عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

چادر کے باہر Chadar Ke Bahar

بعض پاؤں چادر سے باہر رہ کر ہی گھر لوٹتے ہیں۔  

مرکزی خیال:
جو پاؤں ہر رات نکالے جاتے تھے وہ اکیلے پن میں بھی باہر ہی رہ گئے۔ سردی یاد بن گئی۔

رات کے تین بجے تھے۔ شہر کی آوازیں مر چکی تھیں۔ کمرے میں گھڑی تھی۔ ٹک ٹک۔ جیسے بوڑھا دل دھڑک رہا ہو۔
اکیلا تھا۔ بیوی دو سال پہلے گئی تھی۔ بچے پردیس میں تھے۔ بستر خالی تھا۔ بوجھل تھا۔
نیند ٹکرا رہی تھی۔ بتی بجھا دی۔
جسم ڈھیلا ہوا۔ پہلے ہاتھ۔ پھر گردن۔ پھر ٹانگیں۔ پھر — بے خبری میں — بایاں پاؤں چادر سے نکلا۔ کھلی ہوا میں آ گیا۔
ہوا نے انگلیوں کو چھوا۔ سنسناہٹ دوڑ گئی۔
چونکا۔ لگا کوئی جگا رہا ہے۔ پھر یاد آیا — اب کوئی نہیں تھا۔
پاؤں نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔
ادھ سوئے ادھ جاگتے میں سوچا: کیوں نکلا؟ گرمی تھی؟ پنکھا چل رہا تھا۔ عادت تھی؟ شاید۔ عادت بھی تو کسی سے سیکھی جاتی ہے۔
یاد آیا۔ جوانی میں بیوی کہتی تھی، "تمہارے پاؤں ہمیشہ باہر رہتے ہیں۔ جیسے تم خود باہر رہنا چاہتے ہو۔"  
ہنستی تھی۔ چادر سمیٹ کر ڈھانپ دیتی تھی۔ پھر نکال دیتا تھا۔
یہ کھیل ہر رات دہرتا تھا۔
آج پاؤں باہر تھا۔ ڈھانپنے والا کوئی نہیں تھا۔
آنکھ کھل گئی۔ جھک کر دیکھا۔ سوکھی ایڑی۔ ٹوٹے ناخن۔ جھریوں بھری جلد۔ وہ پاؤں جو دفتر لے جاتے تھے۔ جھولے جھلاتے تھے۔ پاؤں دباتے تھے۔ جنازے کے پیچھے چلے تھے۔
اب کھلی ہوا میں تھا۔ جیسے مانگ رہا ہو۔ یا دے رہا ہو۔
پاؤں باہر ہی رہنے دیا۔
پہلی بار محسوس کیا۔ سردی تکلیف نہیں تھی۔ یاد تھی۔
صبح تک سویا رہا۔ چادر کے باہر پاؤں۔ بستر کے اندر باقی سب۔
گھڑی رک گئی تھی۔ شاید تین بج کر پانچ منٹ پر۔
--------------

مشکل الفاظ کے معنی
سنسناہٹ: ٹھنڈ کی وجہ سے جسم کا لرزنا  
پردیس: دوسرا ملک، دور کا شہر  
بے خبری: نیند میں بے دھیانی  
ادھ جاگتے: نیند اور بیداری کے درمیان

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: