عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

آخری پان Akhri Paan

بعض پان منہ میں نہیں، قیمت میں کڑوے ہوتے ہیں۔ 

مرکزی خیال:
جب پان کی قیمت زندگی بن جائے تو مفت کا پان بھی زہر لگتا ہے۔ پھر ہنسی ہانڈی ابال دیتی ہے۔


شیشے پر ہاتھ رکھا۔ انگلیوں کے نشان دھندلے پڑ گئے۔ جیسے شیشہ بھی تھک گیا ہو۔
دکاندار نے سر نہ اٹھایا۔ "ساڑھے تین سو۔"  
"پچاس کا مانگا تھا۔"  
"پچاس والا ختم۔ اب یہی ہے۔"
جیب ٹٹولی۔ سو کا نوٹ نکلا۔ ہتھیلی میں رکا۔ واپس چلا گیا۔  
"بھوک نہیں۔ بس منہ میں میٹھا سا چاہیے تھا۔"  
آخری پان لپیٹا۔ "مٹھائی کھا لو۔"  
"مٹھائی سے پان کی خوشبو نہیں آتی۔"
گلی میں بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ گیند پاؤں سے ٹکرائی۔ بچہ آیا۔ چہرہ دیکھے بغیر بولا، "انٹرویو میں نہیں لگے ابھی تک؟"  
نہ رکی۔ نہ مسکرائی۔ چلتی رہی۔
گھر میں بہن ہانڈی پر تھی۔ آنکھیں دھوئیں سے لال۔  
"پان لایا؟"  
"نہیں۔"  
"کیوں؟"  
فرش پر بیٹھ گئی۔ "پچاس والا ختم۔ اب ساڑھے تین سو والا ہے۔"  
چمچ گھمایا۔ "چائے پی لیں گے۔ پان کے بغیر بھی زندگی چلتی ہے۔"
چائے اٹھی۔ واپس رکھی گئی۔  
رات کو بہن بولی، "کل عید ہے۔"  
"ہاں۔"  
"بازار میں لال جھنڈیاں ہوں گی۔"  
"ہاں۔"  
"تمہارے چہرے پر جھنڈی نہیں ہے۔"  
آنکھیں بند کیں۔ پردے پر گیند اڑی۔ نیچے دکاندار کے ہاتھ میں آخری پان۔
عید کی صبح بہن چھت پر تھی۔ کپڑے دھو رہی تھی۔  
"تم ساری عمر یہی دھوتی رہو گی۔"  
نہ رکی، "اور تم ساری عمر پان مانگتی رہو گی۔"  
اندر آئی۔ الماری میں پرانی شال تھی۔ سونگھی۔ کسی عید کی خوشبو آئی۔ نام یاد نہ تھا۔  
باہر آواز آئی، "چاند رات کو چاند نہیں نکلا!"  
"یہاں کبھی نکلتا ہی نہیں۔"
شام تک تین بار چائے بنی۔ تینوں بار پان کے بغیر۔  
تیسری بار بہن نے پوچھا، "تمہیں پان چاہیے تھا یا ساڑھے تین سو والی زندگی؟"  
دستک ہوئی۔  
پڑوسن تھی۔ رکابی ہاتھ میں۔ "عید کا کھانا۔"  
رکابی کے نیچے کاغذ تھا، "کل کی پان کی قیمت ساتھ ہے۔"  
کاغذ کھلا۔ پان نکلا۔ چھوٹا۔ سستا۔ پچاس والا۔
منہ میں رکھا۔  
میٹھا نہ تھا۔ کڑوا تھا۔ برسوں کا تھوک ہوا زہر جیسا۔  
چبایا۔  
بولی، "کل وہیں جاؤں گی جہاں پان مفت ملتا ہو۔"  
بہن ہنسی۔ ایسی ہنسی کہ ہانڈی ابل کر باہر آ گئی۔
-------------
مشکل الفاظ کے معنی
دھندلا: صاف نہ ہونا، مبہم  
ہانڈی: سالن پکانے کا برتن  
کاغذ میں لپیٹنا: پتے میں باندھنا  
ابلنا: جوش سے باہر آنا

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: