![]() |
بعض دل محبت نہیں کرتے، صرف یقین کر
لیتے ہیں کہ اُن سے محبت کی جا رہی ہے۔ |
مرکزی خیال:
یہ افسانہ معصوم ذہن، یک طرفہ محبت، سماجی استحصال اور انسانی وقار کے موضوعات پر مبنی ہے۔ بعض اوقات محبت نہیں، محبت کا وہم انسان کو زندہ رکھتا ہے؛ اور جب یہ وہم ٹوٹتا ہے تو نقصان صرف دل کا نہیں، شناخت کا بھی ہوتا ہے۔
(1)
بھولا آج کل آئینے کے سامنے کچھ
زیادہ ہی ٹھہرا رہتا تھا۔
پہلے وہ شیو ہفتے میں ایک بار کرواتا
تھا، اب روز صبح استرا اس کے گالوں پر پھسلتا۔ پہلے سفید ململ کا کرتا صرف جمعے کو
پہنتا تھا، اب ہر روز دھلا ہوا لباس جسم پر ہوتا۔ بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے وہ
بار بار گردن موڑ کر خود کو دیکھتا، پھر چشمہ سیدھا کرتا، پھر دیکھتا۔
جیسے آئینہ اسے کوئی ایسا جواب دینے
والا ہو جس کا انتظار برسوں سے تھا۔
اُس روز اس نے پہلی بار آنکھوں میں
سرمہ بھی ڈالا۔
کافی دیر تک اپنی ہی آنکھوں میں
جھانکتا رہا۔
پھر دھیرے سے بولا:"اب کیسا لگ رہا ہوں؟"
مگر آئینہ خاموش رہا۔
وہ اپنا بریف کیس اٹھا کر گلیوں کی
طرف نکل گیا۔
(2)
"او
نگینہ! دیکھ، تیرا رنگیلا آ گیا!"
"چپ کر،
میرا کیوں ہونے لگا؟"
"ذرا دیکھ
تو سہی۔ آج سرمہ بھی لگایا ہے۔"
قہقہوں کا ایک جھنڈ اڑا اور گھروں
میں جا چھپا۔
بھولا کچھ نہ سنا۔
وہ ہمیشہ کی طرح گلی کے موڑ پر پہنچا
اور اپنی مخصوص آواز لگائی: "فلالین... فلالین..."
اصل لفظ شاید کچھ اور تھا، مگر اُس
کی زبان سے برسوں سے یہی نکلتا تھا، اور اب پورا علاقہ اُسے اسی نام سے جانتا تھا۔
وہ نگینہ کے دروازے کے سامنے آ کر رک
گیا۔
ایک بار۔
پھر دوسری بار۔
"فلالین..."
اس کی آواز میں بے چینی بڑھتی جا رہی
تھی۔
آخر دروازے پر پڑی چق ہلکی سی سرکی۔اور
وہ نمودار ہوئی۔
نگینہ۔
باریک قامت، روشن چہرہ، آنکھوں میں
شرارت کا دائمی سایہ۔
بھولے نے جیسے سانس واپس پائی۔
فوراً زمین پر بیٹھ گیا اور بریف کیس
کھول دیا۔
نگینہ اس کے برابر میں آ بیٹھی۔
چوڑیوں کو انگلیوں سے الٹنے پلٹنے
لگی۔
"یہ کتنے
کی ہیں؟"
اس نے کلائی آگے بڑھا دی۔
بھولے نے کانپتے ہاتھوں سے اُس کی
کلائی تھامی۔
کلائی گرم تھی۔
بہت گرم۔
"تمہارے
ہاتھ بہت گرم ہیں۔"
نگینہ ہنس دی۔
"یہ محبت
کی گرمی ہے۔"
بس اتنا ہی۔
لیکن یہ چند لفظ بھولے کے اندر کہیں
بہت گہرے جا اترے۔
ایسے جیسے برسوں سے بند کسی کمرے کی
کھڑکی کھل گئی ہو۔
"نگینہ..."
وہ ہکلا گیا۔
"ہاں؟"
"تم...
کبھی مجھے چھوڑ تو نہیں دو گی؟"
نگینہ نے ہنستے ہوئے سر ہلا دیا۔
"کبھی
نہیں۔"
بھولے نے اس لمحے پر یقین کر لیا۔
اور بعض لوگ جب یقین کر لیتے ہیں تو
پھر ثبوت نہیں مانگتے۔
(3)
اس دن اُس نے تقریباً سارا سامان
خسارے میں بیچ دیا۔
لڑکیاں جو قیمت بتاتیں، وہ مان لیتا۔
کوئی دو روپے دیتی، کوئی ایک۔
وہ مسکراتا رہتا۔
جیسے آج کمائی روپوں میں نہیں، کسی
اور چیز میں ہوئی ہو۔
گھر پہنچا تو حسبِ معمول باپ حساب
مانگنے بیٹھ گیا۔
"ہاں
بھئی، کتنی کمائی ہوئی؟" بھولا
خاموش رہا۔
باپ نے غصے میں ہاتھ اٹھایا۔بھولے نے
فوراً دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے۔
یہ حرکت اتنی معصوم تھی کہ بوڑھے باب
کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا۔
وہ آہستہ سے بیٹھ گیا۔بھولا فوراً
قدموں میں گر پڑا۔
"ابا، آج
معاف کر دو۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔" یہ
جملہ باپ بھی سینکڑوں بار سن چکا تھا۔ اور بھولا بھی۔
(4)
کبھی اُس کا نام بھولا نہیں تھا۔اُس
کا نام عبدالوکیل تھا۔
باپ اُسے "وکیل صاحب" کہہ
کر پکارتا تھا۔ اس خواب کے ساتھ کہ ایک دن یہ لڑکا عدالت میں کھڑا ہوگا، دلیلیں دے
گا، جج بنے گا۔ پھر ایک رات ڈاکو آئے۔ گھر لوٹنے لگے۔
ماں چیخی۔لوگ جاگ گئے۔ڈاکو بھاگے۔مگر
جاتے جاتے گولیاں چلا گئے۔
ایک گولی ماں کے سینے میں لگی۔اور عکس
بچے کے دماغ میں۔اگرچہ وہاں کوئی زخم نہیں تھا۔مگر پانچ سالہ عبدالوکیل کی دنیا
وہیں ٹوٹ گئی۔
ماں مر گئی۔اور بچہ اندر سے بکھر
گیا۔ وہ زندہ رہا، مگر پوری طرح نہیں۔
(5)
برسوں تک گلیاں اُس کا گھر رہیں۔بچے
اسے چھیڑتے۔
"او بھولے!"وہ اینٹ اٹھا لیتا۔ لوگ شکایتیں
کرتے۔
باپ تھک جاتا۔پھر ایک دن وہ گم ہو
گیا۔ چھ ماہ تک۔ کسی کو معلوم نہ ہوا کہاں۔
پھر داتا دربار کے لنگر خانے میں
ملا۔میلے کپڑوں میں۔بھوکااورخاموش۔اور عجیب بات یہ ہوئی کہ واپسی کے بعد اُس کی
ذہنی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی۔ جیسے زندگی نے ٹوٹے ہوئے برتن کے کچھ ٹکڑے
دوبارہ جوڑ دیے ہوں مگر مکمل نہیں اتنے کہ پانی رکھا جا سکے۔
(6)
باپ نے اُسے پھیری پر لگا دیا۔عورتوں
کے استعمال کی چیزیں۔
چوڑیاں۔ربن۔کلپس۔کنگھیاں۔
وہ گلی گلی گھومتا۔
"فلالین...
فلالین..." اور
لوگ مسکرا دیتے۔ اُسے دیکھ کر کسی کو خوف نہیں آتا تھا۔ترس بھی نہیں۔صرف ایک نرم
سی شفقت محسوس ہوتی تھی۔
(7)
پھر نگینہ اس کی زندگی میں آ گئی۔یا
شاید یوں کہنا چاہیے کہ نگینہ کی مسکراہٹ آ گئی۔
بھولا ہر صبح سورج کا انتظار کرتا۔اور
سورج نکلتے ہی اُس گلی کا۔جہاں ایک دروازہ تھا جس پر چق تھی۔اور ایک منتظر چہرہ۔جو
اس کی پوری دنیا بن چکا تھا۔
جب کبھی اُس کا چشمہ ناک پر پھسل
آتا، نگینہ انگلی سے اوپر کر دیتی۔یہ معمولی سا لمس اُس کے اندر دیر تک لہریں چھوڑ
جاتا۔کبھی کبھی وہ جان بوجھ کر چشمہ نیچے کر لیتا۔صرف اس لمس کے لیے۔
(8)
چار ماہ سے وہ مسلسل گھاٹے میں جا
رہا تھا۔باپ پریشان تھا۔مگر اصل وجہ حساب کی کتابوں میں نہیں تھی۔اصل وجہ ایک
مسکراہٹ تھی۔جو ہر روز اُسے نقصان میں بیچ دیتی تھی۔
اُس دن اُس نے فیصلہ کیا تھا۔آج پوچھ
لے گا۔"نگینہ، میں
اپنے ابا کو کب بھیجوں؟"مگر موقع نہ ملا۔نگینہ کی ماں نے اُسے اندر بلا لیا۔اور بھولا ادھوری
بات لیے واپس لوٹ آیا۔
پھر باپ بیمار پڑ گیا۔تین دن ہسپتال
میں گزرے۔چوتھے دن وہ دوبارہ پھیری پر نکلا۔گلی میں داخل ہوا۔اور رک گیا۔نگینہ کا
گھر روشنیوں میں نہا رہا تھا۔دروازے پر رنگین قمقمے تھے۔لوگ آ جا رہے تھے۔اس نے
ایک لڑکی سے پوچھا:"یہاں کیا ہے؟"
لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا:"آج نگینہ کی شادی ہے۔"
بھولے نے یقین نہ کیا۔مگر پھر دروازہ
کھلا۔اور نگینہ دلہن کے لباس میں باہر آئی۔ وہ اس کے پاس سے بغیر دیکھے، بغیر رکے۔بغیر
مسکرائے گزری۔ اور بھولا پہلی بار سمجھ نہ سکا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔
وہ رات اُس نے جاگتے ہوئے گزاری۔اور
کئی دنوں تک خود سے جھوٹ بولتا رہا۔
شاید زبردستی شادی ہوئی ہوگی۔شاید وہ
مجبور ہوگی۔شاید...
انسان امید کے سہارے سب سے زیادہ دیر
تک زندہ رہتا ہے۔ ایک ہفتے بعد وہ پھر اسی گلی میں پہنچا۔
"فلالین..."
چق سرکی۔نگینہ باہر آئی۔وہ پہلے کی
طرح ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔ بھولے کا دل دھڑک اٹھا۔
تبھی اُس کے پیچھے ایک نوجوان بھی
باہر آیا۔
لمبا۔خوش لباس۔پُراعتماد۔نگینہ اُس
کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ اور مسکرا کر بولی: "فلالین، اِن سے ملو۔ یہ میرے شوہر
ہیں۔"
بھولا خاموش رہا۔نگینہ نے شوہر کی
طرف دیکھ کر ہنسنا شروع کیا۔
"یہ وہی
بھولا ہے جس کی باتیں میں تمہیں بتایا کرتی تھی۔"
آس پاس لڑکیاں جمع ہو گئیں۔
"بڑا مزہ
آتا تھا اسے بیوقوف بنانے میں۔" قہقہہ
بلند ہوا۔
"یہ
سمجھتا تھا ہم اس سے محبت کرتی ہیں۔"ایک اور قہقہہ۔
"دس روپے
کی چیز ایک روپے میں دے جاتا تھا۔" اب
کئی قہقہے اکٹھے تھے۔
بھولا خاموش کھڑا رہا۔اس کا چہرہ
ویسا ہی تھا۔مگر آنکھوں کے اندر کچھ بجھ رہا تھا۔ آہستہ آہستہ بغیر آواز کے۔
نگینہ نے چوڑیاں اٹھائیں۔"اب بتاؤ، یہ کتنے کی دو گے؟"
مگر اب کسی نے جواب نہ سنا۔
(9)
لڑکیوں کی ہنسی رفتہ رفتہ رک گئی۔کچھ
چہروں پر شرمندگی اتر آئی۔ کسی نے دھیرے سے کہا: "شغل اپنی جگہ... لیکن یہ ٹھیک نہیں۔" مگر اب دیر ہو چکی تھی۔
کچھ لفظ تیر نہیں ہوتے۔وہ زخم بن
جاتے ہیں۔
بھولا نے بریف کیس بند کیا۔ کھڑا
ہوا۔ اور چل پڑا۔ نہ اُس نے کوئی قیمت بتائی۔ نہ آواز لگائی۔ نہ
"فلالین" کہا۔ گلی کے آخری موڑ تک اُس کی پشت دکھائی دیتی رہی۔ پھر وہ
مڑ گیا۔ اور غائب ہو گیا۔
اس دن کے بعد کسی نے اُسے اُس گلی
میں نہیں دیکھا۔ کچھ کہتے تھے وہ کسی اور شہر چلا گیا۔ کچھ کہتے تھے باپ کے ساتھ
کاروبار کرنے لگا۔ اور کچھ کہتے تھے کہ وہ صدمے سے مر گیا۔ مگر سچ شاید یہ تھا کہ
اُس دن مرنے والا بھولا نہیں تھا۔مرنے والی وہ معصوم یقین کی دنیا تھی جس میں ایک
گرم کلائی، ایک سرکتی ہوئی عینک اور ایک جھوٹی مسکراہٹ محبت بن جاتی ہے۔اور جب
یقین مر جائے...تو آدمی بہت عرصہ
زندہ رہ کر بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
مشکل الفاظ کے معنی:
چق : بانس یا سرکنڈے کا
پردہ
پھیری : گلی گلی گھوم کر
سامان بیچنا
تذلیل : بے عزتی، تحقیر
اشتیاق : رغبت، دلچسپی
سکتہ : شدید ذہنی یا
جسمانی صدمے کی کیفیت
مفلوج : جزوی یا مکمل طور
پر ناکارہ
قمقمے : رنگین برقی بلب
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: