![]() |
| بعض کنوؤں میں پانی نہیں، خاموشی ہوتی ہے۔ |
مرکزی خیال:جہاں خراٹے کے بعد خاموشی سزا بن جائے وہاں انگوٹھی اتارنا ہی دروازہ ہوتا ہے۔
رات کے تین بجے تھے۔ ثمینہ جاگ رہی تھی۔
خراٹے رکتے ہی نیند اڑ جاتی تھی۔ رکنے کا مطلب تھا — وہ جاگ گیا ہے۔ اور جس لمحے جاگتا، جسم کا ہر پور کھنچ جاتا۔
آج بھی ویسا ہوا۔
آنکھیں بند رکھیں۔ سانس بدلی۔ بےخبری کا ڈرامہ کیا۔ ہونٹ خشک تھے۔ پنکھا چل رہا تھا۔ پسینہ آ رہا تھا۔
"ثمینہ۔"
آواز خشک تھی۔
جواب نہ دیا۔
"ثمینہ، آواز دی ہے۔"
"ہوں…"
"آجا۔"
تین حرف۔ نہ سوال، نہ چاہت۔ حکم تھا۔
آنکھیں کھولیں۔ چھت پر ہک گھوم رہا تھا۔ اٹھارہ، انیس، بیس۔ گنتی کی۔
"میں سن رہا ہوں۔ جاگ رہی ہو۔"
اٹھ بیٹھی۔ بغیر روشنی کے۔ بغیر کلمے کے۔ اٹھی اور چلی گئی۔
ایک گھنٹے بعد دیوار کی طرف تھی۔ آنکھوں سے پانی تھا۔ آواز نہیں تھی۔
"آنسو کا مطلب نفرت ہے۔"
نفرت نہیں کرنا چاہتی تھی۔ خاموش رہنا چاہتی تھی۔
صبح دودھ کی پتی بنائی۔ ایک کپ اس کے لیے، ایک اپنے لیے۔ بڑھایا۔ بغیر دیکھے بولا،
"کل ابو کے بارے میں کیا کہا تھا؟"
جم گئی۔
"کچھ نہیں کہا۔"
"مت جھوٹ بول۔ کہا تھا نا، میرے ابو بہتر ہیں؟"
ہاتھ کانپے۔ کپ میں لہریں اٹھیں۔
"نہیں کہا۔"
کھڑا ہوا۔ سایہ پڑ گیا۔
"یادداشت کمزور ہے۔ شاید ٹھیک کروں۔"
کپ نیچے رکھ دیا۔ انگوٹھی گھمائی۔ چھ سال میں ڈھیلی ہو گئی تھی۔ چھ سال میں سولہ کلو کم ہوئے تھے۔
"میں ماں باپ کے پاس جانا چاہتی ہوں۔"
ٹھٹکا۔
"کیا؟"
"بس دو دن۔"
"جا سکتی ہو۔"
غلط سنا۔
"سچ؟"
"ہاں۔ ایک شرط پر۔"
"کیا؟"
"بہن کو میرے پاس بھیج کر جانا۔"
کپ ہاتھ سے گرا۔ چکنا چور۔ گرم دودھ پاؤں تک پھیلا۔ اندر کہیں اور جل رہا تھا۔
"کیا کہا؟"
"سنا تم نے۔ تین دن وہ رہے گی۔ پھر تم آنا، وہ جائے گی۔"
چہرے کو دیکھا۔ مسکرا رہا تھا۔ وہی مسکراہٹ جو شادی سے پہلے پھولوں کے ساتھ تھی۔
"تم میرے لیے سب کچھ ہو۔"
اب معنی بدل گئے تھے۔
کمرے میں گئی۔ دروازہ بند کیا۔ موبائل اٹھایا۔ ماں کا نمبر۔
ایک۔ دو۔ تین۔ چار۔ کٹ گیا۔
دوبارہ۔
"ثمینہ؟"
"اماں…"
"آواز کیوں بیٹھی ہے؟"
"اماں، شوہر کی پہلی بیوی کا پتہ ہے؟"
خاموشی۔
"بات مت کرو۔"
"کیوں؟"
"وہ خودکشی کر چکی ہے۔"
موبائل گرا۔ فرش پر بیٹھ گئی۔ دودھ کے خشک دھبوں کے پاس۔
روئی۔ آواز نہیں نکلی۔ جیسے اندھے کنویں میں پتھر گرا ہو — آواز آتی ہے، چھپاکا نہیں آتا۔
شام کو آواز آئی، "کھانا کب بنے گا؟"
جواب نہ آیا۔
"ثمینہ!"
دیوار سے لگی تھی۔ گھٹنوں میں منہ۔ ہاتھ میں انگوٹھی۔ پہنی نہیں تھی۔
"تماشا کیا ہے؟"
سر اٹھایا۔ ڈر نہیں تھا۔ تھکاوٹ تھی۔ بہت گہری۔
"آج بہن کو فون کروں گی۔ وہ نہیں آئے گی۔ کل صبح میکے جا رہی ہوں۔"
"اجازت کس نے دی؟"
کھڑی ہوئی۔ ٹانگیں لرز رہی تھیں۔ کھڑی تھی۔
"خود کو دی۔ آج وہ کیا جو تم نہیں کر سکے — عزت کو خوف سے الگ کیا۔"
ہاتھ اٹھا۔
ایک قدم آگے بڑھی۔
"مار دو۔ چہرہ نہیں بدلے گا۔ مگر یاد رکھنا، جب تم سو رہے ہو اور میں جاگ رہی ہوں تو سوچنا کہ وہ پہلی بیوی کس سوچ میں جاگتی تھی۔"
ہاتھ گر گیا۔
بیگ اٹھایا۔ دروازے کی طرف چلی۔ پلٹ کر نہیں دیکھا۔
معلوم تھا۔ روکے گا۔ گالی دے گا۔ معافی مانگے گا۔ دھمکائے گا۔ چھ سال سے یہی تھا۔
اس رات بس اتنا جانتی تھی —
کنویں میں گرنے سے پہلے، ہک کو دیکھا تھا۔
فیصلہ کیا تھا: وہ کنواں نہیں، دروازہ چنے گی۔
-------------
مشکل الفاظ کے معنی
خراٹے: نیند میں آواز
ہک: پنکھا لٹکانے کا کنڈا
مکے: والدین کا گھر
اندھا کنواں: جس میں روشنی نہ ہو، بے آواز گہرائی

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: