عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

باسی ٹکڑے Basi Tukray

گناہ گار صرف وہ نہیں جو رات کے اندھیرے میں چوری چھپے چھت پر اترتا ہے، بلکہ وہ بھی ہے جس کے صحن میں کتے کا کھانا، کسی انسان کی زندگی کا اثاثہ بن جائے۔

مرکزی خیال:

یہ کہانی معاشرتی بے حسی، خود ساختہ اخلاقی بھرم اور ضمیر کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی ہمدردی اور انسانیت، مذہب یا سماج کے دکھاوے کے اصولوں سے نہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود انسانوں کے پوشیدہ دکھوں کو محسوس کرنے اور بغیر ان کی عزتِ نفس مجروح کیے ان کا حق ان تک پہنچانے سے عبارت ہے۔



جنوری کی دھند اتنی گھنی تھی کہ صحن میں بندھے کتے کی ہانپتی ہوئی سانسیں بھی مرئی دھند میں تبدیل ہو رہی تھیں۔ ملک اللہ یار اپنی بھاری عینک کے پیچھے سے کتاب کے حرفوں کو ٹٹول رہا تھا، لیکن اس کا ذہن صحن کے پچھلے حصے میں اگی ہوئی خاموشی کو ناپنے میں لگا تھا۔ گھڑیال نے رات کے دو بجنے کا اعلان کیا۔ ٹھیک اسی پل، چھت پر ایک ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی۔ مٹیالے گارے کی چھت پر کسی کے پیروں کی رگڑ کا وہ مبہم لمس تھا جسے صرف ایک تنہا کان ہی پکڑ سکتا تھا۔

اللہ یار نے کتاب بند کر دی۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ پچاس برس اسی بستی کے اس دو کمروں کے مکان میں گزر گئے تھے، جہاں اگلا کمرہ زرگری کی دکان تھا اور پچھلا اس کی خلوت گاہ۔ بستی کے جھگڑے چکانے والا معزز زرگر آج خود اپنے ہی گھر میں محصور محسوس کر رہا تھا۔ اس نے میز کی دراز سے پستول نکالی۔ لوہے کا لمس اس کے بوڑھے ہاتھوں میں کانپا۔ دھند باہر اتنی شدید تھی کہ اگر وہ اوپر جاتا تو اندھیرا اور اس کا بڑھاپا دونوں دغا دے سکتے تھے۔ وہ دبے پاؤں سیڑھیوں کی اوڑھ میں، اس اندھیرے کھڈے کے پاس چھپ کر بیٹھ گیا جہاں کتے کے لیے باسی روٹی کے ٹکڑے جمع کیے جاتے تھے۔ پندرہ منٹ گزر گئے۔ کوئی نیچے نہ اترا۔ چھت پر دوبارہ ویسی کوئی آہٹ نہ ہوئی۔

"میرا وہم تھا، یا شاید کوئی بلی ہوگی،" اس نے خود کلامی کی، ٹارچ جلائی اور سیڑھیاں چڑھ گیا۔ ٹارچ کی پیلی روشنی دھند کے دیواروں سے ٹکرا کر واپس پلٹ آئی۔ پڑوسیوں کی چھتیں سنسان تھیں۔ وہ اپنی بوڑھی ہڈیوں کو سمیٹتا ہوا نیچے آیا اور سو گیا۔

دوسری رات بھی یہی ہوا۔ کتاب کا صفحہ پلٹتے ہی اوپر وہی آہٹ ابھری۔ اس بار اللہ یار نے کرسی سے اٹھنے کی زحمت بھی نہ کی۔ اس نے سوچا، چور نیچے جلتا ہوا بلب دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ "کل اس کا بندوبست کروں گا،" اس نے پستول تکیے کے نیچے رکھی اور آنکھیں موند لیں۔

تیسری رات اس نے اسٹریٹیجی بدل دی۔ کمرے کا بلب بجھا کر وہ بستر میں لیٹ گیا۔ گھپ اندھیرے میں اس کا دل دھونئکنی کی طرح چل رہا تھا۔ کیا کوئی اسے مارنے آ رہا ہے؟ نہیں، اس کی تو کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ پھر وہ اوپر کون ہے جو روز آتا ہے اور بغیر کچھ لیے چلا جاتا ہے؟ تجسس اور خوف کا پنڈولم اسے جھٹکے دے رہا تھا۔ وہ اٹھا، پستول ہاتھ میں لی اور ننگے پیر سیڑھیاں چڑھ گیا۔

ہوا اس کے چہرے پر برف کے گالوں کی طرح لگی۔ وہ خاموشی سے چھت کے منڈیر کے پاس اکر کھڑا ہو گیا۔ دھند کی چادر اتنی دبیز تھی کہ نیچے گلی غائب تھی، لیکن آوازیں تیرتی ہوئی اوپر آ رہی تھیں۔ بالکل ساتھ والے اژدہام زدہ کچے مکان سے، جو اس کے مرحوم دوست حق نواز کا تھا، ایک نسوانی آواز ابھری:

"بچوں اٹھو، کھانا تیار ہے۔ کھا کر سو جانا۔" اور پھر ایک دھیمی سرزنش، "بیٹی، آج تم روٹی کے ٹکڑے بہت کم لے کر آئی ہو؟"

رات کے مہیب سناٹے میں ایک معصوم، لرزتی ہوئی آواز آئی: "امی، وہ آج ملک صاحب کے گھر کی لائٹ بند تھی۔ دھند بھی بہت تھی۔ اندھیرے میں جتنا ہاتھ لگا، اس کھڈے سے اٹھا لائی۔"

اللہ یار کے ہاتھ سے ٹارچ گرتے گرتے بچی۔ اس کے پیروں کے نیچے سے جیسے مٹی کے گارے کی چھت سرک گئی۔ اس کے ماتھے پر یخ بستہ رات میں ابال لیتے ہوئے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ وہ چور، جو اس کی چھت پر آتا تھا، کوئی نقب زن نہیں تھا، بلکہ اس کے بچپن کے یار حق نواز کی یتیم بیٹی تھی، جو چوری چھپے اس کے کتے کے برتن سے باسی روٹی کے ٹکڑے چننے آتی تھی۔ حق نواز کو مرے دو سال ہو چکے تھے، اور اللہ یار نے کبھی مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا کہ اس کے یار کے بچے کس حال میں ہیں۔ وہ بستی کا منصف تھا، معزز تھا، لیکن اس کے اپنے کتے کا کھانا، ایک انسان کے گھر کا رزق بن چکا تھا۔ وہ کسی مجرم کی طرح پیر گھسیٹتا ہوا نیچے اترا۔ وہ رات اس کے لیے روزِ محشر تھی۔

اگلی صبح، دھند ابھی چھٹی نہیں تھی جب اللہ یار نے حق نواز کے خستہ حال دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھلا تو حق نواز کا بارہ سالہ بیٹا، دین محمد سامنے کھڑا تھا۔

"السلام علیکم، انکل!" لڑکے کی آنکھوں میں بھوک کی زردی تھی۔

"وعلیکم السلام، بیٹا... تمہاری والدہ کہاں ہیں؟ تمہارے والد کی ایک امانت ہے میرے پاس۔"

دروازہ ذرا سا کھلا۔ پردے کی اوڑھ سے حق نواز کی بیوہ کی دھیمی آواز آئی: "سلام بھائی صاحب! آج کیسے راستہ بھول گئے؟"

"بہن، میں حق نواز کی امانت لوٹانے آیا ہوں،" اللہ یار نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور ایک پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ "بچے اسکول نہیں جاتے؟"

"دین محمد نے ساتویں میں اسکول چھوڑ دیا، بھائی،" بیوہ نے چادر کا پلو درست کرتے ہوئے کہا۔ "اب یہ سردیوں میں دال سیویاں اور گرمیوں میں کلفیاں بیچتا ہے۔ بڑی بیٹی اٹھارہ سال کی ہو گئی، گھر پر ہوتی ہے۔ بس وقت کٹ رہا ہے۔"

اللہ یار نے جیب سے ایک بھاری پیکٹ نکالا۔ "بہن، یہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے ہیں۔ آج سے تین سال پہلے میں نے اور حق نواز نے ایک کمیٹی ڈالی تھی، وہ رقم ڈوب گئی تھی۔ اب وہ بندہ پکڑا گیا ہے، تو یہ حق نواز کا حصہ میں لے آیا ہوں۔"

بیوہ چند لمحے ساکت رہی، پھر بولی: "بھائی صاحب، حق نواز تو انتہائی مفلسی میں گیا، اس پر لوگوں کا قرض تھا، اس نے مجھے کبھی اس رقم کا نہیں بتایا۔"

"وہ تمیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا بہن،" اللہ یار نے جھکی نظروں سے جھوٹ بُنا۔ "یہ رقم اسی کی ہے۔ تم چاہو تو میں تھانے سے ثبوت لا دوں۔"

"نہیں بھائی، مجھے آپ کی نیت پر پورا بھروسہ ہے۔ اس دور میں جہاں لوگ جیتا جاگتا حق مار لیتے ہیں، آپ ڈوبی ہوئی رقم لا رہے ہیں۔ اللہ آپ کو اجر دے۔" بیوہ نے روتے ہوئے پلو سے آنکھیں پونچھیں۔

"ایک اور بات بہن،" اللہ یار نے بات کا رخ بدلا۔ "بس اڈے کے پاس کارپوریشن کی زمین پر کھوکھے لگ رہے ہیں۔ میری وہاں کچھ واقفیت ہے۔ میں دین محمد کو وہاں ایک کھوکھا لگوا کر دوں گا، اور پہلی بار کا سارا مال میری طرف سے ہوگا... ایک چچا کی طرف سے۔ یہ بچہ اب گلیوں میں نہیں رولے گا۔"

بیوہ کی سسکی اندھیرے کمرے میں گونجی، "جیسی آپ کی خوشی، بھائی۔"

اللہ یار جب اس گھر سے باہر نکلا تو دھند کے پیچھے سے سورج کی پہلی مدہم کرن نکل رہی تھی۔ کارپوریشن میں اس کی کوئی واقفیت نہیں تھی، نہ ہی کوئی کمیٹی واپس ملی تھی۔ اس نے اپنی دکان کے سونے میں سے یہ رقم نکالی تھی اور کھوکھا بھی وہ خود خریدنے والا تھا؛ لیکن اپنے اس سفید جھوٹ کے بدلے اس کے اندر کی روح، جو تین دن سے سسک رہی تھی، اب گہرا سانس لے رہی تھی۔

--------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

مرئی: (Visible) جو دکھائی دے۔

خلوت گاہ: (Solitude/Private room) تنہائی کی جگہ، نجی کمرہ۔

دبیز: (Thick) گھنی، موٹی۔

نقب زن: (Burglar/Thief) چور، دیوار میں سوراخ کر کے چوری کرنے والا۔

اژدہام زدہ: (Congested/Crowded) تنگ، بہت زیادہ آبادی یا کچرے سے بھرا ہوا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: