سرکاری ملازمت کی چھیالیس سالہ طویل مسافت اور زندگی کی پگڈنڈیوں پر بیس سال کا تدریسی گرد و غبار میری آنکھوں میں جم چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ کر جب مجھے آبائی شہر کے ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر بنا کر بھیجا گیا، تو مجھے لگا میں اپنے ماضی کی گلیوں میں واپس آگیا ہوں۔ ان بیس برسوں میں سینکڑوں چہرے میری کلاسوں سے گزرے، دھندلائے اور مٹ گئے۔ اب اگر ان میں سے کوئی میرے سامنے بھی آ کھڑا ہو، تو میں نام اور شکل کی پہچان سے قاصر ہوں گا۔ لیکن مونا... مونا کا نام ذہن میں آتے ہی آج زندگی میں پہلی بار میرے ہاتھ اپنی ذاتی ڈائری کا سفید صفحہ کھولنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس کی خبرِ مرگ نے میرے اندر اس پرانے خوف کی راکھ کو پھر سے کرید دیا ہے جو بیس سال پہلے مٹی میں دب گیا تھا۔
یہ تب
کا واقعہ ہے جب میں بی اے کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں بھٹک رہا تھا اور پیٹ کا
دوزخ بھرنے کے لیے شام کو کچھ بچوں کو ان کے گھر جا کر ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ وہ
جولائی کی ایک حبس زدہ، سنگین رات تھی۔ آسمان کے پیٹ میں ایسی مروڑ اٹھی کہ بادل
کھل کر برسے اور بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ میں اپنے ایک شاگرد کے ہاں رکا
ہوا تھا کہ شاید مینہ تھمے، لیکن جب رات کے دس بج گئے تو میں نے مجبوراً اندھیری،
جل تھل ہوتی سڑک پر قدم رکھ دیا۔ سڑکیں دریا بن چکی تھیں، کوئی سواری دور دور تک
نہ تھی۔ میں نے وقت اور مسافت بچانے کے لیے اس ویران کچے راستے کا انتخاب کیا جو
شہر کے پرانے قبرستان کے بیچ سے گزرتا تھا۔
جب میں
قبرستان کی شکستہ چاردیواری کے پاس پہنچا، تو مینہ کا زور کچھ ٹوٹ چکا تھا، مگر
درختوں سے ٹپکتی بوندیں اور ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں۔ قبرستان کے گہرے
اندھیرے میں داخل ہوتے ہی میرے قدم جم گئے۔ مٹی کی سوندھی بو کے درمیان ایک دھیمی،
لرزتی ہوئی نسوانی آواز تیرتی ہوئی آ رہی تھی۔ کوئی لڑکی کسی سے محوِ گفتگو تھی۔
اس طوفانی رات اور چٹیل خاموشی میں یہ آواز مہیب تھی۔ میرے ذہن میں فوراً پچھلے
ہفتے کا اخبار کوند گیا—اسی قبرستان سے ایک نو عمر لڑکی کی لاش ملی تھی، جسے ہوس
کا نشانہ بنا کر مار دیا گیا تھا۔ کیا آج پھر کوئی بھیڑیا کسی معصوم کو بہلا پھسلا
کر یہاں لے آیا ہے؟
میں نے
سانس روکی اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ آواز کی سمت کا تعین کرنا
مشکل تھا کیونکہ اندھیرا ایک سیاہ چادر کی طرح قبروں پر تان دیا گیا تھا۔ ابھی میں
آگے بڑھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ چند گز دور ایک ہیولا ابھرا۔ بارش میں بھیگا ہوا،
کانپتا ہوا وجود۔ وہ ایک لڑکی تھی جو تیز تیز ڈگ بھرتی ہوئی قبرستان کے عقبی راستے
سے باہر نکل رہی تھی۔ میں نے اس کا پیچھا کرنے کے بجائے اس جگہ جانا بہتر سمجھا
جہاں وہ کھڑی تھی۔ میں اس مرد کو پکڑنا چاہتا تھا جو اس بھیگی رات میں وہاں موجود
تھا۔ مگر جب میں اس کیچڑ زدہ قبر کے پاس پہنچا، تو وہاں کوئی نہ تھا۔ لالٹین کی
دھیمی روشنی—جو دور سڑک کے کھمبے سے آ رہی تھی—میں نے دیکھا کہ قبر کے سرہانے صرف
ایک ہی انسان کے پاؤں کے نشان تھے، جو اسی لڑکی کے چھوٹے جوتوں کے تھے۔ کوئی دوسرا
نشان، کوئی دوسرا وجود وہاں موجود ہی نہ تھا۔
میں
بوکھلا کر پیچھے مڑا۔ وہ لڑکی اب قبرستان سے نکل کر سامنے والی گلی کی طرف جا رہی تھی
جہاں پانی گھٹنوں تک کھڑا تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اس کے پیچھے لپکا۔ میں دو
دو فٹ گندے پانی کو چیرتا ہوا اس کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ اچانک فضا میں ایک
عجیب سا دباؤ ابھرا۔ مجھے لگا جیسے ہوا ٹھوس ہو گئی ہے۔ کسی نادیدہ، غضب ناک وجود
نے میرا راستہ روک لیا۔ پہلے میں نے اسے اپنا وہم سمجھا اور آگے بڑھنا چاہا، لیکن
اگلے ہی پل ہوا سے وزنی اور اندھے گھونسے اور تھپڑ میرے چہرے پر برسنے لگے۔ وہ
ضربیں اتنی حقیقی اور وحشیانہ تھیں کہ میری ہڈیاں چٹخنے لگیں۔ میں اس نادیدہ سائے
کے سامنے گھٹنوں کے بل گر پڑا اور رحم کی منتیں کرنے لگا۔ میری چیخ و پکار سن کر
پاس کے بند مکانوں کی کھڑکیاں کھلیں اور کچھ لوگ لالٹینیں لے کر باہر نکل آئے۔
لوگوں کی آہٹ پاتے ہی وہ نادیدہ دباؤ یکدم ختم ہو گیا۔ جب لوگوں نے میری حالت دیکھ
کر پوچھا، "بابو جی! کیا ہوا؟" تو میں نے شرمندگی اور خوف کے مارے جھوٹ
بول دیا، "کچھ نہیں... پانی میں پیر پھسل گیا تھا..."
لوگوں
نے مجھے پانی پلایا۔ میرے اندر اب اس لڑکی کے پیچھا کرنے کی سکت تھی نہ خواہش۔ وہ
کوئی انسان نہیں تھی، یا پھر وہ کسی ایسی قوت کے حصار میں تھی جس کے بارے میں سوچ
کر ہی میری روح کانپ رہی تھی۔ میں نے لرزتے ہاتھوں سے درود شریف کا ورد شروع کیا
اور ڈرا ڈرا، لنگڑاتا ہوا اپنے گھر پہنچا اور بغیر کچھ کھائے پیے بستر پر ڈھیر ہو
گیا۔
اس
واقعے کے ایک ہفتے بعد مجھے شہر کی ایک نامور اکیڈمی میں شام کی کلاسوں کو پڑھانے
کی ملازمت مل گئی۔ جب میں پہلے دن کلاس روم میں داخل ہوا اور حاضری کے لیے اٹیڈینس
رجسٹر کھولا، تو اگلی ہی بینچ پر بیٹھے چہرے کو دیکھ کر میرے ہاتھ سے چاک گرتے
گرتے بچا۔ وہ وہی لڑکی تھی! مونا... میری کلاس کی سب سے خاموش اور ذہین طالبہ۔
پہلے چند دن تو میں اس خوف سے کانپتا رہا کہ کہیں کلاس روم کی چاردیواری میں بھی
وہ نادیدہ سایہ مجھ پر حملہ آور نہ ہو جائے، لیکن استاد کی جرات نے آخرکار خوف کو
مغلوب کر دیا۔
ایک دن
کلاس ختم ہونے کے بعد میں نے اسے روک لیا۔ پہلے تو وہ اکیلی پا کر مجھ سے کترانے
لگی، اس کی آنکھوں میں ایک گہرا، پرانے کنویں جیسا خوف تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اس
رات کا پورا احوال سنایا اور اپنے چہرے کے نیلے نشان دکھائے، تو اس کے ضبط کا
بندھن ٹوٹ گیا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور دھیمی آواز میں اعتراف کیا، "سر! وہ
میں ہی تھی۔ لیکن میں وہاں کسی برے ارادے سے نہیں گئی تھی... میں تو اپنے پاپا کی
روح سے ملنے جاتی ہوں۔"
میری
ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسنی دوڑ گئی۔ "روح؟ مونا، یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟"
اس نے
اپنی بڑی بڑی اداس آنکھیں مجھ پر ٹکائیں اور کہا، "سر، میرے پاپا کو میری ماں
اور دادا نے مل کر زہر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، لیکن
جب میں ان کی قبر پر گئی تھی، تو پاپا کی روح نے مجھ سے بات کی تھی۔ وہ ہر جمعرات
کی رات مجھ سے ملتے ہیں اور رو کر کہتے ہیں کہ مونا! میں نے ان دونوں کو گھر کے
اندھیرے میں نازیبا حرکات کرتے دیکھ لیا تھا، اس لیے انہوں نے میرا گلا گھونٹ دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اب اگلی باری میری ہے..."
میں
ایک پڑھا لکھا، عقل پسند انسان اور استاد تھا۔ میں نے مونا کو تسلی دی اور اپنے
طور پر، انتہائی خفیہ طریقے سے اس کے گھر کے حالات معلوم کیے۔ محلے داروں اور رشتہ
داروں میں مونا کی ماں اور دادا کی عزت تھی، کہیں سے کسی ناجائز تعلق یا جرم کی بو
تک نہ آئی۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ بھی دل کا دورہ پڑنے کی تصدیق کرتی تھی۔ اب میرے
سامنے دو ہی راستے تھے: یا تو میں ایک چودہ سالہ لڑکی کے مائوف ذہن کے وہم پر یقین
کروں، یا پھر عقل اور سائنس کا دامن تھاموں۔
میں نے
ایک استاد کا فریضہ نبھانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے مونا کو پاس بٹھایا اور انتہائی
مشفقانہ لہجے میں سمجھایا، "بیٹا! یہ تمہارا وہم ہے۔ تمہارے پاپا دنیا سے جا
چکے ہیں۔ قبرستان میں جو تمہیں ملتا ہے، وہ کوئی شیطانی سایہ ہے، کوئی ہمزاد ہے جو
تمہیں بہکا رہا ہے تاکہ تم اپنے ہی خاندان سے نفرت کرنے لگو۔ عقل کا تقاضا یہی ہے
کہ تم ڈاکٹروں کی بات پر یقین کرو۔ اور دیکھو، اتنی رات گئے کسی بالغ مرد کا بھی
قبرستان جانا ٹھیک نہیں، تم تو ایک معصوم لڑکی ہو۔ آئندہ وہاں مت جانا۔"
میری
عقل پر مبنی باتوں اور استاد کے رتبے نے اس پر اثر کیا۔ اس نے سر جھکا لیا اور
وعدہ کیا کہ وہ اب کبھی قبرستان نہیں جائے گی۔ اس کے بعد مونا نے اکیڈمی آنا چھوڑ
دیا یا شاید میں سرکاری ملازمت ملنے کے بعد دوسرے شہر منتقل ہو گیا، اور وقت کی
دھول اس واقعے پر جم گئی۔
بیس
سال بعد... یعنی کل شام، جب میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے اسکول سے گھر لوٹ رہا تھا،
تو ایک بڑی عمر کی خاتون نے مجھے راستے میں روکا۔ اس کے چہرے پر جھریاں ابھر آئی
تھیں، مگر اس نے احترام سے سلام کیا، "سر! آپ نے مجھے پہچانا؟ میں بیس سال
پہلے آپ کی اکیڈمی میں پڑھتی تھی۔"
ماضی
کا ایک جھلکا میرے ذہن میں لہرایا۔ میں نے خیریت دریافت کی اور رسمی باتوں کے بعد
اچانک میرے دل میں مونا کا خیال چٹکی کاٹنے لگا۔ میں نے پوچھا، "بیٹا، تمہاری
کلاس میں ایک لڑکی مونا بھی تو تھی... وہ اب کہاں ہے؟"
اس
عورت کے چہرے کا رنگ یکدم اڑ گیا، اس نے ایک سرد اور بھاری آہ بھری اور کہا،
"سر! وہ تو میٹرک کے امتحانات کے دوران ہی دنیا سے چلی گئی تھی..."
میرے
اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔ "کیا؟ کیسے؟"
اس
خاتون نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں، "سر! بتاتے ہوئے بھی عجیب لگتا ہے۔
اخبارات میں بڑی سرخی لگی تھی... مونا کی ماں کے اپنے ہی سسر سے ناجائز تعلقات
تھے۔ مونا نے شاید انہیں دیکھ لیا تھا یا وہ راستے کا پتھر بن رہی تھی، اس لیے اس
کی ماں نے اپنے اس آشنا یعنی مونا کے دادا کے ساتھ مل کر پہلے مونا کو زہر دیا،
پھر جب جائیداد کا معاملہ بگڑا تو اپنے سسر کو بھی ٹھکانے لگا دیا اور سب کچھ سمیٹ
کر ملک سے فرار ہو گئی۔"
وہ
خاتون یہ بتا کر اپنے راستے پر چل دی، لیکن میں وہیں سڑک کے کنارے، مٹی کے ایک
ڈھیر کے پاس منجمد ہو کر رہ گیا۔
شام کا
اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور میرے کانوں میں بیس سال پرانی بوندوں کی سائیں سائیں
گونج رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا... کیا میں نے مونا کو اس کے باپ کی قبر پر جانے سے
روک کر اس کی زندگی کا آخری سہارا اور ڈھال بھی چھین لی تھی؟ وہ روح، وہ سایہ جو
مجھ پر برسا تھا، وہ کوئی شیطان نہیں تھا... وہ تو ایک بے بس باپ کا غصہ تھا جو
اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے ایک استاد کی عقل پر اندھے گھونسے برسا رہا تھا تاکہ
میں اس کے راز کو سمجھ سکوں۔ مگر میں عقل کا اندھا، مٹی کی اس سچی گواہی کو وہم
سمجھ کر مونا کو موت کے منہ میں دھکیل آیا۔
------------------------
مشکل الفاظ کے معنی:
·
مسافت: راستہ،
سفر۔
·
ہیولا: دھندلا
جسم، سایہ۔
·
مائوف: مفلوج،
خراب یا اثر زدہ عقل۔
·
ماورائی: جو عقل
اور مادی دنیا سے پرے ہو۔
·
منجمد: جما ہوا،
ساکت۔
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: