![]() |
"گناہ جب بوڑھا ہو جائے تو اس کی قیمت آخری پھیرے کے مسافر کو چکانی پڑتی ہے۔"
مرکزی خیال:
یہ افسانہ انسانی بے بسی، اخلاقی پستی اور مکافاتِ عمل کا ایک ہولناک بیانیہ ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ جب انسان اپنے ذاتی دکھ کے علاج کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگاتا ہے، تو کائنات کا مخفی نظام کس طرح اس کے گناہ کو ہی اس کی سب سے بڑی سزا بنا دیتا ہے۔
ہوا میں گلی سڑی مٹی اور گھوڑے کے پسینے کی بسیں ملی ہوئی تھیں۔
غلام حسین نے چمڑے کے چابک سے اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ہلکی سی ضرب لگائی۔ چمڑا نم تھا اور اس کی آواز سڑک کی خاموشی میں دور تک گئی۔ دو دن کی مسلسل جھڑی نے کچی پگڈنڈیوں کو لیس دار گارے میں بدل دیا تھا، اور اب جب وہ تانگہ بڑی سڑک پر لایا تھا، تو شام کی سیاہی میں اسفالٹ کی سڑک کسی مری ہوئی مچھلی کی پشت کی طرح چمک رہی تھی۔ دور، بہت دور تک کوئی سایہ نہ تھا۔
گھوڑی نے اپنے کھروں کو سڑک پر جمایا، ایک لمبا سانس لیا، اور اس کے نتھنوں سے گرم بھاپ کا ایک بادل نکل کر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔
شہر کا رخ کرنا اس کی مجبوری بھی تھا اور حساب کتاب بھی۔ بارش کا پانی جب رکشوں اور ویگنوں کے انجنوں میں گھستا ہے، تو تانگے کے چوبی پہیے چمک اٹھتے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ بس اڈے کے باہر سواریاں گھٹنوں گھٹنوں پانی میں کھڑی، دگنا کرایہ دینے پر راضی ہوں گی۔ دگنا کرایہ— یعنی ببلو کی دوا۔
سڑک کے کنارے، ایک گہرے گڑھے میں جمع برسات کے گندے پانی میں تین ننگ دھڑنگ بچے لکڑی کی ایک ٹوٹی ہوئی کشتی تیرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے قہقہے اور چھپاکے ہوا میں گونجے۔ غلام حسین کی انگلیوں نے چابک پر گرفت مضبوط کر لی۔ ببلو بھی کبھی ایسے ہی اچھلا کرتا تھا، مٹی میں لت پت، تندرست اور اکھڑ۔ مگر اب؟ پچھلے تین مہینوں سے وہ ہڈیوں کا ایک ڈھیر تھا جو بستر پر پڑا صرف سانس لیتا تھا۔ گاؤں کے حکیم کا تانبے کا تعویذ، پیر صاحب کے دم کیے ہوئے پانی کے مٹیالے برتن، اور استطافت سے زیادہ دیے گئے نذرانے— سب کچھ ببلو کے پیٹ کی اس لکڑی کو نہ جلا سکے جو اسے اندر ہی اندر کھا رہی تھی۔ اب گھر کی وحشت ایسی تھی جیسے دیواروں میں سے بھی قبر کی مٹی جھڑتی ہو۔ صرف ایک دھیمی، سیٹی جیسی آواز رات بھر گونجتی تھی؛ ببلو کے اکھڑتے ہوئے سانس۔
"ہمارے بس کا روگ نہیں، شہر لے جاؤ،" ڈاکٹر نے سرسری انداز میں پرچی پر تین چار نام لکھے تھے، جن کے حرف غلام حسین کو کسی کالی زبان کے زہر جیسے لگے تھے۔ جیب بالکل خالی تھی، جیسے اس کا اپنا نصیب۔
بوندا باندی اب تھم چکی تھی، لیکن سرد ہوا کے جھونکے درختوں کے پتوں سے پانی کی بھاری بوندیں تانگے کے چمڑے کے ٹاپ پر ٹپکا رہے تھے۔
"شاہ جی! ہسپتال چلو گے؟"
ایک کانپتی ہوئی، بوڑھی آواز نے گھوڑی کی لگام کو ایک جھٹکے سے روک دیا۔ غلام حسین نے دیکھا، سڑک کے کنارے ایک جھریاں زدہ عورت کھڑی تھی۔ اس کے سر پر گیلا دوپٹہ تھا اور ہاتھوں میں کپڑے کا ایک پرانا، بھاری تھیلا تھا جسے اس نے اپنی چھاتی سے اس طرح چمٹا رکھا تھا جیسے کوئی ماں اپنے نوزائیدہ بچے کو سردی سے بچاتی ہے۔ اس کی ہانپتی ہوئی سانسوں کی آواز تانگے کی گھنٹی سے زیادہ تیز تھی۔
"ہسپتال دور ہے اماں۔ پانی کھڑا ہے راستے میں،" غلام حسین نے اپنی آواز کو جان بوجھ کر بھاری اور بے نیاز بنایا۔
"گاڑی والے، خدا کے لیے انکار نہ کرنا۔ کوئی رکشہ نہیں رک رہا۔ میں منہ مانگا کرایہ دوں گی، بس ہسپتال پہنچا دو۔"
"تین سو روپے لگیں گے۔ ایک دھیلا کم نہیں ہوگا،" غلام حسین نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے چہرے کی بے بسی کو ماپا۔
"ہاں، ہاں، چلو!" بوڑھی عورت نے بنا کسی بحث کے تانگے کے پچھلے تختے پر قدم رکھا۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ تانگے نے حرکت کی تو بوڑھی نے تھیلے کے اندر ہاتھ ڈال کر ایک چرمی بٹوہ نکالا۔ پٹاخے کی طرح کھلنے والے اس پرانے بٹوے میں سو سو کے نوٹوں کی ایک موٹی گڈی چمک اٹھی۔ اس نے تین نوٹ گن کر غلام حسین کی طرف بڑھائے اور بٹوہ واپس تھیلے میں ٹھونس دیا۔
ان تین نوٹوں کی کڑک نے غلام حسین کے دماغ میں ایک سنسنی دوڑائی۔ اس نے اپنی زندگی میں اتنے نوٹ ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اس کی نظریں بوڑھی کے تھیلے پر جم گئیں۔ ببلو کا چہرہ، حکیم کی فیس، دکان دار کا قرضہ، اور وہ مہنگی پرچی— سب کچھ اس ایک تھیلے کے اندر بند تھا۔ شیطان نے اس کے کان کے پاس اکھڑی ہوئی سانسوں میں سرگوشی کی: 'اگر یہ رات گزر گئی، تو ببلو بھی گزر جائے گا۔ یہ بوڑھی تو ویسے بھی ہسپتال جا رہی ہے، اس کا کوئی نہ کوئی ہوگا۔۔۔ تیرا کون ہے؟'
سڑک اب بالکل سنسان تھی، دونوں طرف سفیدے کے اونچے درخت بھوتوں کی طرح کھڑے تھے۔ زمین پر پانی کا ایک بڑا جوہڑ تھا۔
"اماں!" غلام حسین نے اچانک گھوڑی کو روکا۔ "پہیہ گڑھے میں بیٹھ گیا ہے۔ ذرا نیچے اترو، وزن کم ہوگا تو گھوڑی کھینچ لے گی، ورنہ چوٹ لگ جائے گی۔"
بوڑھی عورت نے ہچکچاتے ہوئے، اپنے تھیلے کو سنبھالا اور گندے پانی میں پاؤں رکھ دیا۔ جیسے ہی اس کے بوڑھے پاؤں زمین پر جمے، غلام حسین کا دایاں ہاتھ فضا میں اٹھا۔ اس نے پوری طاقت سے اپنے ہاتھ کا مکہ بوڑھی کے سر کے پچھلے حصے پر مارا۔
ایک دھیمی سی چیخ سڑک کے سناٹے میں ڈوب گئی۔ بوڑھی عورت کٹی ہوئی پتنگ کی طرح پانی کے جوہڑ میں گری۔ اس کا تھیلا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گارے میں جا گرا۔ غلام حسین نے جھک کر تھیلا اٹھایا، گھوڑی کو چابک مارا، اور تانگہ شہر کی طرف دوڑا دیا۔ اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ پانی میں گرنے والا وجود ہل رہا تھا یا ساکت ہو چکا تھا۔
شہر کے ایک میڈیکل اسٹور سے اس نے پرچی دکھا کر دوا خریدی۔ دکان دار نے بقایا نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھے تو غلام حسین کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
واپسی پر، گاؤں کے کچے راستے پر اندھیرا اس کے تانگے کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھیلا کھولا تاکہ وہ بڑی رقم نکال سکے۔ بٹوے میں صرف آٹھ سو روپے تھے۔ اس کے علاوہ تھیلے میں کچھ اور بھی تھا۔ اس نے لالٹین کی دھیمی روشنی میں دیکھا: خون کی ایک مہر بند بوتل، کچھ ایکسرے کی فلمیں، اور ہسپتال کی پرچیاں۔ اس نے خون کی بوتل کو ہاتھ لگایا، وہ ابھی تک ہلکی سی گرم تھی۔ ایک وحشت نے اس کے حلق کو دبوچ لیا۔ اس نے روپے جیب میں ڈالے اور باقی سامان ایک گہرے نالے میں پھینک کر تانگے کو گھر کی طرف بھگایا۔
گھر کا لکڑی کا پرانا دروازہ ہمیشہ کی طرح ادھ کھلا تھا۔
اندر قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوا کہ ہوا ٹھہر چکی ہے۔ وہ سناٹا جو روز ہوتا تھا، آج ایک بھاری پتھر بن کر اس کے سینے پر آن گرا۔ اس کے بوٹوں سے ٹپکتا ہوا پانی صحن کی مٹی پر سیاہ دھبے بنا رہا تھا۔
اس نے کمرے کا پردہ ہٹایا۔
چراغ کی مدہم لو میں، ببلو بستر پر بالکل سیدھا لیٹا تھا۔ اس کی سیٹی جیسی سانسیں غائب تھیں، اور اس کی آنکھیں چھت کے ایک نقطے پر جمی ہوئی تھیں۔ پاس ہی اس کی ماں دیوار سے ٹیک لگائے، پتھر کا بت بنی بیٹھی تھی، اس کی آنکھوں کے آنسو سوکھ چکے تھے۔
غلام حسین نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ دوا کی شیشی اور وہ آٹھ سو روپے اس کی انگلیوں سے ٹکرائے۔ اس کی نظریں بستر پر پڑے بے جان جسم پر جم گئیں، اور اس کے کانوں میں دور، بہت دور، کسی جوہڑ میں گرنے والے وجود کی آخری دھیمی چیخ گونجنے لگی۔
---------------------
مشکل الفاظ کے معنی:
• اسفالٹ (Asphalt): لک لگی پکی سڑک۔
• استطاعت: مالی حیثیت یا طاقت۔
• بوندا باندی: ہلکی بارش۔
• مکافاتِ عمل: عمل کا بدلہ یا نتیجہ (جیسا کرو گے ویسا بھرو گے)۔
• ساکت: ٹھہرا ہوا، بے حرکت۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: