![]() |
| یہ افسانہ خاموشی، اندھیرے اور تنہائی کو محض ماحول نہیں بلکہ کردار کا ایک حصہ بنا دیتا ہے، جس میں قاری خود اپنا سانچہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ |
مرکزی خیال:جو خود کو ڈھونڈنے نکلے وہ اکثر گم ہو جاتا ہے۔ اندھیرا اگر سہارا بن جائے تو روشنی کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے۔
چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ ہر قطرہ الگ تال پر گرتا۔ جیسے کوئی بھولا ہوا گیت بار شروع ہو رہا ہو۔
سلطان نے آخری سگریٹ سلگائی۔ کمرے میں کھڑکی نہیں تھی۔ ایک دروازہ تھا۔ کبھی باہر کھلتا تھا۔ اب اندر جھک کر سو گیا تھا۔
"تم یہاں کیسے رہتے ہو؟" میں نے پوچھا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ دیوار کے ساتھ بیٹھا تھا۔ گھٹنوں کے بل۔ ہاتھ ہل رہے تھے۔ چہرے پر سکون تھا۔ جیسے سمندر کی تہ میں پتھر پڑا ہو۔ لہروں کو اس سے غرض نہ ہو۔
میں نے موم بتی جلائی۔
"بجھا دو۔" اس نے کہا۔
"اندھیرے میں؟"
"اندھیرے میں آنکھیں کھلتی ہیں۔" اس نے ہاتھ بڑھایا۔ انگلیاں پتلی، شفاف۔ ہڈیاں کھال سے جھانک رہی تھیں۔ "دس سال بعد پتہ چلتا ہے۔ روشنی کی ضرورت تمہیں نہیں تھی۔ تمہارے دکھ کو تھی۔"
میں خاموش رہا۔
"نقش بناتا تھا۔" اس نے کہا۔ "شہر کے۔ گلیاں، نالیاں، چوک۔ پھر اپنا نقش بنانے لگا۔ گم ہو گیا۔ کوئی واپس نہیں آیا۔ دوست نہیں۔ رشتے دار نہیں۔ کہتے تھے، خود کو ڈھونڈنے والا مٹ جاتا ہے۔"
"چھوڑنے کی کوشش کی؟" میں نے پوچھا
اس نے لمبا کش لیا۔ دھواں چھت تک گیا۔ بکھر کر دیواروں سے لگ گیا۔ کمرہ دھواں سانس لے رہا تھا۔
"ہر روز کوشش کی۔ یہی ناکامی ہے۔ یہی کامیابی۔"
رات ڈھل گئی۔ موم بتی بجھ گئی۔ میں نے اس کا ہاتھ چھوا۔ گرم تھا۔
صبح اٹھا تو کمرہ خالی تھا۔ دروازہ ویسے ہی بند۔ فرش پر سگریٹ کے بٹ پڑے تھے۔ دائرے میں۔ درمیان میں کھردری تحریر:
"جس نے اندھیرے کو سہارا نہ بنایا، وہ روشنی کا حق دار نہیں۔"
میں نے دائرہ نہیں توڑا۔ اٹھ کر آیا۔ راستے کی ہر گلی اس کا نقش لگ رہی تھی۔
*مشکل الفاظ کے معنی*
شفاف: آرپار نظر آنے والا
سہارا: ٹیک، سہارا دینے والی چیز
حق دار: مستحق، لائق
کش: سگریٹ کا لمبا سانس
---

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: