عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

Aakhri Raseed آخری رسید

بعض قرض رسیدوں میں نہیں، انسانوں کے بیچ محفوظ رہتے ہیں۔

مرکزی خیال:
احسان اور وفاداری کا حساب پیسے سے نہیں، کردار سے چُکتا ہے۔ جو قرض ہم بھول جاتے ہیں، انسانیت یاد رکھتی ہے۔
(1)
بارش تھم چکی تھی مگر بازار کی تنگ گلیوں میں نمی ابھی تک سرایت کیے ہوئے تھی۔ ہوا میں گیلے کپڑوں اور مٹی کی بو تھی۔ ناصر نے کنڈی لگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ کھل گیا۔
سیمنٹ کی سفیدی مائل داڑھی والا ایک بوڑھا آدمی اندر آیا۔ اس کے جوتے سے گیلی مٹی ٹپک رہی تھی۔ ہاتھ میں ایک پرانی، بوسیدہ رسید تھی جسے وہ بے چینی سے انگلیوں کے درمیان سیدھا کرتا رہا۔ اس کی آنکھیں اداس اور تھکی ہوئی تھیں مگر ان میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
"بیٹا، یہ پنکھا ہے؟" اس کی آواز نرم مگر بھاری تھی۔
ناصر نے رسید لی۔ دو دن پہلے اس نے ایک استعمال شدہ پنکھا سات ہزار روپے میں آن لائن فروخت کے لیے لگایا تھا۔
"ہے، بابا جی۔"
بوڑھے نے کانپتے ہاتھ سے جیب ٹٹولی۔ ہزار کے نوٹ، سو کے نوٹ، پچاس کے پرانے نوٹ ایک ایک کر کے کاؤنٹر پر رکھنے لگا۔ کاغذ کی رس رس کی آواز دکان کی خاموشی میں عجیب سی گونج رہی تھی۔
"چھ ہزار ہیں بیٹا۔ اگر ہو جائے تو..." اس کی آنکھوں میں ایک عاجزی تھی۔
ناصر نے پنکھے کی طرف دیکھا۔ نیا نہیں تھا، مگر کام کرنے کے قابل تھا۔
"سات سے کم نہیں، بابا۔"
بوڑھا خاموش ہو گیا۔ باہر ایک رکشہ گزرا، اس کے شور نے چند لمحے کی خامشی توڑی مگر پھر وہی سناٹا چھا گیا۔
"ٹھیک ہے۔ ایک ہزار اور لے آتا ہوں۔" وہ آہستہ سے مڑا اور باہر نکل گیا۔
ناصر نے کندھا اچکایا اور رجسٹر کھول لیا۔
(2)
اگلی دوپہر وہی بوڑھا سانس پھولاتا ہوا آیا۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھیں اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے ایک ہزار کا نوٹ کاؤنٹر پر رکھا۔
"پورے ہیں بیٹا، پورے۔"
ناصر نے پنکھا اتار کر اس کے حوالے کیا۔ بوڑھے نے اسے ایسے تھاما جیسے شیشے کا کوئی نازک ٹکڑا ہو۔
"شکریہ بیٹا۔ اللہ تمہیں خوش رکھے۔" وہ مڑا۔
ناصر کی نظر اس کے جوتے پر اٹک گئی۔ تلا آدھا الگ تھا، پیر کی انگلیاں باہر جھانک رہی تھیں۔
دروازے پر ناصر نے بے اختیار پوچھا، "بابا، گھر کا پنکھا خراب تھا؟"
بوڑھا رک گیا۔ اس کے کندھے جھک گئے۔ چند سانس خاموش رہا۔ پھر اس کے ہونٹ ہلے مگر آواز نکلنے میں تھوڑی دیر لگی۔
"نہیں بیٹا۔ بیوی سرکاری وارڈ میں ہے۔ گرمی بہت ہے۔ رات کو سانس گھٹتی ہے۔ اس کے بستر کے پاس لگا دوں گا۔"
ناصر کے ہاتھ کاؤنٹر پر جم گئے۔
"اس عمر میں مزدوری کرتے ہو؟"
بوڑھا ہنسا، مگر اس کی ہنسی میں پرانے دروازے کی چرچراہٹ تھی۔
"پچپن سال ساتھ گزارے ہیں۔ اب دو اینٹیں اور اٹھ جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟"
وہ پنکھا سینے سے لگائے دھیرے دھیرے چلا گیا۔
(3)
رات کو ناصر نے دراز کھولی۔ ایک پرانا کاغذ سرک کر گرا۔ وہی رسید تھی۔ اس نے اسے پلٹا تو پیچھے کی طرف پنسل سے لکھا تھا:
"سات ہزار ادا کر دیے۔ باقی قرض زندگی نے اتار دیا۔"
نیچے تاریخ تھی اور ایک نام۔
ناصر نے نام پڑھا تو اس کی سانس رک گئی۔ اس کے والد کا نام تھا۔
اچانک اسے یاد آیا۔ برسوں پہلے یہی آدمی اس کے والد کے ساتھ مزدوری کرتا تھا۔ جب والد بیمار پڑے تھے تو مہینوں تک یہی شخص ان کے گھر راشن پہنچاتا رہا تھا۔ ناصر اس وقت چھوٹا تھا۔ وہ سب کچھ بھول چکا تھا۔
ناصر کرسی پر بیٹھ گیا۔ شیشے پر پھر بارش ٹپکنا شروع ہو گئی تھی۔ اس کا دل بوجھل ہو گیا۔
اسے اچانک سمجھ آ گیا۔ بعض لوگ رقم واپس نہیں لیتے۔ وہ حساب برابر کرنے آتے ہیں۔

---------


مشکل الفاظ کے معنی
رسید: ادائیگی کا ثبوت، پرچی
سرکاری وارڈ: سرکاری ہسپتال کا عام کمرہ
کندھا اچکانا: لاتعلقی کا اشارہ
چرچراہٹ: پرانی چیز کے کھلنے کی آواز
بوسیدہ: پرانی اور خستہ حال
سرایت: اندر تک پھیل جانا
عاجزی: انکساری

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: