عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

ڈور کا دوسرا سرا Dor Ka Doosra Sira

کچھ گناہ ایسے جال بنتے ہیں جن کے دھاگے نسلوں کے پیروں میں لپٹ جاتے ہیں۔

مرکزی خیال:

یہ افسانہ مکافاتِ عمل اور خاندانی گناہوں کے تکرار کی کہانی ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو اپنے ماضی کے تاریک تجربے کی روشنی میں اس وقت بچاتا ہے جب وہ اسی گناہ کی دلدل میں اترنے والا ہوتا ہے جہاں کبھی باپ خود لٹ چکا تھا۔


حارث کے لیے وہ گھڑی اتنی ہی بوجھل تھی جتنی ڈیوڑھی میں لٹکی پرانی لالٹین، جس کی تپش ہوا کے رکنے سے دَم توڑ رہی تھی۔ اس کا اکلوتا جواں سال بیٹا، جو کبھی صبح اسکول اور شام اکیڈمی کے سیدھے رستوں پر ایک پٹے ہوئے محاورے کی طرح چلتا تھا، اب کالج کی دہلیز پار کرتے ہی کسی اندھے کنویں میں اتر گیا تھا۔ گھر میں روپے پیسے کی ریل پیل تھی، مگر حارث کو یوں لگتا جیسے اس کی جائداد، اس کا اپنا خونِ جگر، دھیرے دھیرے راکھ بن رہا ہو۔ وہ کون سی جڑ تھی جو اندر ہی اندر اس کے پودے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی؟

حقیقت اس پر ایک بے رنگ شام کو کھلی۔ وہ مسجد سے نماز پڑھ کر لوٹ رہا تھا کہ گلی کے موڑ پر پرانے پڑوسی نے اسے ٹوکا۔ بزرگ کی آنکھوں میں ایک عجیب، کاٹ دار چمک تھی: "حارث صاحب، بیس سال کی ہمسائیگی کا یہ بھرم رکھا؟ بیٹے کی منگنی کر دی اور محلے کو خبر تک نہ ہونے دی؟"

حارث کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ "منگنی؟ آپ کو کوئی مغالطہ ہوا ہے بھائی صاحب۔"

"مغالطہ؟" بزرگ نے ایک زہرخند چہرے پر سجایا۔ "پورا محلہ جانتا ہے کہ لڑکا 'ملکوں' کے ہاں پکا ہو چکا ہے۔ روز تو وہ ان کی لڑکی کو کالج چھوڑنے جاتا ہے۔"

ان الفاظ نے حارث کے اندر اک طوفان برپا کر دیا۔ وہ ملکوں کے خاندان کی جڑوں سے واقف تھا۔ وہ ایسے لوگ تھے جن کے آنگن میں شرافت کبھی پاؤں نہیں ٹکاتی تھی۔ حارث کا پہلا مہیب خیال یہ تھا کہ ان بازاری لوگوں کے منہ پر دولت مار کر انہیں محلے سے بھگا دے، مگر دوسرے ہی پل اسے لگا، ڈور کا یہ سرا کھینچنے سے اس کا اپنا بیٹا ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ وہ الجھا ہوا، بوجھل قدموں سے ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو عین اسی وقت لوڈشیڈنگ ہو گئی۔

اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ پشت سے کوئی بھاری وجود ٹکرایا۔ حارث چونک کر مڑا۔ اندھیرے میں سانسوں کی تیز رفتاری بتا رہی تھی کہ سامنے اس کا بیٹا کھڑا ہے۔ لڑکے کے ہاتھ میں ایک بڑا، وزنی لفافہ تھا جسے اس نے اپنی چھاتی سے بھینچ رکھا تھا۔ تجسس نے حارث کے پاؤں جکڑ لیے۔ اسی لمحے بجلی آ گئی۔

روشن کمرے میں الماری کا کواڑ نیم وا تھا اور اس کے پیٹ سے خاندانی زیورات غائب تھے۔ حارث نے لپک کر بیٹے کے ہاتھ سے لفافہ چھینا۔ کپڑا ہٹتے ہی سونے کی چمک نے اس کی آنکھوں میں سوئیوں کی طرح چوبھن پیدا کر دی۔ غصے اور صدمے کی ایک لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی سے گزری، پسینہ ماتھے پر تیرنے لگا۔ ایسا لگا جیسے سورج سوا نیزے پر آکر اسی کے وجود کو جھلسانے لگا ہو۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے بکھرتے ہوئے ضبط کو سمیٹا۔

"بیٹا۔۔۔ یہ سب تمہارا ہی ہے۔ پھر اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح؟" حارث کی آواز میں غصہ نہیں، ایک گہرا درد تھا۔

"ابو! وہ۔۔۔ میں تو اندھیرے میں اپنی کتابیں ڈھونڈ رہا تھا، یہ لفافہ بھولے سے ہاتھ میں آ گیا۔" لڑکا اپنی چوری اور شرمندگی کو جھوٹ کے کچے دھاگوں سے رفو کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

"صفائیاں مت دو۔ میں جانتا ہوں تمہارا ملکوں کے گھر کیوں آنا جانا ہے۔" حارث نے اس کی بات کاٹ دی۔ "تم جس دلدل کی طرف بڑھ رہے ہو، اس کا آخری زخم اتنا کاری ہوتا ہے کہ عمریں بیت جاتی ہیں اور گھاؤ نہیں بھرتا۔ پانی سر سے گزر جائے تو انسان ہاتھ پاؤں مارنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ میری بات مانو، سنبھل جاؤ۔"

لڑکے نے بوکھلاہٹ میں سر جھکا لیا، مگر اس کی آنکھیں اب بھی کسی ضدی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں۔ وہ باپ کی دلیلوں سے قائل ہونے کو تیار نہ تھا۔ حارث نے دیکھا کہ اگر آج اس ڈور کو نہ سلجھایا گیا، تو یہ ہمیشہ کے لیے گانٹھ بن جائے گی۔ اس نے ایک طویل توقف کیا۔ کمرے میں صرف پنکھے کی دھیمی کھرکھراہٹ تھی۔

"اچھا، وہ زیورات کی بات چھوڑو۔" حارث کا لہجہ اچانک ایک شفیق، مگر صدیوں پرانے تھکے ہوئے دوست جیسا ہو گیا۔ "میری ایک کہانی سنو۔ شاید یہ تمہارے مستقبل کا کوئی رستہ متعین کر سکے۔"

بیٹا خاموش رہا۔ حارث کی نظریں ماضی کے دھندلکوں میں اتر گئیں۔

"یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے باپ کے پاس پندرہ ایکڑ اراضی کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں نے گاؤں میں سب سے پہلے بی اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ پورا گاؤں مجھے 'باؤ' کہنے لگا۔ جب میں بیٹھتا، تو لوگ میرے لیے علیحدہ چارپائی بچھاتے اور خود زمین پر بیٹھ جاتے۔ اس بے جا تعظیم نے مجھے خود سر بنا دیا۔ مجھے اپنے بچپن کے لنگوٹیے جاہل اور گنوار لگنے لگے۔ میں نے سوچا، یہ زراعت اور مٹی کا کام اَن پڑھ لوگوں کا ہے، مجھے شہر جا کر 'آفیسری' کرنی چاہیے۔ میں اپنے باپ کو قائل کر کے شہر آ گیا۔ جیب نوٹوں سے بھری تھی اور دماغ خوابوں سے۔

مگر شہر اپنے خوابوں کی قیمت وصول کرتا ہے۔ دن ہفتوں میں بدلے، نوکری نہ ملی، جیب ہلکی ہوتی گئی اور آخر کار میں نے ہوٹل چھوڑ کر اندرونِ شہر کی ایک سستی حویلی میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا۔ وہ حویلی پچھلی صدی کے اوائل کا ایک کائی زدہ شاہکار تھی۔ دیواروں کا چونے کا پلستر جھڑ رہا تھا، دالان میں ہر وقت عورتوں کے چولہوں کا دھواں بکھرا رہتا تھا۔ میری منزل اوپر تھی، جہاں جانے کے لیے ایک تاریک، بوجھل سیڑھی چڑھنی پڑتی تھی۔

میرا کمرہ ایسا تھا جس کی ایک کھڑکی ساتھ والے کمرے میں کھلتی تھی اور غسل خانہ مشترکہ تھا۔ پہلی ہی رات، جب میں تھکا ہارا چادر بچھاکر زمین پر لیٹا، تو کھڑکی کی درز سے برابر کے کمرے سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے جھانک کر دیکھا۔ ایک بدصورت، ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا نشئی ایک عورت کو بالوں سے دبوچے ہوئے تھا۔ وہ عورت چِلا رہی تھی: 'نہیں! میں یہ رقم نہیں دوں گی!' مرد نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا، مگر عورت نے مٹھی بند رکھی۔ آخر کار وہ کھانستا ہوا باہر نکل گیا اور عورت کی سسکیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں۔

اگلی صبح، میری آنکھ چائے کی ایک بینی بینی خوشبو سے کھلی۔ سرہانے گرم چائے کی پیالی رکھی تھی۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ میں حیران ہوا، مگر تھکن ایسی تھی کہ میں نے سوال اٹھانے کے بجائے چائے حلق میں انڈیل لی۔ جب میں غسل خانے کی طرف بڑھا، تو وہاں ایک درمیانے قد کی، چھریرے بدن کی عورت برتن دھو رہی تھی۔ اس کے گالوں پر رات کے تھپڑ کا نیلا نشان اب بھی ہلکا سا نمایاں تھا۔

میں نے پوچھا: 'چائے تم نے رکھی تھی؟'

وہ مڑی، اپنے بکھرے کپڑے درست کیے، ایک سحر انگیز مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور بولی: 'چائے میں ہی لائی تھی۔' اور دوسرے دروازے سے نکل گئی۔

پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ روز صبح گرم چائے میری میز پر ہوتی۔ میں دن بھر نوکری کی تلاش میں بھٹکتا اور رات گئے لوٹتا۔ پندرہ دن گزر گئے۔ ایک دن میں جلدی آ گیا۔ وہ آٹھ بجے چائے لے کر آئی۔ میرے اندر کا جوان خون اور تنہائی کا زہر ایک ہو چکے تھے۔ وہ جیسے ہی مڑنے لگی، میں نے لپک کر اس کا بازو پکڑ لیا اور اسے اپنی چھاتی سے بھینچ لیا۔ وہ ہلکا سا شرمائی، مسکرائی اور بولی: 'کوئی دیکھ نہ لے!' اور بھاگ گئی۔

وہ بلا کی حسین تھی۔ اس کی جھیل جیسی آنکھیں اور کولہوں کو چھوتے سیاہ بال میرے اعصاب پر سوار ہو گئے۔ میں نوکری، انٹرویو، سب بھول گیا۔ میرا نفس مجھے بار بار اکساتا۔ ہم غسل خانے میں بہانے بہانے سے ملتے۔ اس کا شوہر نشے میں دھت کہیں پڑا رہتا۔ ایک شام، جب سائے ڈھل رہے تھے، میں نے کھڑکی سے دیکھا کہ وہ اپنے کمرے میں اکیلی قمیض بدل رہی تھی۔ شیطان نے میرے کان میں پھونک ماری۔ میں غسل خانے کے راستے اس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔

وہ ٹھٹک گئی، جلدی سے کواڑ کو قفل لگایا اور گھبرا کر بولی: 'حارث! یہاں سے چلے جاؤ، میرا شوہر ابھی گیا ہے، وہ آ جائے گا تو مجھے مار ڈالے گا۔ وہ پہلے ہی شک کرتا ہے۔'

میں نے اس کی نرم کلائی پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔ وہ روپڑی۔ کہنے لگی: 'حارث، میں بازاری عورت نہیں ہوں۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں کیونکہ میرا شوہر اپنی جائداد کوٹھے والیوں پر لٹا کر اب نشئی بن چکا ہے۔ میرے ماں باپ گھر کا خرچ چلاتے ہیں اور یہ مجھے مار کر وہ پیسے بھی چھین لیتا ہے۔ میں نے ایک ہنستے بستے گھر کا خواب دیکھا تھا، جو ٹوٹ گیا۔'

اس کی بے بسی نے میری مردانگی کو ایک فرضی دلاسا دیا۔ میں نے اسے سینے سے لگا کر وعدہ کیا کہ میں اسے اس جہنم سے نکالوں گا۔ بس بیٹا! وہی میری بربادی کا پہلا دن تھا۔ میں اپنی پہلی تنخواہ اس کے ناز نخروں پر لٹانے لگا۔ اس کی فرمائشیں بڑھتی گئیں۔ عجیب بات یہ تھی کہ اب اس کا شوہر کبھی گھر پر نہیں ہوتا تھا۔ بچوں کی فیسیں، حویلی کا کرایہ، سب میں دینے لگا۔ دو سال تک میں اس مکر کے جال میں لٹتا رہا، یہاں تک کہ میری نوکری چلی گئی۔ میں مقروض ہو گیا، مالک مکان نے کمرہ خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔

وہ بہار کا ایک آخری دن تھا۔ باہر ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ میں اسی جنون میں غسل خانے کا رستہ پار کر کے اس کے کمرے میں گیا جہاں وہ نیم برہنہ بیٹھی تھی۔ میں نے اسے بستر پر کھینچ لیا۔ کمرے کے اندھیرے میں ہم ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ پھر اچانک۔۔۔ اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی: 'بچااؤ!'

وہ چیخ نہیں تھی، ایک پورا جال تھا جو مجھ پر پھینک دیا گیا تھا۔ ایک ہی لمحے میں کمرے کا دروازہ ٹوٹا اور حویلی کے درجنوں لوگ اندر آ گئے۔ وہ عورت اپنے شوہر کے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور بین کر رہی تھی: 'میں لٹی گئی! یہ غسل خانے کے راستے اندر گھسا اور میری عزت تار تار کر دی!' اس کا شوہر اور حویلی کا کارندہ 'کالو' لوگوں کو اشتعال دلا رہے تھے۔

مجھ پر زنا بالبرابر کا الزام تھا، مگر وہاں کوئی سننے والا نہ تھا ۔ مجھے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ حوالات کی وہ رات قیامت تھی۔ اگلے دن، وہی عورت کالو کے ساتھ مجھ سے ملنے حوالات آئی۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ جھیل کا سکون نہیں، ایک گدھ کی چمک تھی۔ اس نے میرے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارا اور غرا کر بولی: 'اگر جیل سے بچنا چاہتے ہو تو کالو سے سودے بازی کر لو، ورنہ میں ایسی گواہی دوں گی کہ عمر قید ہو جائے گی۔ مجھے کنگلے لوگ پسند نہیں۔'

میں سمجھ گیا کہ یہ ان کا پرانا دھندہ تھا۔ وہ امیر لکڑ بازوں کو یوں ہی پھنساتے تھے۔ سزا سے بچنے کے لیے میرے باپ کو اپنی آدھی زمین بیچنی پڑی۔ کالو نے تین لاکھ روپے لیے، اور تھانیدار نے۔۔۔"

حارث نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ کمرے میں ایک گہرا، ہولناک سناٹا چھا گیا تھا۔

اس نے بیٹے کی طرف دیکھا۔ لڑکے کا سر جھکا ہوا تھا، اور اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا زیورات کا لفافہ دھیرے سے قالین پر گر گیا۔ ڈور کا دوسرا سرا اب بیٹے کے ہاتھ میں تھا، اور وہ کانپ رہا تھا۔

-----------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

• نیم وا: آدھا کھلا ہوا۔

• خلفشار: ذہنی اضطراب، افرا تفری۔

• تجسس: کھوج لگانے کی چاہ۔

• بینی بینی: دھیمی دھیمی، ہلکی خوشبو۔

• مہیب: ڈراؤنا، خوفناک۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: