مرکزی خیال:
جب کپڑا بھوکے کا پسینہ رکھے تو درزی کی سوئی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ پیوند والی شال ریشم سے زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے۔
گلی کے آخری موڑ پر بشیر بیٹھا تھا۔ سائیکل کی ٹیوبوں کے دستانے انگلیوں میں تھے۔ مشین کا شور سرد ہوا میں گھل رہا تھا۔
سات بجے کار رکی۔ نوجوان خاتون اتری۔ کوٹ پر دوپٹہ بے ترتیب تھا۔ سلام نہیں کیا۔ کپڑے کا تھیلا پھینک دیا۔
"یہ ساڑھے تین بجے تک چاہیے۔ کل شادی ہے۔"
بشیر نے تھیلا کھولا۔ کمیز پر سوئیوں کے نشان تھے۔ جیسے کئی درزی ٹھکرا چکے ہوں۔ کپڑا ریشم تھا۔ چمک میں جان نہ تھی۔
"اتنی رات میں معمولی کام ہوگا۔"
"تم کرو گے۔" نوٹ مشین کے پاس رکھا۔ "باقی کل۔"
نوٹ نہ اٹھایا۔ کمیز پلٹی۔ پلو پھٹا تھا۔ کچی سلائی کا پیوند تھا۔
پہچان گیا۔ تین روز پہلے بھکاری کی بیٹی نے یہی پہنا تھا۔ وہی پھٹا پلو۔ وہی کپڑا اس نے دیا تھا جب اس کی سلائیاں بکھر گئی تھیں۔
"یہ کمیز کہاں سے ملی؟"
کندھے جھاڑے۔ "والد نے بازار سے لی۔ کسی غریب سے سستی میں۔"
مشین بند کی۔ کمیز تھیلے میں رکھی۔ تھیلا آگے دھکیل دیا۔
"نہیں ہوگی۔"
"کیا؟"
"کمیز نہیں ہوگی۔"
چہرہ سخت ہوا۔ "زیادہ چاہیے؟ بتاؤ کتنا؟"
دستانے اتارے۔ انگلیاں کالی تھیں۔ ناخن صاف۔
"میری سلائی اس کپڑے کو نہیں چھوئے گی جس پر بھوکے کا پسینہ خشک ہو۔ اور تم اسے شادی کی رات پہنو۔"
تھیلا اٹھایا۔ چلی گئی۔ جاتے ہوئے بولی:
"تم جیسے درزی اسی گلی میں مرتے ہیں۔"
مسکرایا۔
مشین کے نیچے سے بیوی کی شال نکالی۔ وہی شال جو ہر رات گھٹنوں پر اوڑھتا تھا۔ شال پر کئی پیوند تھے۔ ہر سلائی سیدھی تھی۔ پختہ تھی۔ قیمتی ریشم جیسی۔
سینے سے لگا لی۔
لالٹین بجھ چکی تھی۔ بیٹھا رہا۔ سامنے کام تھا۔ تین بچوں کے کپڑے۔ پڑوسن کی زخمی چادر۔ بیوی کا دوپٹہ۔ خود بُنے دھاگے کا۔
مشین بند تھی۔ اندھیرے میں بیٹھا رہا۔
کبھی دولت دینے آتی ہے۔ کبھی لینے۔
-----------------
مشکل الفاظ کے معنی
پیوند: جوڑ، مرمت کا ٹکڑا
کچی سلائی: عارضی، کمزور ٹانکا
زخمی چادر: پھٹی، جلی ہوئی چادر
ضمیر: اندر کی آواز، نیت
---
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: