![]() |
کبھی کبھی انسان آسمان سے نازل ہونے
والے عذاب سے نہیں، زمین پر چلتے ہوئے منافقوں سے زخمی ہوتا ہے۔
مرکزی خیال: |
علی پور بیس پچیس گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ گاؤں کے کچے گھر موسموں کے رحم و کرم پر کھڑے تھے اور اُن کے درمیان سے گزرتی تنگ گلیاں بارش میں کیچڑ اور گرمی میں گرد کا لباس پہن لیتی تھیں۔ یہاں کوئی مسجد نہ تھی۔ اذان کی آواز کبھی کبھار دور قصبے کی جامع مسجد سے ہوا کے دوش پر آتی اور گاؤں کے کھیتوں میں بکھر جاتی۔
لوگ اَن پڑھ تھے، مگر بے دین نہیں۔
ہر گھر میں قرآنِ مجید موجود تھا۔
سبز، سرخ یا سنہری جزدان میں لپٹا ہوا، اونچی طاق پر رکھا رہتا۔ عورتیں روز صفائی
کرتے ہوئے اُس پر جمی گرد آہستگی سے جھاڑتیں، مرد احترام سے اُس کی طرف دیکھتے،
اور بچے اُسے کسی مقدس راز کی طرح جانتے تھے۔
مگر قرآن کھولا کم جاتا تھا۔
وہ زیادہ تر دو مواقع پر نیچے اُتارا
جاتا: جب کسی سے قسم لینی ہوتی یا کسی جھگڑے کا فیصلہ کرنا ہوتا۔
دین اُن کے دل میں تھا، علم اُن تک
پہنچا نہیں تھا۔
ماہ میں ایک بار قصبے کی جامع مسجد
کے امام صاحب علی پور آتے۔ چودھری فضلو کے کشادہ صحن میں چارپائیاں بچھ جاتیں، لوگ
جمع ہوتے، اور مولوی صاحب دین کی باتیں سناتے۔ پھر مسجد کے لیے چندہ لیا جاتا،
دعائیں ہوتیں اور محفل برخاست ہو جاتی۔
چودھری فضلو اُن کا سب سے بڑا قدر
دان تھا۔
وہ کوئی بڑا زمیندار نہ تھا، مگر دل
کا فراخ تھا۔ مولوی صاحب بھی اِس کمزوری کو خوب جانتے تھے۔ چنانچہ جب بھی سخاوت،
صدقہ یا جنت کے درجات کا ذکر آتا، اُن کی نگاہ بے اختیار چودھری کی طرف اٹھ جاتی۔
رمضان کا پہلا دن تھا۔
چودھری نے ختمِ قرآن کی محفل سجائی
تھی۔
صحن میں سفید چادریں بچھی تھیں۔
دیگوں سے اُٹھتی خوشبو، تلاوت کی آواز اور روزہ داروں کے چہروں پر طاری سنجیدگی
ماحول کو پُراثر بنا رہی تھی۔
ختم کے بعد مولوی صاحب کھڑے ہوئے۔
اِس بار اُن کا لہجہ پہلے سے مختلف
تھا۔
وہ جنت کے بجائے جہنم کا ذکر کر رہے
تھے۔
عذابِ قبر...
پل صراط...
دوزخ کی آگ...
اور اللہ کا غضب...
الفاظ ایک ایک کر کے حاضرین کے دلوں
میں اُترتے جا رہے تھے۔
کئی آنکھیں نم ہو گئیں۔
کئی سروں نے ندامت سے جھکنا سیکھ
لیا۔
اُسی سال بارشیں کم ہوئی تھیں۔ جون
کی تپش کھیتوں کو جلا رہی تھی۔ زمین پھٹنے لگی تھی۔ مولوی صاحب نے ہاتھ اٹھا کر
کہا:
"یہ ہماری
بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ جب بندے اللہ کو بھول جاتے ہیں تو آسمان اپنی رحمت روک
لیتا ہے۔"
لوگوں نے خوف زدہ نگاہوں سے آسمان کی
طرف دیکھا۔
گویا بادل نہیں، فیصلے اُترنے والے
ہوں۔
(2)
اُسی رات موسم اچانک بدل گیا۔
گرم ہوا تھم گئی۔
افق پر کالے بادل اُبھر آئے۔
پہلے لوگوں نے خوشی سے ایک دوسرے کو
خبر دی۔
"بارش آئے
گی۔"
مگر کچھ ہی دیر بعد ہوا کا ایک بگولہ
نمودار ہوا۔
پھر دوسرا۔
پھر ایک ایسا طوفان جس نے دیکھتے ہی
دیکھتے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
کھپریل کی چھتیں اُڑ گئیں۔
درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے۔
کچے گھر مٹی کے ڈھیروں میں بدل گئے۔
عورتوں کی چیخیں، بچوں کے رونے اور
جانوروں کی بے چین آوازیں رات بھر ہوا میں تیرتی رہیں۔
صبح جب سورج نکلا تو علی پور پہچانا
نہیں جاتا تھا۔
صرف چودھری فضلو کا پکا مکان سلامت
کھڑا تھا۔
باقی گاؤں زخموں کی صورت بکھرا پڑا
تھا۔
لوگ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے یہی
کہتے رہے:
"یہ اللہ
کا عذاب تھا۔"
"ہم گناہ
گار تھے۔"
"ہمیں
توبہ کرنی چاہیے۔"
سب سے زیادہ خاموش چودھری فضلو تھا۔
اُسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ تباہی
اُس کی وجہ سے آئی ہو۔
جمعے کے دن وہ فجر سے پہلے اُٹھا،
نہایا، صاف کپڑے پہنے اور قصبے کی جامع مسجد کی طرف روانہ ہو گیا۔
(3)
جامع مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔
مولوی صاحب منبر پر کھڑے تھے۔
آج اُن کی تقریر کا موضوع بھی
"عذابِ الٰہی" تھا۔
اُن کی آواز بلند تھی۔
"گھروں
میں بے حیائی داخل ہو چکی ہے۔"
"ٹیلی
ویژن نے ہماری نسلیں تباہ کر دی ہیں۔"
"گانے،
ڈرامے اور فحاشی نے اللہ کو ناراض کر دیا ہے۔"
"یہ طوفان
تنبیہ ہے۔"
ہر جملہ ہتھوڑے کی طرح گر رہا تھا۔
چودھری فضلو کے دل پر بھی۔
نماز کے بعد وہ خاموشی سے گھر لوٹا۔
گھر میں داخل ہوا تو اُس کے دونوں
بیٹے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔
کمرے میں قہقہے گونج رہے تھے۔
اُس کے کانوں میں ابھی تک مولوی صاحب
کی آواز گونج رہی تھی:
"یہی فتنہ
ہے..."
اُس نے غصے میں قریب پڑی اینٹ
اُٹھائی اور پوری قوت سے ٹیلی ویژن پر دے ماری۔
شیشہ چٹخ گیا۔
اسکرین بجھ گئی۔
بچے خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔
"آئندہ یہ
فضول چیز گھر میں نہیں چلے گی!"
وہ چیخا۔
بیوی کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اُس کی
آنکھوں میں ایسا غصہ تھا کہ الفاظ ہونٹوں تک آ کر رک گئے۔
اُس رات گھر پر خاموشی طاری رہی۔
(4)
اگلے دن چودھری شوگر مل سے اپنی گنے
کی فصل کی رقم لینے گیا۔
سارا دن بحث، انتظار اور وعدوں میں
گزر گیا۔
رقم نہ ملی۔
مایوسی اور تھکن اُس کے ساتھ واپس لوٹ
رہی تھی۔
دوپہر ڈھل رہی تھی کہ اُس کی نظر
سامنے چلتے ہوئے ایک شخص پر پڑی۔
سفید عمامہ۔
لمبی داڑھی۔
کندھے پر بڑا سا ڈبہ۔
مولوی صاحب تھے۔
چودھری نے ادب سے سلام کیا۔
"مولوی
صاحب، اگر اجازت ہو تو ڈبہ میں اُٹھا لیتا ہوں۔"
مولوی صاحب ہنس دیے۔
"نہیں
چودھری، کوئی بھاری چیز نہیں۔"
"پھر بھی
دے دیجیے۔"
"ارے
بھائی، یہ تو ٹیلی ویژن ہے۔"
چودھری کے قدم وہیں رک گئے۔
"ٹیلی
ویژن؟"
"ہاں۔"
"آپ کے
گھر کے لیے؟"
"اور نہیں
تو کیا؟"
مولوی صاحب مسکرائے۔
"بچے مدت
سے ضد کر رہے تھے۔ کمیٹی نکلی تو سوچا اُن کی خوشی پوری کر دوں۔"
چودھری خاموش رہا۔
چند لمحے پہلے تک اُس کے دل میں
احترام تھا۔
اب حیرت تھی۔
پھر اُس نے آہستہ سے پوچھا:
"لیکن
جمعے کے خطبے میں تو آپ فرما رہے تھے کہ ٹیلی ویژن فتنہ ہے... عذاب کا سبب ہے۔"
مولوی صاحب نے بغیر توقف جواب دیا:
"فتنہ
ٹیلی ویژن نہیں، اُس کا غلط استعمال ہے۔ پی ٹی وی پر تو مذہبی اور تعلیمی پروگرام
بھی آتے ہیں۔"
چودھری اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلی بار غور سے۔
بہت غور سے۔
اُسے محسوس ہوا جیسے عمامہ وہی ہے،
داڑھی وہی ہے، الفاظ بھی وہی ہیں...
صرف معنی بدل گئے ہیں۔
مولوی صاحب آگے بڑھ گئے۔
ٹیلی ویژن اُن کے کندھے پر تھا۔
اور اُن کے قدم پہلے کی طرح
پُراعتماد۔
چودھری کافی دیر سڑک کے کنارے کھڑا
رہا۔
اُسے اچانک اپنے بچوں کے خوف زدہ
چہرے یاد آئے۔
ٹوٹا ہوا ٹیلی ویژن یاد آیا۔
بیوی کی خاموش نگاہیں یاد آئیں۔
اور پھر وہ طوفان...
جس نے گاؤں کے کچے گھر تو گرائے تھے،
مگر آج اُسے محسوس ہوا کہ اُس کے اندر ایک اور چیز بھی گر گئی ہے۔
اندھا یقین۔
وہ دھیرے دھیرے گھر کی طرف چل پڑا۔
دور کہیں بچے کھیل رہے تھے۔
آسمان صاف تھا۔
اور ہوا بالکل معمول کے مطابق چل رہی
تھی۔
ــــــــــــــــ
مشکل الفاظ کے معنی:
جزدان: قرآنِ مجید رکھنے کا غلاف
ندامت: شرمندگی
افق: آسمان اور زمین کے ملنے کا
کنارا
تقلید: بغیر سوچے سمجھے پیروی کرنا
خطیبانہ: مؤثر اندازِ تقریر
تضاد: قول و فعل میں فرق
تنبیہ: خبردار کرنا، آگاہی دینا
پُراعتماد: اعتماد سے بھرپور
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: