![]() |
| انسان اپنے ماضی سے جتنا بھی دور بھاگ جائے، بعض فیصلے اس کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:
انسان اپنے ماضی سے جتنا بھی دور بھاگ جائے، بعض فیصلے اس کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ وقتی مصلحت، بزدلی یا فرار وقتی نجات تو دے سکتے ہیں، مگر ان کی قیمت برسوں بعد روح ادا کرتی ہے۔ یہ افسانہ گناہ، پچھتاوے، کھوئے ہوئے رشتوں اور وقت کی بے رحم عدالت کی کہانی ہے۔
(1)
بیس برس بعد جب فاروق نے لاہور کی
مٹی پر قدم رکھا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی پرانا زخم اپنی جگہ سے ہل گیا ہو۔
شہر اب پہلے والا شہر نہیں رہا تھا۔ سڑکیں چوڑی ہو چکی تھیں، عمارتیں اونچی ہو گئی
تھیں اور چہروں پر اجنبیت کی ایک نئی تہذیب اتر آئی تھی۔ مگر ریلوے اسٹیشن کے
سامنے والا پارک اب بھی کہیں نہ کہیں اس کی یادداشت میں محفوظ تصویر جیسا موجود
تھا۔وہ سیدھا وہیں آ گیا۔
یہی پارک تھا جہاں اس نے لاہور میں
اپنی پہلی رات گزاری تھی۔ یہی پارک اس کا ٹھکانہ بنا تھا جب شہر کے در و دیوار اس
پر تنگ ہونے لگے تھے۔ وقت نے بہت کچھ دھندلا دیا تھا، مگر اس پارک کی گھاس، درختوں
کے سائے اور شام کی اداس ہوا اس کے اندر کہیں زندہ رہے تھے۔ وہ گھاس پر بیٹھ گیا۔
سفر کی گرد ابھی تک اس کے چہرے پر تھی۔ اس نے پانی کی بوتل کھولی اور اردگرد
پھیلتے شہر کو ایسے دیکھنے لگا جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔
اسی لمحے ایک نوجوان اس کے سامنے آ
کر رک گیا۔سفید استری شدہ شلوار قمیص، پشاوری چپل، آنکھوں میں مصنوعی بے بسی۔
"السلام
علیکم۔"
"وعلیکم
السلام۔"
نوجوان بیٹھ گیا۔ پھر وہی پرانی
کہانی۔جیب کٹ گئی تھی۔ بہاولپور واپس جانا تھا۔ صبح سے بھوکا تھا۔ شرمندگی مارے مر
رہا تھا۔ شناختی کارڈ اور اسناد بطور ضمانت دینے کو تیار تھا۔ فاروق خاموشی سے
سنتا رہا۔ شاید دیارِ غیر میں رہتے رہتے اس کا دل نرم ہو گیا تھا، یا شاید وطن کی
مٹی نے اس کے اندر دبی ہوئی انسانیت کو جگا دیا تھا۔اس نے بٹوا نکالا۔ اور اگلے ہی
لمحے نوجوان عقاب کی طرح جھپٹا۔بٹوا اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ دوڑ گیا۔فاروق بھی اس
کے پیچھے لپکا، مگر چند قدم بعد اس کے ٹخنے میں ایسی موچ آئی کہ وہ سڑک کنارے بیٹھ
گیا۔
لوگ گزر رہے تھے۔گاڑیاں گزر رہی
تھیں۔ اور وہ اپنی بے بسی کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔ بیس سال پہلے بھی وہ اسی شہر سے
اسی طرح ہارا تھا۔ اور آج بھی۔
(2)
وہ لنگڑاتا ہوا سڑک کنارے کھڑا ٹیکسی
ڈھونڈ رہا تھا کہ اس کی نظر مسجد کے پاس گنے کے رس والی مشین پر جا کر ٹھہر گئی۔پہلے
اسے یقین نہ آیا۔پھر خون جیسے اس کے سر میں چڑھ گیا۔مشین کے پیچھے کھڑا دبلا،
سانولا آدمی پوری توجہ سے گنے پیس رہا تھا۔
حسیب۔وہی حسیب۔کبھی کالج یونین کا بے
تاج بادشاہ۔کبھی اس کا دوست۔پھر اس کا دشمن۔
فاروق نے دور سے اسے دیکھا۔وقت نے
دونوں سے اپنا حساب وصول کیا تھا۔
ایک امریکہ جا کر لوٹا تھا۔دوسرا گنے
پیس رہا تھا۔ مگر نفرت عجیب چیز ہے۔ وہ عمر نہیں دیکھتی۔ایک لمحے کو فاروق کے دل
میں آیا کہ جا کر اس کا گریبان پکڑ لے۔پوچھے کہ کیا ملا تھا؟مگر اگلے ہی لمحے وہ
دوسری طرف دیکھنے لگا۔
بعض قبریں کھودنے سے صرف بدبو نکلتی
ہے۔
(3)
ٹیکسی ماڈل ٹاؤن کی طرف بڑھ رہی تھی۔شہر
کھڑکی کے باہر بہتا جا رہا تھا۔لیکن فاروق کے اندر ایک دوسرا شہر آباد تھا۔وہ شہر
جس میں شہلا تھی۔
خالہ تھی۔
محبت تھی۔
اور ایک ایسا گناہ تھا جسے اس نے
کبھی پوری طرح یاد بھی نہیں کیا تھا۔
کیونکہ کچھ یادیں آدمی یاد نہیں
کرتا، صرف ان سے بھاگتا رہتا ہے۔
(4)
واجد کے گھر پہنچ کر اسے پہلی بار
احساس ہوا کہ اس کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں بچا۔دروازے کی گھنٹی دبانے سے پہلے اس
کا ہاتھ دو بار رکا۔ دل میں عجیب سی شرمندگی تھی۔ مگر دروازہ کھلا تو استقبال میں
محبت کھڑی تھی۔اور محبت ہمیشہ انسان کو اس کی غربت سے بچا لیتی ہے۔ اس رات دیر تک
باتیں ہوتی رہیں۔بیس برس کے فاصلے گھلتے رہے۔ پرانی یادیں جاگتی رہیں۔اور رات
خاموشی سے گزرتی رہی۔
(5)
اگلی صبح وہ اکیلا محلے میں نکل آیا۔گلی
کے موڑ پر ایک قیمتی گاڑی بنگلے سے نکلی۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی عورت کو دیکھ
کر اس کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔
بلو۔
وہی بلو۔
محلے بھر کی بدنام عورت۔
مگر اب اس کے لباس، انداز اور وقار
میں دولت کی چمک تھی۔اور بلو کو دیکھتے ہی ایک بند دروازہ اندر کہیں کھل گیا۔
(6)
بیس سال پہلے...فجر سے پہلے مسجد کے باہر ایک نوزائیدہ بچی ملی تھی۔خون میں لتھڑی
ہوئی۔دو آوارہ کتے اس کے گرد منڈلا رہے تھے۔مولوی صاحب اسے اٹھا لائے تھے۔
محلہ جمع ہو گیا تھا۔عزت، غیرت،
گناہ، شرافت... ہر
شخص اپنی رائے دے رہا تھا۔آخر فیصلہ ہوا کہ بچی ایک بیوہ عورت کے حوالے کر دی
جائے۔
اس عورت کا نام بلو تھا۔جس کے گھر
میں اولاد نہیں تھی۔ اور تنہائی بہت تھی۔ لوگ منتشر ہو گئے تھے۔ مگر مجمعے میں ایک
شخص خاموش کھڑا رہا تھا۔وہ فاروق تھا۔بچی کا حقیقی باپ۔
(7)
اس روز اسے لگا تھا کہ یہ وقتی جدائی
ہے۔حالات سنبھل جائیں گے۔وہ شہلا سے شادی کرے گا۔بیٹی کو واپس لے آئے گا۔سب کچھ
ٹھیک ہو جائے گا۔مگر زندگی وعدوں پر نہیں چلتی۔زندگی کمزور لوگوں کو معاف نہیں
کرتی۔وہ امریکہ چلا گیا۔پھر کاروبار، دولت، مصروفیات...اور وقت نے اس کے جرم پر گرد کی تہیں چڑھا دیں۔یہاں تک کہ وہ خود بھی
بھول گیا کہ کہیں ایک بچی اس کی منتظر ہو سکتی ہے۔مگر آج بلو کو دیکھ کر سب کچھ
زندہ ہو گیا تھا۔گھر واپس آتے ہوئے اس کے قدم لرز رہے تھے۔ جیسے کوئی اندھیرا اس
کے پیچھے چل رہا ہو۔
رات کو اس نے بڑی احتیاط سے باتوں کا
رخ بلو کی طرف موڑ دیا۔واجد پہلے ہچکچایا۔
پھر بولنے لگا۔اس نے بلو اور اس کی
بیٹی روبی کی کہانی سنائی۔
روبی۔ایک مشہور ماڈل۔طاقتور لوگوں کی
محفلوں کا حصہ۔اسکینڈلوں کا نام۔ اخباروں کی سرخی۔اور لوگوں کی زبانوں پر چلتی
ہوئی ایک متنازعہ داستان۔واجد کے لہجے میں نفرت تھی۔فاروق کے دل میں خوف۔ہر لفظ اس
کے سینے پر پڑتا تھا۔جیسے کوئی پتھر پانی میں گرتا ہے اور تہہ تک اتر جاتا ہے۔کیا
یہ روبی... اس
کی بیٹی تھی؟
وہی بچی؟وہی جسے اس نے مسجد کی
سیڑھیوں پر چھوڑ دیا تھا؟
(8)
اس رات وہ سو نہ سکا۔
بار بار ایک ہی سوال اس کے اندر
گونجتا رہا۔کیا اسے روبی سے ملنا چاہیے؟کیا وہ اپنا تعارف کروا سکتا ہے؟کیا ایک
باپ بیس سال بعد باپ بن سکتا ہے؟یا وقت اس رشتے کو دفن کر چکا تھا؟
صبح اخبار آیا۔پہلے صفحے پر بڑی سرخی
تھی۔
"معروف
ماڈل روبی اور اس کی والدہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل"
فاروق بہت دیر تک اخبار کو دیکھتا
رہا۔لفظ دھندلے ہونے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے پورا شہر اچانک خالی ہو گیا ہو۔جیسے
کسی نے اس کے اندر کی آخری روشنی بھی بجھا دی ہو۔ اس نے بیٹی کو پہلی بار کھویا
تھا جب اسے مسجد کی سیڑھیوں پر چھوڑ آیا تھا۔ آج دوسری بار کھویا تھا۔ اور اس بار
ہمیشہ کے لیے۔
کھڑکی کے باہر صبح پوری طرح جاگ چکی
تھی۔ شہر اپنی معمول کی رفتار سے چل رہا تھا۔ لوگ کام پر جا رہے تھے۔ گاڑیاں سڑکوں
پر دوڑ رہی تھیں۔ زندگی آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر فاروق جانتا تھا کہ وہ ایک ایسی گلی
میں داخل ہو چکا ہے جس کا دوسرا سرا کہیں نہیں کھلتا۔ بعض راستے وقت بند نہیں
کرتا۔ آدمی خود بند کرتا ہے۔ اور پھر پوری عمر ان کے سامنے کھڑا رہ جاتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــ
مشکل الفاظ کے معنی:
مصلحت: وقتی فائدے کی خاطر کیا گیا
فیصلہ
تحویل: سپردگی، حوالگی
چہ میگوئیاں: سرگوشیاں، باتیں
رفوچکر: فوراً فرار ہو جانا
اوسان خطا ہونا: حواس گم ہو جانا
متزلزل: ہل جانا، غیر مستحکم ہونا
بلامقابلہ: بغیر مقابلے کے
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
.png)
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: