عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

ماضی کا دروازہ Mazi ka Darwaza

کبھی کبھی انسان ماضی سے نہیں ڈرتا، ماضی اُس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا دیتا ہے۔

مرکزی خیال:
ماضی انسان کے ساتھ چلتا رہتا ہے، مگر زندگی کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ ہم کیا تھے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا بن گئے ہیں۔ بعض اوقات معافی الفاظ سے نہیں، خاموشی سے دی جاتی ہے، اور بعض راز خاندانوں کو بچانے کے لیے دفن رہنا ہی بہتر ہوتے ہیں۔

جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے شازیہ نے سڑک پار کی۔ شام کے دھندلکے میں گاڑیوں کی روشنیاں گیلی سڑک پر لمبی لکیروں کی طرح پھیل رہی تھیں۔ اُس نے شاپنگ کے بیگ سنبھالتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا، سامان پچھلی سیٹ پر رکھا اور بے اختیار گھڑی پر نظر ڈال دی۔ وقت ہاتھ سے پھسل چکا تھا۔

اُسی لمحے کسی نے اُس کا نام پکارا۔

"شازیہ!"

آواز میں ایک عجیب سی مانوسیت تھی؛ ایسی مانوسیت جسے انسان برسوں بھولنے کی کوشش کرے مگر وہ یادداشت کے کسی تاریک گوشے میں زندہ رہتی ہے۔

اُس نے چونک کر پلٹ کر دیکھا۔

سامنے اچھو بھائی کھڑا تھا۔

وقت جیسے ایک لمحے کے لیے رُک گیا۔

وہی آنکھیں... مگر اُن میں اب پہلے والی بے شرمی کی چمک نہیں تھی۔ چہرہ بدلا ہوا تھا، لیکن یادیں نہیں۔

"تم سے ایک ضروری کام ہے۔ شام کو سٹی ریسٹورنٹ میں ملنا۔"

وہ اتنا کہہ کر قریب کی گلی میں مڑ گیا۔

شازیہ کافی دیر وہیں کھڑی رہی۔

جیسے کسی نے بند صندوق کا زنگ آلود تالا توڑ دیا ہو۔

پورا دن اُس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرتا رہا: آخر اچھو بھائی کو اُس سے کیا کام ہو سکتا ہے؟

گھر کے کام ہاتھوں سے ہوتے رہے مگر ذہن کہیں اور بھٹکتا رہا۔ کبھی بچوں کی آواز سنائی دیتی، کبھی شوہر کا چہرہ سامنے آتا، اور پھر اچانک ماضی کا کوئی زخم کھل جاتا۔

اچھو بھائی...

لاہور کے اُن اندھیروں کا آدمی تھا جہاں راتیں صرف راتیں نہیں ہوتیں، سودا ہوتی ہیں۔

پہلے نشہ بیچتا تھا، پھر انسان۔

اُس کے لیے ہر چیز ایک قیمت رکھتی تھی؛ جسم، خواب، عزت، مجبوری...

سب کچھ۔

اور شازیہ؟

وہ بھی ایک وقت میں اُس کی کمائی کا ذریعہ بن گئی تھی۔

غربت نے اُسے کبھی چوری نہیں سکھائی تھی، نہ جھوٹ، نہ فریب۔ لیکن بھوک بعض اوقات انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں راستے خود فیصلہ کرتے ہیں کہ مسافر کہاں جائے گا۔

وہ ایک چھوٹے سے قصبے سے لاہور آئی تھی۔ آنکھوں میں نوکری کے خواب اور دل میں گھر والوں کی امیدیں تھیں۔ پندرہ دن تک دفتر در دفتر، دکان دکان، فیکٹری فیکٹری بھٹکتی رہی۔

پھر پیسے ختم ہوگئے۔

ہوٹل کا کرایہ باقی رہ گیا۔

اور ایک دن ہوٹل کے منیجر نے اُسے اچھو بھائی سے ملوادیا۔

اُس کے بعد کئی مہینے شازیہ نے جینا نہیں، صرف وقت گزارا تھا۔

پھر قسمت نے ایک دروازہ کھولا۔

نوکری ملی۔

زندگی سنبھلی۔

شادی ہوئی۔

اور اُس نے اپنے ماضی پر خاموشی کی ایک موٹی چادر ڈال دی۔

اب وہ ایک پولیس انسپکٹر کی بیوی تھی۔

ایک ماں تھی۔

ایک عزت دار عورت۔

مگر بعض راز دفن نہیں ہوتے۔

وہ صرف انتظار کرتے ہیں۔

شام ڈھلتے ہی وہ سٹی ریسٹورنٹ پہنچی۔

دل میں خوف تھا، آنکھوں میں بے چینی۔

اُس نے پورے ہال پر نظر دوڑائی۔

ہر میز آباد تھی۔

بچے جھولوں کے گرد دوڑ رہے تھے۔

ویٹر مصروف تھے۔

لوگ ہنس رہے تھے۔

مگر اچھو بھائی کہیں نظر نہیں آیا۔

شازیہ نے سکون کا سانس لیا اور واپس مڑنے لگی۔

"شازیہ... میں یہاں ہوں۔"

آواز اُس کے بالکل پیچھے سے آئی۔

اُس کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔

اچھو بھائی آہستہ آہستہ چلتا ہوا قریب آیا۔

"بیٹھو۔"

وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی۔

چند لمحے دونوں خاموش رہے۔

شازیہ نے پہلی بار غور سے اُس کی طرف دیکھا۔

وقت نے اُسے بدلا تھا۔

گھنی داڑھی، سنجیدہ آنکھیں، چہرے پر عجیب سی تھکن۔

جیسے برسوں کا سفر اُس کے وجود پر لکھا ہوا ہو۔

"تم مجھے کیوں ملنا چاہتے تھے؟"

شازیہ نے سرد لہجے میں پوچھا۔

پھر فوراً دوسرا سوال داغ دیا۔

"اور کتنے پیسے چاہییں تمہیں؟"

اچھو بھائی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

"تم اب بھی مجھے وہی سمجھتی ہو؟"

شازیہ خاموش رہی۔

"میں اب پرانا اچھو نہیں رہا۔"

اُس نے آہستگی سے کہا۔

"یہ پورا ریسٹورنٹ میرا ہے۔ پندرہ سال سے یہیں ہوں۔ گھر نہیں گیا۔ بیوی بچوں سے نہیں ملا۔"

وہ چند لمحے رکا۔

"میرا بیٹا بڑا ہو گیا ہے۔ اُس نے اپنی پسند سے شادی کر لی۔ اب وہ باپ بننے والا ہے۔"

اُس کی آواز میں پہلی بار نرمی آئی۔

"وہ چاہتا ہے میں گھر واپس آؤں۔ اپنی بہو سے ملوں۔ اپنے پوتے کو گود میں لوں۔"

شازیہ نے محسوس کیا کہ اُس کی آنکھوں میں واقعی نمی تھی۔

لیکن دل ابھی بھی مطمئن نہیں تھا۔

"اصل بات کیا ہے؟"

اُس نے سیدھا سوال کیا۔

اچھو بھائی نے میز پر رکھی انگلیوں کو دیکھا۔

پھر سر اٹھایا۔

"میں تمہیں ایک آفر دینے آیا ہوں۔"

شازیہ کا چہرہ سخت ہو گیا۔

اُسے لگا پرانا سانپ ابھی بھی زندہ ہے۔

اچھو بھائی نے اُس کے تاثرات پڑھ لیے۔

وہ پہلی بار کھل کر ہنسا۔

"گھبراؤ نہیں۔"

پھر آہستہ سے بولا:

"آفر صرف اتنی ہے کہ ہم دونوں اپنا ماضی دفن کر دیں۔"

شازیہ نے اُسے گھورا۔

"کیوں؟"

اچھو بھائی نے گہرا سانس لیا۔

پھر بہت آہستہ کہا:

"کیونکہ تم میری بہو ہو۔"

شازیہ کا دل دھڑکنا بھول گیا۔

ریسٹورنٹ کی آوازیں یکایک بہت دور چلی گئیں۔

بچوں کی ہنسی، برتنوں کی کھنک، لوگوں کی گفتگو...

سب دھندلا گیا۔

صرف ایک جملہ باقی رہ گیا۔

"تم میری بہو ہو۔"

اچھو بھائی کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

"میرے گھر میں کوئی ہمارا ماضی نہیں جانتا۔ نہ میرا بیٹا، نہ تمہارا شوہر، نہ میری بہو..."

وہ رک گیا۔

"میں اپنی باقی زندگی پہلی بار عزت سے گزارنا چاہتا ہوں۔"

خاموشی میز پر آ بیٹھی۔

شازیہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

شہر کی روشنیاں جل رہی تھیں۔

اُسے محسوس ہوا جیسے زندگی کبھی کبھی عدالت سے زیادہ رحم دل ہوتی ہے۔

کچھ لوگوں کو سزا دے کر بدلتی ہے۔

اور کچھ کو بدل کر سزا دیتی ہے۔

اُس نے پہلی بار اچھو بھائی کی طرف دیکھا۔

اُس آدمی کی طرف جو کبھی دوسروں کی زندگیوں کا سوداگر تھا اور آج اپنی ہی گزری ہوئی زندگی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔

شازیہ نے آہستہ سے اپنا پرس اٹھایا۔

"ماضی دفن نہیں ہوتا۔"

اچھو بھائی کا چہرہ بجھ گیا۔

لیکن شازیہ نے اگلا جملہ بھی کہا۔

"البتہ بعض اوقات اُسے قبر سے باہر نکالنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔"

پھر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔

اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی۔

پیچھے اچھو بھائی خاموش بیٹھا رہا۔

شاید پہلی بار اُسے لگا تھا کہ بعض راز انسان کو بلیک میل نہیں کرتے...

اُن کے ساتھ جینا سکھاتے ہیں۔

__________

مشکل الفاظ کے معنی:

اُدھیڑ بُن: گہری سوچ، ذہنی کشمکش

مانوسیت: پہچان کا احساس

دھندلکا: روشنی اور اندھیرے کے درمیان کا وقت

سوداگر: خرید و فروخت کرنے والا

مزعومہ: تصور کی ہوئی بات

شفقت: محبت بھرا خیال

کشمکش: اندرونی جدوجہد

متاع: قیمتی شے، سرمایہ

 ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: