![]() |
| بعض دعائیں پھاڑنے سے پہلے ہی پھیل چکی ہوتی ہیں۔ |
مرکزی خیال:جو جلانے آتا ہے وہ راکھ سے روشنی لے جاتا ہے۔ دعا پھاڑ دی جائے تب بھی پہلی سطر ہوا میں رہ جاتی ہے۔
بیمار خانے کی سفید دیواریں کھانسی نہ روک سکیں۔
وہ اکیلا تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔
باہر برف تھی۔ اندر سردی۔ بیڈ کے پاس پرانی ڈائری تھی۔ پنے پیلے تھے۔ لفظ جل رہے تھے۔
قلم اٹھایا۔ ہاتھ کانپ رہا تھا۔
"آج وہ آیا تھا۔
نہیں، وہ نہیں — اس کی شکل میں کوئی اور تھا۔ پچھلے پہر دستک ہوئی۔ لگا موت ہے۔ دروازہ کھلا۔ وہ کھڑا تھا۔ میرا شاگرد۔ جسے آخری کتاب میں باغی کہا تھا۔
جس نے تحریں جلا کر راکھ کا تکیہ بنایا۔ مقدمہ کروایا۔ کہا تھا — بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔
وہ آج رویا۔ معافی مانگی۔
میں نے کہا — دروازہ بند ہے؟
"جی۔"
"تو کس سے مانگ رہے ہو؟ میں تو تنہا ہوں۔"
خاموش رہا۔ چلا گیا۔
جانے کے بعد دیکھا — ڈائری کے تین پنے پھٹے تھے۔ وہ پنے جن پر اس کے لیے دعا لکھی تھی۔
آج رات مر رہا ہوں۔ پھاڑے ہوئے پنوں میں دعا کی پہلی سطر اب بھی تھی:
اے میرے رب، اسے اتنا زور دے کہ وہ میرے بغیر چل سکے۔"
برف رک گئی تھی۔
چراغ جل رہا تھا۔ دیکھنے والا کوئی نہ تھا۔
صبح نرس آئی۔ بستر خالی تھا۔
میز پر کاغذ تھا۔ اس پر راکھ کا ہلکا دھبہ۔ اور سیاہی کا ایک نقطہ۔
--------------
مشکل الفاظ کے معنی
بیمار خانہ: ہسپتال
پہلا پہر: دن کا ابتدائی حصہ
دھبہ: نشان
نقطہ: سیاہی کا ایک قطرہ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: