عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

آخری خط Aakhri Khat

خط وقت میں اٹک جائے وہ ڈاک سے نہیں پہنچتا۔ 

مرکزی خیال:
جو خط وقت میں اٹک جائے وہ ڈاک سے نہیں پہنچتا۔ وہ نام میں پہنچ جاتا ہے۔

بارش رک چکی تھی۔ چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ زبیر نے مٹی جھاڑی۔ پرانی پیٹی کا آخری تالا ٹوٹا۔
اندر ایک چیز تھی۔  
زرد لفافہ۔ سوکھے پتے جیسا۔ دھندلے لفظ: "فرید — امرتسر سے لاہور"  
ٹکٹ نہیں تھا۔ مہر تھی۔ صرف "1947" پڑھا جا سکا۔
لفافہ کھلا۔ کاغذ نکلا۔ بوسیدہ۔ چھونے سے ڈر لگا۔ پڑھا۔
"فرید،  
تم جب پڑھو گے، میں شاید نہ ہوں۔ یا نام بدل چکا ہو۔  
ایک بات جان لو — وہ رات نہیں بھولی۔ جب کہا تھا، سرحدیں سیاست دانوں کے لیے ہیں۔  
تم غلط تھے۔  
سرحدیں ہمارے لیے تھیں۔ ہمیں الگ کرنے کے لیے۔  
والد نے کہا، مسلمان ہو تو لاہور جاؤ۔ ہندو ہوں تو امرتسر رہو۔ ہم تو انسان تھے۔  
آخری بار اسٹیشن پر دیکھا۔ کہا تھا: خط لکھنا۔  
یہ آخری خط ہے۔  
ملے تو جان لینا — ستر سال انتظار کیا۔ پچھلے مہینے شادی ہو گئی۔ کسی اور سے۔  
لیکن تم سے پہلے نہیں۔  
زارین"
آخر میں دھبہ تھا۔ آنسو یا بارش۔
دو بار پڑھا۔ تین بار پڑھا۔  
پتہ گوگل کیا۔ انارکلی، لاہور، 12۔ مکان تھا۔
اگلی صبح گیا۔  
مکان خستہ تھا۔ دروازے پر نیا تالا۔ دستک دی۔ عورت نے کھولا۔ ساٹھ سال کی۔ آنکھوں میں پرانی تصویر جیسی تھکاوٹ۔
"فرید کہاں ملیں گے؟"  
"والد تھے۔ پانچ سال پہلے مر گئے۔"
دل بیٹھ گیا۔ خط بڑھایا۔  
پڑھا۔ چہرہ نہ بدلا۔ اندر گئی۔ ڈائری لائی۔
"والد کی ڈائری ہے۔ ہر 15 اگست کو لکھتے تھے۔"
کھولی۔ آخری صفحہ۔ ہر سال ایک جملہ:  
"زارین کا خط نہیں آیا۔ شاید بھول گئی۔"  
آخری سال:  
"زارین کا خط نہیں آیا۔ اب شاید نہیں رہی۔"
"آپ کا نام؟"  
"زرین۔ والد نے رکھا تھا۔"
خط دوبارہ پڑھا۔ نیچے مٹے الفاظ تھے:  
"P.S. — بیٹی کا نام زرین رکھا ہے۔ ملو تو بتانا، اس کے والد نے پہلے محبت کی تھی۔"
زرین کی طرف دیکھا۔ حیرت نہیں تھی۔ خاموشی تھی۔ ستر سال پرانی۔
"یہ خط والد نے نہیں دیکھا۔ ڈاک میں کھو گیا۔ شاید سرحد پر روک لیا۔"
زرین نے خط لیا۔ سینے سے لگایا۔  
"مرتے دم تک انتظار کرتے رہے۔ امی کہتی تھیں، ایک خط ہے جو کبھی نہیں آیا۔"
رات کمرے میں بیٹھا۔ تصویر کھینچی۔ نوٹ بک میں لکھا:  
"خط کو پچہتر سال لگے۔ عورت نے ستر سال انتظار کیا۔ آدمی امید پر مرا۔ بیٹی کا نام اُس محبت پر جو ملی نہیں تھی۔"
قلم رکھ دیا۔  
باہر پھر بارش شروع ہو گئی تھی۔
--------------

مشکل الفاظ کے معنی
بوسیدہ: پرانا، گلنے کے قریب  
خستہ: ٹوٹا پھوٹا، کمزور  
دھبہ: داغ، پانی یا آنسو کا نشان  
سرحد: دو ملکوں کی لکیر

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: