عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

آخری پتہ Aakhri Patta

بعض انتظار مٹی کے نیچے دفن ہوتے ہیں، مٹی پر نہیں۔ 


مرکزی خیال:
جو پیار بغیر نشان رہ جائے وہ مکان میں بس جاتا ہے۔ دیوار خالی نہیں ہوتی۔ وہ انتظار سے بھری ہوتی ہے۔

شام تھی۔ اندھیرا دھیرے دھیرے کمرے میں گھس رہا تھا۔ بوڑھا کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ کتاب کے صفحے پلٹ رہا تھا۔ آنکھیں الفاظ پر نہ ٹھہریں۔
سامنے دیوار پر خالی جگہ تھی۔ وہاں تصویر لگی تھی۔ اس نے خود اتروا دی تھی۔
بیٹے نے کہا تھا، "ابا، شہر چھوڑ دو۔ ہمارے پاس آ جاؤ۔ علاقہ ویران ہو رہا ہے۔"  
جواب نہیں دیا تھا۔
اٹھا۔ الماری سے چابی نکالی۔ پچھلے کمرے میں گیا۔ فرش کا پتھر اٹھایا۔ نیچے مٹی کا گڑھا تھا۔ اس میں لوہے کی صندوقچی تھی۔ زنگ آلود۔
کھولی۔ اندر ساڑی کا ٹکڑا تھا۔ بالیاں تھیں۔ ایک خط تھا۔ تاریخ: 15 اگست 1947۔
کاغذ پر ایک جملہ باقی تھا: "میں واپس آؤں گا، بس تم یہیں رہنا۔"
ساڑی چہرے سے لگائی۔ کمرے میں خاموشی تھی۔ دل کی دھڑکن سنائی دی۔ باہر گلی سے بچہ روتا ہوا گزرا۔ پھر سب خاموش ہو گیا۔
صبح محلے والوں نے دیکھا۔ گھر کھلا تھا۔ بوڑھا نہیں تھا۔ چائے کی پیالی آدھی بھری تھی۔ کتاب کھلی تھی۔ دیوار پر تصویر پھر لگی تھی۔ ایک عورت کی۔ ہلکی مسکراہٹ۔
لوگوں نے کہا، "ڈھونڈنے چلا گیا ہوگا؟"
شام کو ہوا آئی۔ تصویر کے کنارے لہرائے۔ کسی کو پتہ نہ چلا وہ کہاں گیا۔ اس دن کے بعد گلی میں کوئی بغیر وجہ کے نہ رکا۔
------------------
مشکل الفاظ کے معنی
صندوقچی: چھوٹا صندوق  
زنگ آلود: زنگ لگا ہوا  
گڑھا: مٹی کا کھڈا  
لہرانا: ہلکا ہلنا

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: