عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

گھر میں موجود اجنبی Ghar Mein Maujood Ajnabi

"یہ افسانہ خاموشی کو ایک ایسا مکالمہ بنا دیتا ہے جو گونج تو نہیں مگر کبھی ختم نہیں ہوتا۔"

مرکزی خیال:

باپ کی قربانیاں اور تنہائی — جو بظاہر اسے گھر میں اجنبی بنا دیتی ہیں — دراصل بیٹے کی عدم توجہی کا آئینہ ہیں۔ احترام محض رسم نہیں، بلکہ دوسرے کے وجود کو اس کی پوری گہرائی میں دیکھنے کا نام ہے۔


شام ڈھل رہی تھی۔ کمرے میں روشنی کم تھی، بس کھڑکی سے اترتی دھوپ کی ایک پتلی لکیر فرش پر پڑی تھی۔ وہ اس لکیر کے کنارے بیٹھا تھا — نہ فرش پر، نہ کرسی پر، بلکہ دونوں کے درمیان کی کسی ادھوری جگہ میں۔

اس کا بیٹا اندر آیا تو دروازے پر رکا۔ ایک لمحے کو لگا جیسے وہ کسی ناواقف شخص کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے اپنی آنکھیں جھپکیں، معمول کے لہجے میں بولا:

"ابو، کھانا لے آؤں؟"

بوڑھے نے سر ہلایا مگر آنکھیں نہ ہٹائیں کھڑکی سے۔ باہر ایک پرندہ اڑ رہا تھا — یا شاید وہی پرندہ تھا جو ہر شام اس کھڑکی کے سامنے بیٹھتا، مگر اب اس کی اڑان بھی آہستہ تھی، جیسے پر بوجھل ہو گئے ہوں۔

بیٹا باورچی خانے کی طرف بڑھا۔ اس کے قدم تیز تھے، معمول کے مطابق۔ وہ جانتا تھا کہ کون سی پلیٹ نکالنی ہے، کس برتن میں سالن ہے، پانی کتنا گرم کرنا ہے۔ سب کچھ اسے یاد تھا۔ سوائے اس کے کہ پچھلے دس سالوں سے وہ اپنے باپ کی پسندیدہ چائے کا پتی کبھی نہیں ڈھونڈ پاتا تھا۔

بوڑھا اب بھی کھڑکی سے لگا تھا۔ اس کی انگلیاں کھڑکی کے فریم کو چھو رہی تھیں، جیسے کوئی پرانی تحریر پڑھ رہا ہو۔ فریم پر دراڑیں تھیں — باسی لکڑی کی، جیسے ان میں برسوں کی خاموشیاں بھری پڑی تھیں۔

کھانا میز پر رکھا گیا۔ بیٹا ایک طرف بیٹھا، بوڑھا دوسری طرف۔ درمیان میں خالی جگہ تھی — اتنی کہ ایک اور انسان بھی آ سکتا تھا۔ مگر کوئی نہیں آیا۔

"آج سردی زیادہ ہے،" بیٹے نے کہا۔ اس کی آواز میں کوئی سوال نہیں تھا، محض ایک مشاہدہ۔

بوڑھے نے اپنی پلیٹ میں ایک روٹی اٹھائی، آدھی توڑی، پھر اسی طرح رکھ دی۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی خاموشی میں ایک آواز تھی — مگر بیٹے نے وہ آواز سنی نہیں۔ وہ اپنے فون کی طرف دیکھ رہا تھا، جہاں کسی کا پیغام آیا تھا۔

بوڑھا اٹھا۔ اس کی حرکت میں کوئی غصہ نہیں تھا، کوئی بغاوت نہیں۔ وہ صرف اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا، جیسے کوئی مہمان جو سمجھ گیا ہو کہ اس کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

لیکن راستے میں اس کا پاؤں ایک قالین کے کونے سے اٹکا۔ قالین وہی تھا جو بیوی نے بیس سال پہلے بُنوا تھا، جس کے کنارے اب کھل چکے تھے۔ بوڑھا گرا نہیں، مگر اس کا توازن بگڑا — اس نے دیوار کا سہارا لیا، اور دیوار پر اس کے ہاتھ کا نشان رہ گیا، ایک دھندلا دھبہ۔

بیٹے نے سر اٹھایا۔ اس نے دھبہ دیکھا، پھر باپ کو دیکھا، پھر دوبارہ دھبہ دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی واضح جذبہ نہیں تھا، بس ایک عجیب سی کشمکش، جیسے کوئی نام بھولی ہوئی چیز یاد آنے کی کوشش کر رہا ہو۔

وہ اٹھا اور باپ کے پیچھے کمرے میں گیا۔ بوڑھا پلنگ پر بیٹھا تھا، اس کی سانس تیز تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا، اور پہلی بار اس دن اس کی آنکھوں میں کوئی پہچان تھی — مگر وہ پہچان بھی پرانی تھی، جیسے کسی بھولے ہوئے خواب کا ٹکڑا۔

بیٹا اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس کا ہاتھ بڑھا، مگر باپ کے کندھے کو چھونے سے پہلے رک گیا۔ وہاں، اس ہاتھ کے نیچے، ایک خلا تھا — ایک ایسا خلا جو نہ فاصلہ تھا نہ قربت، بلکہ ایک ایسی کیفیت تھی جسے کوئی بھی لفظ نہیں بیان کر سکتا۔

بوڑھے نے آہستہ سے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔ بیٹے کو محسوس ہوا کہ وہ دل اب بھی دھڑک رہا ہے — بالکل اسی تال پر جس تال پر اس نے بچپن میں اپنی ماں کے پیٹ میں سنا تھا۔

لیکن اس تال کے درمیان ایک کھوکھلا پن تھا۔ جیسے کسی پتھر کو بار بار پانی میں ڈبو کر نکالا جائے — وہ گیلا تو ہوتا ہے مگر اندر کا خشک پن نہیں جاتا۔

بیٹے نے اپنا دوسرا ہاتھ بڑھایا اور باپ کے بالوں میں پھیر دیا۔ بال سفید تھے، کم تھے، اور چھونے میں بہت نرم۔ اسے یہ نرمی یاد آئی — اس کی ماں جب بیمار تھی تو اس کے بال بھی ایسے نرم ہو گئے تھے۔

بوڑھے کی آنکھوں میں پانی تھا مگر بہا نہیں۔ وہ پانی ایک جھیل تھا جس کی سطح پر سوئیاں تھیں — کوئی اس میں غوطہ نہیں لگا سکتا تھا۔

بیٹے نے اس جھیل کو دیکھا اور پہلی بار سمجھا کہ اس نے اپنے باپ کو کبھی ڈوبتے نہیں دیکھا تھا — وہ ہمیشہ کنارے پر کھڑا رہا تھا، پانی کی گہرائی کا اندازہ لگائے بغیر۔

اس رات بیٹا اپنے کمرے میں نہیں سو یا۔ وہ باپ کے کمرے کے دروازے کے پاس فرش پر بیٹھا رہا۔ اس نے ایک نوٹ بک نکالی اور لکھا:

"میں نے اسے کبھی پوچھا نہیں کہ وہ کس چیز سے ڈرتا ہے۔ میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا جب وہ اکیلا تھا۔ میں نے اس کی زندگی کے اُن حصوں کو چھوا تک نہیں جو روشن نہیں تھے۔"

صبح جب باپ اٹھا تو اس نے بیٹے کو فرش پر سوئے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک شکن پڑی — مگر وہ شکن ناراضی کی نہیں، حیرت کی تھی۔ اس نے بیٹے کو اپنی چادر سے ڈھانپ دیا اور کچن میں جا کر چائے بنائی۔

بیٹا جب اٹھا تو اس نے چائے کی مہک سنی۔ وہ کچن میں پہنچا تو باپ نے اس کی طرف پلیٹ بڑھائی۔ اس پلیٹ میں دو روٹیاں تھیں، بالکل اسی طرح آدھی توڑی ہوئی جیسے کل رات بوڑھے نے توڑی تھیں۔

بیٹے نے پلیٹ لی اور پہلی بار اس نے اپنے باپ کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھا۔ اس نے وہاں ایک اجنبی کو نہیں دیکھا — اس نے ایک آئینہ دیکھا جس میں وہ خود بڑھتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

اس نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے بس وہ روٹیاں کھائیں، ایک ایک ٹکڑا، جیسے کوئی قربانی کا حصہ ہوں۔ اور جب آخری ٹکڑا ختم ہوا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کے منہ کا ذائقہ وہی ہے جو بچپن میں تھا — جب باپ ہاتھ سے کھلاتا تھا، اور وہ بغیر پوچھے کھا لیتا تھا۔

کمرے میں وہ کھڑکی اب بھی کھلی تھی۔ پرندہ واپس آ چکا تھا، اسی جگہ بیٹھا تھا۔ مگر اب اس کی اڑان بوجھل نہیں تھی — وہ بس بیٹھا تھا، انتظار کر رہا تھا۔

-------

الفاظ و معنی

ادھوری جگہ: غیر واضح یا نامکمل مقام (کہانی میں اس سے مراد وہ کیفیت ہے جہاں انسان نہ پوری طرح حاضر ہو اور نہ غائب)۔

بوجھل: بھاری، وزنی، تھکا ہوا (جیسے پرندے کے بوجھل پر)۔

باسی لکڑی: پرانی یا خستہ حال لکڑی۔

مشاہدہ: کسی چیز کو غور سے دیکھنا، اپنی رائے قائم کرنا (بغیر کسی گہرے جذبے کے)۔

بغاوت: نافرمانی، سرکشی، غصے کا اظہار۔

توازن: برابری، سنبھالاؤ (گرنے سے بچنے کی حالت)۔

دھندلا دھبہ: غیر واضح یا مٹتا ہوا نشان۔

کشمکش: الجھن، دویدا، ذہنی پریشانی یا سوچ بچار۔

خلا: خالی جگہ، وہ فاصلہ جو مٹایا نہ جا سکے۔

کیفیت: حالت، اندرونی احساس۔

کھوکھلا پن: اندر سے خالی ہونا، بے مائگی، گہرائی کا نہ ہونا۔

غوطہ: پانی میں ڈبکی لگانا۔

شکن: ماتھے یا چہرے پر پڑنے والی لکیر (جو حیرت یا ناراضی کو ظاہر کرے)۔

قربانی کا حصہ: تبرک، وہ خاص چیز جو کسی بڑے مقصد یا احترام کے تحت قبول کی جائے۔

عدم توجہی: دھیان نہ دینا، لاپروائی، توجہ کی کمی۔

مکالمہ: گفتگو، دو لوگوں کے درمیان بات چیت۔

یہ الفاظ محض لغوی معنی نہیں رکھتے، بلکہ افسانے کے سیاق و سباق میں یہ باپ اور بیٹے کے درمیان موجود جذباتی دوری اور پھر اس کے مٹنے کے احساس کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتے ہیں۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: