عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

Budha aur Darakht بوڑھا اور درخت

انسان تھک جائے تو درخت سہارا بنتے ہیں، اور جب درخت تھک جائے تو انسان


مرکزی خیال: تنہائی اور بظاہر بے مقصد صبر کا وہ عمل جو زندگی کو واپس لا سکتا ہے — بغیر کسی فوری نتیجے کے۔


شام ڈھل رہی تھی۔ سورج کی آخری کرنیں درخت کی شاخوں سے ٹکراتی ہوئی زمین پر بکھر رہی تھیں۔ بوڑھا ہر روز اس درخت کے نیچے آتا۔ نہ کوئی اس کے ساتھ آتا، نہ کوئی اس سے ملنے۔

درخت سوکھ رہا تھا۔ پتے زرد، شاخیں جھکی ہوئی، تنے پر گہرے شگاف۔

بوڑھے نے ہاتھ بڑھایا، چھال کو چھوا۔ کھردرا پن انگلیوں میں اتر گیا۔

"تو بھی تھک گیا لگتا ہے،" وہ بولا۔ آواز میں کچھ نہ تھا مگر ہوا کے ساتھ گھل گئی۔

درخت نے جواب نہ دیا۔ درخت کبھی جواب نہیں دیتے۔

شام ڈھل گئی۔ اندھیرا پھیلنے لگا۔ بوڑھا اٹھا، جیب سے ایک خشک روٹی کا ٹکڑا نکالا، درخت کی جڑ پر رکھ دیا۔ پرندوں کے لیے۔

پھر چل دیا۔

رات کو ہوا چلی۔ تیز۔ درخت کی ایک شاخ ٹوٹ کر گری۔ آواز آئی — مگر سننے والا کوئی نہ تھا۔

صبح بوڑھا آیا تو شاخ زمین پر پڑی تھی۔ اس نے دیکھا۔ کچھ دیر کھڑا رہا۔ پھر شاخ کو اٹھایا، اپنے گھر لے گیا۔

لوگ کہتے تھے یہ پاگل ہے۔

بوڑھے نے شاخ کو تراشا، چھیل کر لاٹھی بنائی۔ ہر روز وہ اس لاٹھی کے سہارے درخت کے پاس آتا۔

درخت اور بوڑھا دونوں ساتھ سوکھ رہے تھے۔

ایک دن بوڑھا نہ آیا۔ دوسرے دن بھی نہ آیا۔ تیسرے دن لوگوں نے دیکھا — درخت کی ایک شاخ پر ایک پرندہ بیٹھا تھا، چہچہا رہا تھا۔ شاخ ہری تھی۔

کسی کو پتہ نہ چلا کہ بوڑھا کہاں گیا۔ لیکن لاٹھی اس کے دروازے پر پڑی تھی، جیسے کوئی واپس آنے والا ہو۔


--------------

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
شگافدراڑ، چاک، یا گہرا نشان (جو درخت کے تنے یا دیوار وغیرہ میں آ جائے)
کھردرا پنناہمواری، ایسی سطح جو ملائم یا چکنی نہ ہو
تراشاکاٹ چھانٹ کر کوئی شکل دینا، گھڑنا، یا خوبصورت بنانا
صبر کا عملبرداشت، استقامت، اور بنا کسی جلد بازی کے انتظار کرنے کا طریقہ
مرکزی خیالبنیادی سوچ، لبِ لباب، یا وہ پوشیدہ پیغام جس پر پوری کہانی مبنی ہو


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: