![]() |
| بعض تالیاں سنائی نہیں دیتیں، گونجتی ہیں۔ |
مرکزی خیال:جب لفظ تالی کے لیے لکھا جائے تو اندر کی آواز بہری ہو جاتی ہے۔ خالی صفحہ آخری سچ بولتا ہے۔
محفل سے اٹھا۔ تالیوں کی گونج کان میں تھی۔ ہال کا دروازہ بند ہوا۔ باہر کی خاموشی چبھ گئی۔
گھر پہنچا۔ بتی جلائی۔ آئینے میں وہی چہرہ تھا۔ جھریاں۔ مانوس آنکھیں۔ بیچ میں خلا۔
بیس برس پہلے یہی کمرہ تھا۔ فرش پر کاغذ۔ ہاتھ میں قلم۔ کوئی نہ جانتا تھا۔ کوئی نہ بجاتا تھا۔ لکھتا تھا کیونکہ اندر کچھ بولتا تھا۔
پھر ایک شام تحریر پڑھی گئی۔ دو تالیاں بجیں۔ وہ رات گہری سو گیا۔
اس کے بعد تالی عادت بنی۔ عادت ضرورت بنی۔ ضرورت بھوک۔
اب لکھتا تو کان گنتے۔ لفظ وہ چنتا جو بجے۔ جو سچ ہو وہ رہ جاتا۔ قلم اٹھتا تو پہلا سوال یہ ہوتا: لوگ سنیں گے؟
آہستہ آہستہ وہ آگ بجھ گئی جو تنہائی میں سلگتی تھی۔
ایک دن ڈائری کھولی۔ پہلا صفحہ: "میں لکھتا ہوں کیونکہ میرے اندر کچھ بولتا ہے۔"
صفحہ پلٹا۔ خالی۔ باقی سب بھی خالی۔
اگلی محفل گیا۔ کرسی وہی تھی۔ مائیک تھاما۔ پہلا شعر پڑھا — تالیاں۔ دوسرا — تالیاں۔ تیسرے پر آواز بیٹھ گئی۔ لوگ پھر بھی بجائے گئے۔ اٹھا۔ واپس آ گیا۔
گھر آیا۔ بتی نہ جلائی۔ اندھیرے میں بیٹھا رہا۔ باہر بچے نے ہارن بجایا۔ پھر چپ۔
کمرے کی خاموشی کچھ کہہ رہی تھی۔ سن نہ سکا۔
صبح آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔ مسکراہٹ وہی تھی۔ آئینے میں کوئی اور تھا۔ خالی قالب۔ کان اب بھی کسی تالی کے منتظر۔
------------------
مشکل الفاظ کے معنی
گونج: آواز کا لوٹنا
خلا: خالی جگہ، کمی
قالب: خول، کھوکھا
سلگنا: دھیمی آگ میں جلنا
---

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: