![]() |
| ماں نے بیٹے کو دیکھنے کے لیے اپنی آنکھ دے دی، اور بیٹے نے ماں کو دیکھنا ہی چھوڑ دیا۔ |
مرکزی خیال:
قربانی کی وہ گہرائی جو لفظوں میں نہیں سماتی — ماں اپنا جسم، اپنی آنکھ، اپنی پہچان بیٹے کو دے دیتی ہے، اور بیٹا اس قربانی کو پہچاننے سے پہلے ہی سب کچھ کھو دیتا ہے۔
شام ڈھل رہی تھی۔
اسپتال کا سفید کمرہ۔ بوڑھی عورت بستر پر۔
دائیں آنکھ پر پیچ۔ بائیں آنکھ چھت دیکھ رہی تھی۔
دروازہ کھلا۔ نوجوان ڈاکٹر آیا۔
چارٹ دیکھا۔ شاگردوں کو بلایا۔
"یہ کیس آپ کے لیے سبق ہے۔"
"دائیں آنکھ کی پیوند کاری تیس سال پہلے ہوئی تھی۔
اب بائیں آنکھ بھی جواب دے رہی ہے۔"
شاگرد قریب آئے۔
"ڈونر کون تھا؟"
فولڈر کھلا۔
"ماں۔ اپنی ایک آنکھ بیٹے کو دے دی تھی۔"
خاموشی پھیل گئی۔
بوڑھی عورت کے ہونٹ ہلے۔
"بیٹا... آیا کبھی؟"
کسی نے جواب نہیں دیا۔
وہ پھر چپ ہو گئی۔
دوسرا منظر۔
بڑے شہر کی عمارت کی چھت۔
ادھیڑ عمر آدمی کھڑا تھا۔
موبائل پر مسج آئی:
"آپ کی والدہ انتقال کر گئیں۔"
فون جیب میں رکھا۔ افق کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں پانی تھا۔
وہی آنکھیں جو کبھی اس کی ماں کی تھیں۔
-----------------
مشکل الفاظ کے معنی
پیوند کاری: ایک جسم کا حصہ دوسرے میں لگانا
ڈونر: دینے والا
افق: آسمان اور زمین کا کنارہ
ادھیڑ عمر: درمیانی عمر

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: