزدہ ہوئی۔ اٹھی۔ پیچھے ہٹی۔
بوڑھا ہنسا۔ آواز نہیں تھی۔ ہونٹ ہلے۔
"اب سمجھی؟ تم وہی ہو جو میں تھا۔ میں وہی ہوں جو تم ہو گی — جب لوگ تم سے گزرنا شروع کریں گے۔"
لڑکی بھاگی۔ موڑ تک گئی۔ مڑ کر دیکھا۔
بوڑھا شیشے میں دیکھ رہا تھا۔ شیشہ خالی تھا۔ اس کا چہرہ نہیں تھا۔ لڑکی کا بھی نہیں۔ صرف دھول تھی۔ جیسے کسی نے پونچھ دیا ہو۔
-------------

مشکل الفاظ کے معنی
شبیہ: عکس، صورت  
دھندلا: مدھم، صاف نہ ہو  
لرزش: ہلکی کپکپی  
سودا: لین دین

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: