![]() |
| بعض مٹھیاں فالج سے نہیں، فیصلے سے کھلتی ہیں۔ |
مرکزی خیال:جسم مفلوج ہو، ہاتھ بے کار ہو، تب بھی مٹھی کا فیصلہ اپنا ہوتا ہے۔ تھامنا ہے یا چھوڑنا ہے۔
رات کے تین بجے تھے۔ کھڑکی سے لالٹین کی مدھم روشنی تھی۔ منشی سعادت حسن سو نہیں سکے۔
بستر کے کنارے بیٹھے۔ بائیں ہاتھ کو دیکھا۔ چالیس سال پہلے مٹی چھوئی تھی اس نے۔ جناح گارڈنز میں پہلا گلاب لگایا تھا۔ رام چند کو گرنے سے تھاما تھا۔
اب بے کار تھا۔
ڈاکٹر نے کہا تھا۔ "فالج تھا۔ بازو ختم۔ امید نہیں۔"
اس ہاتھ نے دستخط کیے تھے۔ بیوی کا آخری سانس تھاما تھا۔ بیٹے کا کندھا چھوا تھا۔ "ابا، امریکہ جا رہا ہوں۔ پتہ نہیں۔"
کونے میں گلدان تھا۔ سوکھا گلاب۔ پہلا گلاب۔
اٹھے۔ دائیں ہاتھ نے بائیں بازو تھاما۔ دروازے کی طرف بڑھے۔
فون بجا۔
"منشی صاحب؟ سیٹھ آفتاب۔ کل اکاؤنٹ بند ہوگا۔ شناخت کے کاغذات لے آئیں۔"
"دستخط کرنے ہیں؟"
"ہاں۔ ضروری ہیں۔"
بائیں ہاتھ کو دیکھا۔
"سیٹھ صاحب، دستخط نہیں کر سکتا۔"
خاموشی۔
"قانونی تقاضا ہے۔"
"بایاں ہاتھ فالج کا شکار ہے۔"
"دایاں؟"
"دایاں بیچ دیا تھا۔ بیوی مری تھی۔ بیٹا گیا تھا۔ رام چند مرا تھا۔"
فون رکھ دیا۔
چار بجے نکلے۔ گلی خاموش تھی۔ جناح گارڈنز گئے۔
درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ جہاں رام چند چائے پیتا تھا۔
رام چند نے کہا تھا۔ "سعادت، ہاتھ مضبوط ہیں۔ جب کوئی پکارتا ہے تو ہاتھ کھلتا ہے۔ جب چھوڑ جاتا ہے تو مٹھی بن جاتا ہے۔"
بائیں ہاتھ دیکھا۔
بے جان۔
مٹھی بند تھی۔ کھل نہیں رہی تھی۔
دائیں ہاتھ سے کھولی۔ انگلیاں جکڑی تھیں۔
اندر کچھ تھا۔
سوکھا گلاب۔ رام چند کی جیب میں رکھا تھا۔
صبح مالی آیا۔ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ دایاں ہاتھ بائیں مٹھی پر تھا۔ آنکھیں بند تھیں۔
قریب گیا۔
بائیں مٹھی کھلی تھی۔ جیسے کسی کا ہاتھ تھاما ہو۔
مٹھی میں کچھ نہیں تھا۔
سوکھا گلاب نہیں تھا۔
شاید چھوڑ دیا تھا۔
یا شاید تھام لیا تھا۔
--------------
مشکل الفاظ کے معنی
مفلوج: جس کا عضو کام نہ کرے
ماتمی پنشن: مرنے والے کے گھر والوں کو ملنے والی پنشن
فالج: جسم کا ایک حصہ بے حس ہو جانا
تقاضا: مطالبہ
---

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: