![]() |
| بعض چیخیں زبان سے نہیں، خاموشی سے نکلتی ہیں۔ |
مرکزی خیال:عورت ٹوٹتی نہیں۔ اندر ہی اندر کرچی کرچی ہوتی ہے۔ سب سے بڑی چیخ وہ ہے جو نہیں سنی جاتی۔
دوسری منزل کی سیڑھی پر بیٹھی تھی۔
ہاتھ میں پرانا کارڈ تھا۔ کسی شادی کی یاد۔ سوکھی مہندی لگی تھی۔ الٹ پلٹ رہی تھی۔ جیسے مٹی کھود کر ہڈیاں نکال رہی ہو۔
کبھی نہیں بیٹھتی تھی۔
کھڑکی سے باہر دیکھتی۔ چائے بناتی۔ برائی سنتی۔ دو دن سے بس بیٹھی تھی۔ ہاتھ میں کارڈ۔ آنکھوں میں کچھ اور۔
"آج کل کچھ دکھتی ہو؟"
جواب نہیں ملا۔ ایک نظر ملی۔ جیسے سوال ہی غلط تھا۔
رات کو اندھیرا تھا۔ چادر پر کچھ چمک رہا تھا۔ قریب گیا۔ شادی کی انگوٹھی تھی۔ کھڑکی کی سلاخ سے بندھی تھی۔ دھاگے سے۔ چاندنی میں جھول رہی تھی۔ انگوٹھی نہیں تھی۔ پھندا لگ رہا تھا۔
"یہ کیا ہے؟"
"کچھ نہیں۔ بس دیکھ رہی ہوں۔ تم جاؤ۔"
نہیں گیا۔ فرش پر بیٹھ گیا۔
بولی۔ ہلکا۔ دیواروں نے نگل لیا:
"آج شبنم پھوپھی نے کہا... سب کہتے ہیں۔ میری وجہ سے بیٹا نہیں ہوا۔ اس کی بیوی کا دوسرا ہو گیا۔ میرا کب کا ہو جاتا؟"
خاموشی۔
"سوچا، شاید سچ میں کھوکھلی ہوں۔ جیسے کہتے ہیں۔ اندر کچھ رکھتی ہی نہیں۔"
انگلیاں تھام لیں۔ پتلی تھیں۔ شیشے کی طرح۔
"تم نے غور کیا ہے،" بولی، "چیخ کی آواز کیسی ہوتی ہے؟"
"تیز۔"
"نہیں۔ اصل چیخ خاموشی ہے۔ جب کوئی اتنا زخمی ہو کہ آواز نہ نکلے — وہ دوسروں کے منہ سے نکلتی ہے۔"
اس رات نہیں سویا۔
صبح دیکھا۔ انگوٹھی سلاخ سے نہیں بندھی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس تھی۔ چائے پی رہی تھی۔ پہلے جیسی۔
اب پتہ تھا۔ چائے کے ہر گھونٹ میں وزن تھا۔ کسی بے آواز چیخ کا۔
کمرے کی خاموشی بوجھ نہیں تھی۔ زندہ تھی۔ سانس لے رہی تھی۔
--------
مشکل الفاظ کے معنی
کھوکھلا: اندر سے خالی
سلاخ: کھڑکی کی لوہے کی چھڑی
پھندا: گلا دبانے کی پھندے والی رسی
کرچی: ٹکڑے

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: